Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
صبر اور دعوت p. 213
صبر داعی کا اخلاق ہے۔ صبر ہی کے ذریعہ وہ حالات پیدا ہوتے ہیں جب کہ کوئی شخص دعوتی مواقع کو استعمال کر سکے ۔ جو آدمی ناخوش گوار باتوں پر صبر کرنے کے لیے تیار نہ ہو، وہ اس دنیا میں کبھی داعی کا مقام حاصل نہیں کر سکتا۔ p. 214
سر جیمزجینز(1877-1946ء) مشہور انگریزسائنسداںہے۔ اس نے طبیعیات اور فلسفہ (Physics & philosophy) کے نام سے 1941ءمیں ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب کے دیباچہ میں اس نے اعتراف کیا کہ کائنات کے سائنسی مطالعہ نے ہم کو جہاں پہنچایا ہے، اس سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت کا دروازہ کھولنا ممکن ہے۔ بشرطیکہ ہم اس کا ہینڈل حاصل کر سکیں p. 214
It almost seems to suggest that the door may be unlocked, if only we could find the handle. (p. 216) p. 214
انگریز سائنس داں نے جس وقت یہ سطریں لکھی ہیں،عین اس وقت ساری دنیا کے مسلمان انگریزوں کی سیاسی بالادستی پر بھڑک کر ان کے خلاف خون آشام لڑائی میں مصروف تھے۔ وہ انگریز کو صرف ایک قابل نفرت دشمن کے روپ میں دیکھ رہے تھے ۔ اگر وہ انگریز کی سیاسی بالادستی پر وقتی طور پر صبر کر لیتے تو اچانک انہیں دکھائی دیتا کہ انگریز قوم حقیقت کے دروازے کھولنے کے لیے جس’’ ہینڈل‘‘ کی تلاش کر رہی ہے ،وہ ہینڈل ان کے پاس قرآن کی صورت میںموجود ہے۔ p. 214
اس واقفیت کی صورت میں انگریز کے بارے میں ان کی پوری نفسیات بدل جاتی۔ اب وہ انگریز کو اپنا مدعو سمجھتے، نہ کہ اپنا حریف ۔ اس کے بعد وہ انگریز کی ہلاکت چاہنے کے بجائے، اس کی ہدایت چاہنے لگتے۔ وہ انگریز کی اصلاح کے لیے دعا کرتے اور اس کے خیر خواہ بن کر اس سے یہ کہتے کہ حقیقت کی منزل تک پہنچنے کے لیے تم کو جس چیز کی ضرورت ہے ،وہ تمہارے خدا نے پیشگی طور پر قرآن کی صورت میں تمہارے لیے بھیج دیا ہے۔ p. 215
صبر دعوت کی لازمی شرط ہے ۔ جہاں صبر نہ ہو، وہاں دعوت بھی یقینی طور پر نہیں ہوگی۔ p. 215