Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
دانش مندانہ طریقہ p. 176
صحابی رسول عمیر بن حبیب بن خماشہ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا p. 176
وَمَنْ لَا يَرْضَى بِالْقَلِيلِ مِمَّا يَأْتِي بِهِ السَّفِيهُ يَرْضَى بِالْكَثِيرِ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 2258) ۔ یعنی، جو شخص نادان کی طرف سے پیش آنے والے چھوٹے شر پر راضی نہ ہوگا، اس کو نادان کے بڑے شر پر راضی ہونا پڑے گا۔ p. 176original + quote
اس قولِ صحابی میں اجتماعی زندگی کی ایک حکمت کو بتایا گیا ہے۔ اجتماعی زندگی کبھی یکساں نہیں ہوتی۔ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ مختلف قسم کے مسائل پیش آتے ہیں۔ اس بنا پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے کی طرف سے ایسا تجربہ پیش آئے گا جو اس کی مرضی کے خلاف ہوگا، ایسے موقع پر صحیح طریقہ یہ ہے کہ اعراض کیا جائے، نہ کہ ٹکراؤ شروع کردیا جائے۔ p. 177
اگر آپ ایسے موقعے پر ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کریں تو وہ ہمیشہ چین ری ایکشن (chain reaction) کا سبب بنے گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ ہمیشہ خارجی مسائل میں الجھے رہیں گے، اور کبھی اپنے منصوبے کے مطابق موثر عمل شروع نہ کرسکیں گے۔دوسروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اپنے آپ کو خود اپنے کام میں استعمال نہیں کیا، بلکہ اس کو دوسروں کی مخالفت میں ضائع کردیا۔ p. 177
اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ دوسرے الفاظ میں اوائڈنس (avoidance) کا طریقہ۔ اس طرح کے معاملے میں یہی واحد طریقہ قابل عمل ہے، کوئی دوسرا طریقہ اس معاملہ میں ورک (work) کرنے والا نہیں۔ جب آدمی دوسرے کی طرف سے پیش آنے والے ناخوش گوار تجربے پر اعراض کا طریقہ اختیار کرتاہے تو وہ اس کے لیے ایک پرو سیلف (pro-self) طریقہ ہوتا ہے۔ اس طرح وہ خود اپنے وقت اور اپنی انرجی (energy)کو بچاتا ہے، تاکہ اس کو وہ خود اپنے فائدے کے لیے استعمال کرے۔ p. 177