Tameer-e-Shakhsiyat

شخصیت سازی کا عمل

Tameer-e-Shakhsiyat — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (208 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. تعمیر ِشخصیت
  3. مقدمہ
  4. انسان کی شخصیت
  5. شخصیت کی تعمیر
  6. کنڈیشننگ کا عمل
  7. زندگی کی تعمیر
  8. تعمیر ِخویش کاطریقہ
  9. مومن کا کنسرن
  10. اپنی تعمیر آپ
  11. ایک عظیم عبادت
  12. شکر کا عمل
  13. شکر ایک اعلیٰ عبادت
  14. انسان اور نظامِ ربوبیت
  15. اسمائے حسنیٰ
  16. شکر کی اہمیت
  17. حکمت اور شکر
  18. شکر ایک قربانی کا عمل
  19. شکر سے اضافہ
  20. صبر وشکر
  21. شکر کی تربیت
  22. سب کچھ خدا کا عطیہ
  23. شکر کے دو درجے
  24. حمد اور کَبَد کے درمیان
  25. بیسویں صدی
  26. مذہبی صداقت کا سائنسی ظہور
  27. ایک سادہ مثال
  28. زندگی کی مددگار
  29. پھول اور کانٹا
  30. زحمت میں رحمت
  31. غلطی کا اعتراف
  32. رمضان کا مہینہ
  33. انعام کی شکرگزاری
  34. شکر گزاری، سرکشی
  35. شکر کی حقیقت
  36. نعمت کا اعتراف
  37. منعم کا اعتراف نہیں
  38. شکر میں جینا سیکھیے
  39. ایک تجربہ
  40. شکر کا ایروژن
  41. دور شکر
  42. محرومی ایک نعمت
  43. منفی تجربہ سے مثبت تجربہ
  44. مالداری، غریبی
  45. بے خبرانسان
  46. بولنے کی صلاحیت
  47. شکر، نہ کہ شکایت
  48. فخر اور شکر
  49. ڈس ایڈوانٹج میں ایڈوانٹج
  50. کامیابی کا فارمولا
  51. واقعاتِ شکر
  52. ایک خط
  53. صبر
  54. صبر کیا ہے
  55. صبر کا فلسفہ
  56. سنتِ صبر
  57. صبر کی تعلیم
  58. صبر خدا کے لیے
  59. صبر دین کا خلاصہ
  60. صبر بے عملی نہیں
  61. قرآنی طریقہ
  62. حکمت اور صبر
  63. صبر منسوخ نہیں
  64. نتیجه خیز عمل
  65. اسٹیٹس کو اِزم
  66. صبر کیوں
  67. صبر کی اہمیت
  68. حکمتِ صبر
  69. بااصول زندگی
  70. صبر کی نصیحت
  71. سیلف ڈسپلن
  72. صبر کا مہینہ
  73. ڈسپلن کی اہمیت
  74. صبر واعراض کا اصول
  75. صبر پر بے حساب اجر
  76. صبر کا فائدہ
  77. دانش مندانہ طریقہ
  78. صبر کی عظمت
  79. اجتماعی صبر
  80. صبر پسپائی نہیں
  81. اذیت پر صبر
  82. دعوت اور صبر
  83. صبر وتقویٰ
  84. صبر ، عجلت
  85. صبر ایک عظیم نیکی
  86. صبربہادری ہے
  87. صبر کی جیت
  88. غیرصابرانہ عمل
  89. حقیقت پسندی
  90. نظامِ فطرت
  91. صبر کا انعام
  92. رد عمل نہیں
  93. غلط منصوبہ بندی
  94. صبر کا بدلہ
  95. جنت صبر کے اُس پار ہے
  96. صبر نفسیاتی قربانی
  97. قدرت کا پیغام
  98. داعیانہ صبر
  99. صبر کا سفر
  100. صبر، بے صبری
  101. صبر اور دعوت
  102. صبر ایک مثبت عمل
  103. روزہ صبر کی تربیت
  104. صبر کی عبادت
  105. صبر اور اعراض
  106. مسئلہ کا حل
  107. صبر و توکل
  108. عافیت کی زندگی
  109. قرآن کی ہدایت
  110. رات اور دن
  111. صبر، محاسبہ، توسم
  112. صبر کرنے والے
  113. قدرت کے باوجود
  114. صبر، صبر، صبر
  115. صبر و برداشت
  116. صبر کی زمین پر
  117. صبر— سپیریر سولیوشن
  118. صبر کی طاقت
  119. صبر اسلامی تاریخ میں
  120. دعوت کا دور
  121. خلافت کا دور
  122. ملوکیت کا دور
  123. اشتعال کے بغیر
  124. خاموش تدبیر
  125. صبر کا کرشمہ
  126. ایک کے بعد دوسرا
  127. صبر کا ہتھیار
  128. صبر کا طریقہ
  129. صبر کب تک
  130. صبر اور امن
  131. بے صبری کا نتیجہ
  132. صبر کاپھل
  133. صبر کی ضرورت
  134. مسائل پر صبر
  135. بے صبری نہیں
  136. سوال و جواب
  137. اعراض
  138. اعراض کی حکمت
  139. پریکٹکل وزڈم
  140. غلط فہمی
  141. رواداری
  142. رواداری کااصول
  143. جاہلوں سے اعراض
  144. رُجز سے اعراض
  145. اعراض کاطریقہ
  146. نفرت، دہشت گردی
  147. فساد اور اسبابِ فساد
  148. فخر اور نفرت
  149. مسلمان عالمی محاصرہ میں
  150. نصف ِ ثانی کی سیاست
  151. مقامِ نزاع سے پیچھے ہٹنا
  152. ردّ ِعمل اسلام میں نہیں
  153. نفرت کا بم
  154. مبنی بر نظام یا مبنی بر نفرت
  155. اختلاف کے وقت
  156. نفرت کی تیزاب
  157. ہجر جمیل
  158. غیر فطری رد عمل
  159. انسان کی رعایت
  160. اشتعال نہیں
  161. نفرت نہیں محبت
  162. اسلامی رواداری
  163. توسع اور رواداری
  164. دو ملک ایک واقعہ
  165. حکمت ِ اعراض
  166. ایک واقعہ
  167. اس میں سبق ہے
  168. تدبیر، نه که اشتعال
  169. منفی سوچ کا مزاج
  170. رُجز کو چھوڑو
  171. چُپ کی طاقت
  172. بگ برڈ تھنکنگ
  173. مثبت ذہن
  174. شخصیت کاارتقا
  175. ہلاکت کیا ہے
  176. تاريخ سے سبق
  177. صحیح نقطۂ آغاز
  178. تجربہ سے سبق سیکھیے
  179. مثبت فکر
  180. مثبت جواب
  181. سفر کا آغاز
  182. بحران کا مثبت پہلو
  183. ماضی میں جینا
  184. بھولنا ایک مثبت عمل
  185. اختلافِ رائے
  186. فطرت کا قانون
  187. منفی سوچ نہیں
  188. منفی تجربہ
  189. غصہ کا نقصان
  190. غصہ کا مثبت پہلو
  191. اینگر انرجی
  192. مشتعل نہ ہونے کا کرشمہ
  193. نزاع کا معاملہ
  194. اپنی سوچ درست کیجیے
  195. ایک لفظ کا فرق
  196. منفی پہلو میں مثبت پہلو
  197. مثبت اثر
  198. ’انا‘ کی دیوار
  199. منفی تأثر، مثبت تأثر
  200. احتجاج کوئی پالیسی نہیں
  201. مثبت لٹریچر کی ضرورت
  202. دشمن سے سیکھنا
  203. منفی سوچ اسلام میں نہیں
  204. بحران کا مسئلہ
  205. شخصیت سازی کا عمل
  206. خاتمہ
  207. تعمیر شخصیت کا راز
  208. کامیابی کے دس اصول

