Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اپنی سوچ درست کیجیے p. 446
ایک مغربی سفر میں میری ملاقات ایک مسیحی خاتون سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میرا شوہر سخت (stubborn) ہے۔ مجھے اس کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی حقیقی مسئلہ نہیں، یہ صرف سوچ کا مسئلہ ہے۔ آپ اپنی سوچ درست کر لیجیے اور پھر یہ مسئلہ اپنے آپ ختم ہوجائے گا۔ آپ یہ نہ سوچئے کہ آپ کا شوہر سخت ہے۔ سخت ایک منفی لفظ ہے۔ منفی الفاظ میں آپ کسی بات کو سوچیں تو اس کے بارے میں معتدل انداز میں سوچنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے بجائے آپ کو اِس بارے میں مثبت الفاظ استعمال کرنا چاہیے، تاکہ آپ جو کچھ سوچیں، وہ مثبت ذہن کے تحت سوچیں، نہ کہ منفی ذہن کے تحت۔ p. 446
میں نے کہا کہ آپ یہ کہیے کہ آپ کے شوہر کے اندر عزم (determination)کا مادّہ ہے۔ وہ کسی چیز کے بارے میں سوچتے ہیں تو اَٹل انداز میں سوچتے ہیں۔ یہ ایک مردانہ صفت ہے اور وہ بلاشبہ ایک اچھی صفت ہے۔ اگر یہ صفت نہ ہو تو آدمی ہمت کے ساتھ زندگی کے چیلنج کا سامنا نہیں کرسکتا۔ اور جو آدمی چیلنج کا سامنا نہ کرسکے، وہ کبھی زندگی میں کامیاب بھی نہیں ہوسکتا۔ p. 446
مذکورہ خاتون کئی زبان جانتی تھیں اور وہ پروفیشن کے اعتبار سے ترجمان (interpreter) تھیں۔ میں نے کہا کہ آپ کا پروفیشن چیلنجنگ پروفیشن نہیں ہے۔ اِس پروفیشن میں نرم ہونا ایک اچھی بات ہے۔ آپ کا نرمی کا مزاج آپ کے پروفیشن کے عین مطابق ہے، مگر آپ کے شوہر ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں منیجر ہیں۔اس کام میں ان کو ہر وقت چیلنج کا سامنا رہتا ہے۔ خدا نے آپ کو نرم بنایا، تاکہ آپ اپنے پروفیشن کو کامیابی کے ساتھ کرسکیں۔ اِس کے برعکس، خدا نے آپ کے شوہر کو سختی کا مزاج دیا جو کہ اُن کے پروفیشن کے اعتبار سے ضروری تھا۔ آپ کو چاہیے کہ اِس تقسیم پر آپ شکر کریں، نہ کہ شکایت۔ p. 446
معاملات میں مثبت رخ پر سوچنا آدمی کو مثبت نتیجے تک پہنچاتا ہے، اور منفی رخ پر سوچنا اُس کو منفی نتیجے تک پہنچاتا ہے۔اِس اصول کا تعلق جس طرح زندگی کے دوسرے معاملات سے ہے، اِسی طرح اس کا تعلق ازدواجی زندگی سے بھی ہے۔ اِس اصول کو جاننا بلا شبہ اِس دنیا میں کامیاب زندگی کی کلید ہے۔ p. 446
ایک واقعہ p. 447
ستمبر 1992ءمیں میرا ایک سفر لندن کے لیے ہوا۔ اس سفر میں لندن میں میرا قیام پروفیسر انیس قاری کی رہائش گاہ پر تھا۔ یہاں 26 ستمبر کو جناب جاویدحسن صاحب (Tel.5581523) سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے بتایا کہ میں ایک یہودی فرم میں کام کرتا ہوں ۔ وہاں ایک کٹر قسم کا یہودی تھا ۔ میں جب اس کے پاس سے گزرتا تو ہمیشہ اس کوگڈ مارننگ کہتا۔ مگر وہ مجھ کو جواب نہ دیتا ،بلکہ منہ پھیر لیتا۔ آخر کار ایک روز اس نے کہہ دیا کہ تم کیوں مجھ کوگڈمارننگ کہتے ہو ۔ تم جانتے ہو کہ میں تم سے نفرت کرتا ہوں p. 447unverified
''Why you say good morning to me. You know, I hate you''. p. 447
اس کے جواب میں جاوید صاحب نے کہا کہ آپ کا شکریہ۔ مگر میں تو آپ سے نفرت نہیں کرتا p. 447other source
But I do not hate you p. 448
یہ جواب سن کر یہودی تعجب میں پڑ گیا۔ اس نے کہا میں تو سمجھتا تھا کہ سارے مسلمان یہودیوں سے نفرت کرتے ہیں اور تم ان سے الگ نہیں ہو ،کیوں کہ میں ایک یہودی ہوں ۔ p. 448
اس دن کی گفتگو کے بعد وہ کافی نرم پڑگیا۔ یہاں تک کہ چند دن کے بعد وہ نارمل ہوگیا۔ اس کا حال یہ ہو گیا کہ جا وید صاحب کو دیکھتا تو دور ہی سے ہیلو ہیلو کرنے لگتا۔ لوگوں کوتعجب تھاکہ اتناکٹر یہودی ایک مسلمان سے اتنا قریب کیسے ہوگیا۔ اس کا جواب ایک لفظ میں یہ ہے کہ یک طرفہ حسن اخلاق سے۔ p. 448