Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
خاموش تدبیر p. 253
الطاف حسین حالی(1837-1914ء) اصلاحی شاعری کو پسند کرتے تھے ۔ اس اعتبار سے انھوں نے قدیم اُردو شاعری کا جائزہ لیا تو وہ انہیں نہایت بے معنی نظر آئی۔ انھوں نے پایا کہ قدیم اردو شاعری میں مبالغہ ہے ۔ حسن و عاشقی کی داستان ہے۔ فرضی خیال آرائی ہے۔ حالی نے اس شاعری پر سخت تنقید کی اور اس کے بجائے با مقصد شاعری کی وکالت کی۔ p. 253
یہ تنقید ان لوگوں کو بہت ناگوار ہوئی جو قدیم اردو شاعری کو اپنے لیے فخر کا سرمایہ بنائے ہوئے تھے۔ ان کو برداشت نہیں ہوا کہ ایک شخص ان کے پر فخر اثاثہ کو بے قیمت بتائے۔ چنانچہ وہ حالی کے دشمن ہو گئے۔ ان لوگوں نے حالی کے خلاف نہایت غیر سنجیدہ قسم کے مخالفانہ مضامین چھاپنے شروع کیے ۔ حالی نے اس لغو طوفان کے جواب میں خاموشی اختیار کر لی۔ اس پر اودھ پنچ( لکھنؤ) نے ایک فاتحانہ نظم شائع کی۔ اس کا ایک شعر یہ تھا p. 253
ابتر ہمارے حملوں سے حالی کا حال ہے p. 253
میدان پانی پت کی طرح پائمال ہے p. 254
مخالفت برائے مخالفت کا یہ طوفان مکمل طور پر یک طرفہ تھا۔ اس لیے وہ بہت زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکتا تھا۔ چنانچہ کچھ دنوں کے بعد مخالفین خاموش ہو گئے۔ حالی سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے مخالفین کیسے چپ ہو گئے۔ وہ تو بظا ہر چپ ہونے والے نظر نہیں آتے تھے۔ حالی نے اس کے جواب میں ایک نظم لکھی۔ اس کاایک شعر یہ تھا p. 254original + quote
کیا پوچھتے ہو کیونکرسب نکتہ چیں ہوئے چپ p. 254
سب کچھ کہا انھوں نے پر ہم نے دم نہ مارا p. 254
کوئی شخص سنجیدہ اختلاف اور علمی تنقید کرے تو وہ بلاشبہ قابل غور ہوتی ہے۔ اگر وہ درست ہے تو اس کو مان لیناچا ہیے اور اگر اس کے اندر استدلالی نقص ہے تو دلائل کے ساتھ اس کی غلطی کا تجزیہ کرنا چاہیے۔ p. 254
مگر جو مخالفت برائے مخالفت ہو، جو علمیت اور سنجیدگی سے خالی ہو ، جس کی بنیاد حقائق کے بجائے ا لزام تراشی اور عیب جوئی پر ہو، ایسی مخالفت کا بہترین جواب خاموشی ہے ۔ ایسے لوگوں کا جواب دینا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص چیختے ہوئے گدھے کے سامنے وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ (31:19)کا وعظ کہنے لگے، یعنی اور اپنی آواز کو پست کرو۔ p. 255original + quote