شخصیت سازی کا عمل p. 465

روسو(Jean Jacques Rousseau)فرانس کا مشہور جمہوری مفکر ہے۔ وہ 1712ء میں پیدا ہوا اور1778ء میںاس کی وفات ہوئی۔ وہ شخصی بادشاہت کے مقابلے میں عوامی حکمرانی کا علم بردار تھا۔ وہ اپنی مشہور کتاب معاہدۂ عمرانی (Social Contract) کا آغاز اس جملے سے کرتا ہے— انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اس کو زنجیروں میں بندھا ہوا دیکھتا ہوں p. 465original + quote

Man was born free, but I see him in Chain. p. 465

مگر انسان کا ایک اور مسئلہ ہے جو شاید اس سے بھی زیادہ سنگین ہے، اور وہ کنڈیشننگ ہے۔ ہر عورت اور مرد کسی ماحول میں رہتے ہیں۔ ماحول کی نسبت سے ہر ایک کے ذہن کی کنڈیشننگ ہوجاتی ہے جو اس کو صحیح طرزِ فکر سے محروم کردیتی ہے۔ آدمی اس قابل نہیں رہتا کہ وہ فطری انداز میں سوچ سکے۔ اِس مسئلے کو دیکھتے ہوئے روسو کے جملے کو زیادہ بہتر طورپر اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ— انسان فطرت پر پیدا ہوا تھا، مگر وہ ہر جگہ کنڈیشنڈ دکھائی دیتا ہے p. 466original + quote

Man was created on divine nature, but I see him psychologically conditioned. p. 466

