Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
صبر کی طاقت p. 243
حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح کے درمیانی زمانہ میں بنی اسرائیل کے یہاں جنگ کا ایک واقعہ ہوا۔ اس وقت بنی اسرائیل کے جوانوں کی تعداد کم تھی اور دشمن کی فوج تعداد اور اسباب میں بہت زیادہ تھی۔ اس فرق کو دیکھ کر بنی اسرائیل کے لوگ ڈر گئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو دشمن سے لڑنے کی طاقت نہیں(البقرہ،2:249)۔ p. 243original + quote
بائبل کے بیان کے مطابق،اس وقت بنی اسرائیل کے سردار(یونتن)نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آ،ہم اُدھر ان نامختونوں کی چوکی کو چلیں۔ ممکن ہے کہ خداوند ہمارا کام بنا دے۔ کیوں کہ خداوند کے لیے بہتوں یا تھوڑوں کے ذریعہ سے بچانے کی قید نہیں(1۔ سموئیل6:14)۔ یہی بات قرآن میں ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے p. 243original + quote
قَالَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلَاقُو اللَّهِ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ (2:249)۔یعنی، جو لوگ یہ جانتے تھے کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں، انھوں نے کہا کہ کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ p. 243original + quote
اس آیت میں قلیل اور کثیر کا لفظ صرف عددی معنوں میں اقلیت اور اکثریت کے لیے نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ وہ کمزور اور طاقت ور کے معنی میں بھی ہے۔ عربی زبان میں قلیل اور کثیر کا لفظ اس توسیعی مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جاہلی دور کے عرب شاعر کا یہ شعر اس کی ایک مثال ہے p. 244original + quote
فان اك في شراركم قليل فاني في خياركم كثير p. 244
قرآن کی اس آیت میں در اصل اس بات کا اعلان ہے کہ کسی گروہ کا قلیل التعداد یا کمزور ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ کثیر التعداد یا طاقت ور فریق کے مقابلہ میں ہمیشہ ناکام رہے ۔ اس دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں کمزور بھی طاقت ور پر غالب آسکتا ہے ۔ یہاں اقلیت بھی اکثریت کو مفتوح کر سکتی ہے۔ p. 244original + quote
اس فتح و کامرانی کا راز آیت میں صبر بتایا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صبر کوئی انفعالی کیفیت یا بز دلی کی چیز نہیں۔ صبر ایک فعال صفت ہے ۔ وہ ایک بہادرانہ خصوصیت ہے۔ صبر اتنی عظیم چیز ہے کہ جو لوگ اس کا ثبوت دیں وہ خدا کی خصوصی نصرت کے مستحق بن جاتے ہیں۔حتیٰ کہ اس کا نتیجہ اس صورت میں نکلتا ہے کہ ایک بظاہر کمزور گروہ ایک بظا ہر طاقت ور گروہ کےاو پر غلبہ حاصل کر لیتا ہے۔ p. 244original + quote
موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے ۔ یہاں ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان ہمیشہ مقابلہ جاری رہتا ہے۔ اس مقابلہ میں کبھی ایک گروہ غالب آجاتا ہے اور دوسرا گر وہ اس کے مقابلہ میں بظاہر مغلوب اور کمزور ہو کر رہ جاتا ہے۔ p. 245
جب کوئی گروہ دوسرے کے مقابلہ میں کمزور پڑ جائے اور اس کو نقصان اٹھانا پڑے تو اس کے بعد کمزور گروہ کے رد عمل کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک غیر صا برانہ ردعمل، دوسرا صابرانہ ردعمل۔غیر صابر انہ ردعمل یہ ہے کہ آدمی مایوسی اور احساس شکست کا شکار ہو کر رہ جائے ۔ وہ پست ہمت ہو کر بیٹھ جائے۔ وہ سمجھ لے کہ اب میرے لیے یہاں کچھ نہیں ہے۔ وہ دوسرے گروہ کو اپنی مصیبتوں کا ذمہ دار ٹھہرا کر اس کے خلاف فریاد اور احتجاج کرنے لگے۔ یہ تباہی کی صورت ہے ۔ دوسروں نے اگر اس کو ابتدائی نقصان پہنچایا تھا تو اس کے بعد وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچا کر اپنی تباہی کی تکمیل کر لیتا ہے۔ p. 245
