Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
صبر اور اعراض p. 220
مکہ کے زمانۂ قیام میں صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم کو اجازت دیجیے کہ ہم اسلام کے دشمنوں کے خلاف اقدام کریں ۔ آپ نے فرمایا کہ صبر کرو۔ غزوۂ احزاب میں آپ نے خندق کھود کر اپنے اور دشمنوں کے درمیان آڑ قائم کر دی، تاکہ دونوں فریقوں میں جنگ نہ ہونے پائے ۔مکہ کے سفر میں بعض مسلمانوں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اورکہا تم کسی بہرے کو نہیں پکار رہے ہو (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2992)۔ p. 220original + quote
اس قسم کے واقعات بتاتے ہیں کہ عمل کسی اندھا دھند کارروائی کا نام نہیں۔ عمل کا تعلق تمام تر حالات سے ہے ۔ حالات کے مطابق کبھی ایک چیز مفید ہوتی ہے اور کبھی وہی چیز غیر مفید بن جاتی ہے۔ اس دنیا میں کبھی ضروری ہوتا ہے کہ آدمی بولے اور کبھی ضروری ہوتا ہے کہ وہ چپ ہو جائے۔ کبھی یہ مطلوب ہوتا ہے کہ آدمی مقابلہ کرے اور کبھی یہ مطلوب ہو جاتا ہے کہ آدمی مقابلہ کے میدان سے اپنے آپ کو ہٹا دے ۔ p. 220
موجودہ حالات مسلمانوں کے لیے حد درجہ نازک حالات ہیں ۔ یہ مسلمانوں کے لیے جہاد کا وقت نہیں، بلکہ صبر کا وقت ہے۔ آج انہیں مقابلہ نہیں کرنا ہے، بلکہ اعراض کرنا ہے۔ اس صبر اور اعراض کا مطلب بزدلی نہیں، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ وقفہ ٔتعمیر حاصل کیا جائے ۔ p. 221
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا کیس ظلم اور تعصب کا کیس نہیں ۔ وہ ایسے لوگوں کا کیس ہے جو زندگی کی دوڑ میں دوسرے لوگوں سے پچھڑ گئے ہوں۔ مسلمان آج جو کچھ بھگت رہے ہیں، وہ خود اپنے پچھڑے پن کی قیمت ہے ۔ اب ہمیں ایک وقفۂ تعمیر درکار ہے، تاکہ ہم اپنے پچھڑے پن کی تلافی کر سکیں ۔ اس وقفۂ تعمیر کو حاصل کرنا اس کے بغیر ممکن نہیں کہ صبر کا رویہ اختیار کیا جائے۔ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی ہر شکایت کو یک طرفہ طور پر برداشت کیا جائے۔ مواقع کو استعمال کرنے کی خاطر مسائل کو نظر انداز کیا جائے۔ p. 221
یہی زندگی کا راستہ ہے۔ اس کے سوا جو راستے ہیں، وہ مسلمانوں کو تباہی کے سواکسی اور منزل پر نہیں پہنچا سکتے ۔ p. 221