دوسرار د عمل صا برا نہ ردعمل ہے۔ یہ وہ شخص ہے جو چوٹ لگنے کے بعد اپنے آپ کو سنبھالتا ہے ۔ اس کا ذہن شکایت کرنے کے بجائے تدبیر کے رخ پر چلنے لگتا ہے۔ وہ مایوسی میں پڑنے کے بجائے امید کے پہلوؤں پر غور کرتا ہے۔ وہ کھوئے ہوئے کا غم کرنے کے بجائے یہ چاہتا ہے کہ ملے ہوئے کو استعمال کرے۔ p. 245
جو لوگ زک(نقصان)اٹھانے کے بعد اس طرح صبر کے طریقہ کو اختیار کریں وہ گویا اپنے آپ کو حالات سے اوپر اٹھاتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اس حالت کی طرف لے جاتے ہیں، جہاں ان کے اندر چھپے ہوئے امکانات جا گیں۔ ان کی شخصیت مزید طاقت کے ساتھ ابھر آئے۔ p. 245
غیر صابر آدمی نقصان کو نقصان کے روپ میں دیکھتا ہے ۔ صابر آدمی نقصان کو اپنے لیے چیلنج سمجھتا ہے ۔ وہ حالات کا مقابلہ کر کے اپنے آپ کو آگے لے جانا چاہتا ہے ۔ اور جو لوگ نقصان کا اس طرح استقبال کریں،وہ ہمیشہ آگے بڑھتے ہیں۔ وہ اپنی ناکامی کو دوبارہ عظیم تر کامیابی میں تبدیل کرلیتے ہیں۔ p. 245
جب ایسا ہو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ کے اوپر ظلم کرے، اور مظلوم گروہ کبھی اس کے جواب میں ظالمانہ کارروائی کرنے لگے تو دونوں گروہ اخلاقی اعتبار سے برابر ہو گئے۔ ایسے دونوں گروہوں کواللہ ان کی اپنی ذات کے حوالے کر دیتا ہے۔ ان میں سے کسی کو کبھی اللہ کی مدد حاصل نہیں ہوتی۔ p. 246
لیکن اگر ایسا ہو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ کو اپنے ظلم اور سرکشی کا نشانہ بنائے،مگرمظلوم گروہ جوابی کارروائی کرنے کے بجائے اس پر صبر کر لے، تو خد اصابر گروہ کے ساتھ ہو جاتا ہے۔ وہ مظلوم گروہ کی مدد کر کے اس کو ظالم گروہ کے اوپر فاتح بنا دیتا ہے۔ p. 246
مظلوم گروہ کو یہ فائدہ تمام تر صبر کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ صبر کوئی بے عملی کی حالت نہیں، صبر سب سے بڑا عمل ہے ۔ صبر یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر اٹھتے ہوئے جذبات کو منفی رخ سے ہٹا کر مثبت رخ کی طرف پھیر دے۔ p. 246
صبر کی صفت اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہے ۔ جو شخص صبر کرے، وہ بے پناہ شخصیت کا مالک بن جاتا ہے۔ تمام قوانین فطرت اس کے حق میں متحرک ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد کے تحت وہ ایک ناقابل تسخیر ہستی بن جاتا ہے۔ p. 246
صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے اوپر اٹھائے ۔ وہ ظالم کی بدخواہی کے جواب میں اس کے ساتھ خیر خواہی کرنا سکھاتا ہے۔ وہ برے عمل کا جواب بھلے عمل سے دینے کا مزاج پیدا کرتا ہے ۔ صابر آدمی ظالم کے ظلم پر اس کے خلاف بددعا نہیں کرتا،بلکہ للہ تعالیٰ سے اس کی ہدایت کی دعا مانگتا ہے۔ p. 246
صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ایسا نہ کرے کہ وہ اشتعال انگیزی کے وقت مشتعل ہو جائے اور عاجلانہ کارروائی میں اپنی طاقت کو ضائع کرے۔ صبر آدمی کو بے پناہ حد تک طاقتور بنا دیتا ہے۔ وہ آدمی کی خفیہ صلاحیتوں کو جگاتا ہے۔ وہ آدمی کے چھپے ہوئے امکانات کو بیدار کرتا ہے۔ وہ آدمی کے اندار منصوبه بند کام کرنے کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ صبر آدمی کو معمولی انسان کے درجہ سے اٹھا کر غیر معمولی انسان کے درجہ میں پہنچا دیتا ہے۔ p. 247