ایک بچہ جب ماں کے پیٹ سے پیداہوتا ہے، اس وقت اس کو دیکھیے تو وہ معصومیت کا پیکر دکھائی دے گا۔ ایسا معلوم ہوگا جیسے کہ فرشتے نے انسان کی صورت اختیار کرلی ہے۔ پیدائش کے وقت انسان اپنے ذہن کے اعتبار سے خالص ذہن کا حامل ہوتا ہے۔ اس کی سوچ عین وہی فطری سوچ ہوتی ہے جو بطور واقعہ ہونا چاہیے۔ مگر انسان ایک سماجی حیوان (social animal) ہے۔ اس کو اپنی ساری زندگی دوسروں کے بنائے ہوئے سماج کے اندر گزارنا ہوتا ہے۔اس بنا پر اس کا ذہن ہر آن خارجی تأثر قبول کرتا رہتا ہے۔ جس کو کنڈیشننگ کہاجاتا ہے۔ یہ تاثر پذیری بڑھتی رہتی ہے، یہاں تک کہ انسان مکمل طورپر کنڈیشننگ کا کیس بن جاتا ہے۔ p. 466

سن شعور کو پہنچنے کے بعد ہر عورت اور مرد کی یہ لازمی ذمّے داری ہے کہ وہ اس کنڈیشننگ کو سمجھے اور اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ کرکے دوبارہ اپنے آپ کو حالتِ فطری کی طرف واپس لے جائے، وہ اپنے آپ کو انسانِ مصنوعی کے بجائے انسانِ فطری بنائے۔ p. 466

موجودہ زمانے میں علمِ نفسیات میںایک نظریہ بہت عام ہوگیا ہے جس کو بہیویرازم (behaviourism) کہاجاتا ہے۔ نفسیات کے اس مدرسۂ فکر میں یہ مان لیا گیا ہے کہ یہ کنڈیشننگ ہی انسان کی مستقل حالت ہے، انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے کچھ نہیں، یہ دراصل ماحول کی کنڈیشننگ ہے جو انسان کی شخصیت سازی کرتی ہے۔ اس نظریے کے حاملین کہتے ہیں کہ انسان نیچر (nature) سے نہیں بنتا۔ بلکہ وہ نرچر(nurture) سے بنتا ہے۔ یعنی ماحول کی پرورش سے۔ اس نفسیاتی مدرسۂ فکر کے لوگ کہتے ہیں کہ — انسان جہاں پیدا ہوتا ہے وہیں کے حالات اس کی شخصیت کی تشکیل کرتے ہیں p. 467

He was nurtured when he was born. (Wotton) p. 467

انسانی شخصیت کی زیادہ گہری تحقیق اس نظریے کو ردّ کررہی ہے۔زیادہ گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے ایک مکمل شخصیت ہوتا ہے۔ جنیٹک کوڈ کی حالیہ دریافت مذکورہ نظریے کی مکمل تردید ہے۔ اس دریافت کے ذریعے یہ ثابت ہوا ہے کہ جنیٹک کوڈ کے اندر پیدائشی طورپر ہر انسان کی مکمل شخصیت موجود ہوتی ہے۔ بعد کے دور میں انسان کی جو شخصیت بنتی ہے، وہ اسی جنیٹک کوڈ کی صرف اَن فولڈنگ (unfolding)ہے۔ p. 467

اِس نقطۂ نظر کے مطابق، زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ماحول کی کنڈیشننگ اصل انسان کے اوپر ایک مصنوعی پردے کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا انسان کی شخصیت پیاز کی مانند ہے۔ پیاز کے اندر مٹر کی مانند ایک مغز ہوتا ہے۔ اس داخلی مغز کے اوپر خارجی پردے کے مانند بہت سے چھلکے ہوتے ہیں۔ اگر ان چھلکوں کو ہٹایا جائے تو پیاز کا اندرونی مغز کھل کر سامنے آجائے گا۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان کی شخصیت کے اوپر ماحول کے اثر سے مصنوعی پردے پڑ جاتے ہیں۔ ان پردوں کو ہٹا دیا جائے تو انسان کی اصل شخصیت کھل کر سامنے آجائے گی۔ p. 467

انسانی شخصیت کے انھیں خارجی پردوں کو ہٹانے کانام ڈی کنڈیشننگ ہے۔ جو آدمی سچائی کا طالب ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی ڈی کنڈیشننگ کرکے مصنوعی پَردوں کو ختم کرے تاکہ اس کی اصل شخصیت سامنے آسکے۔ p. 467

مذہب میں یہ تسلیم کیاگیا ہے کہ انسان خدا کی خاص تخلیق ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اسی خدائی شخصیت (divine personality) پر پیدا ہوتا ہے۔ وہ اپنے داخلی وجود کے اعتبار سے ایک صحیح اور کامل شخصیت ہوتا ہے۔ ابدی کامیابی کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی سب سے پہلے اپنی اس فطری شخصیت کی حفاظت کرے۔ وہ اپنے آپ کو اس حالتِ فطری پر قائم کرے جس پر اس کے پیدا کرنے والے نے اس کو پیدا کیا ہے۔ اسی خود تعمیری جدوجہد کانام ڈی کنڈیشننگ ہے۔ p. 468

مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان جب ایک ماحول میں پرورش پاتا ہے توہر دن اس کے ساتھ مختلف منفی تجربے پیش آتے ہیں۔ یہ تجربے اس کی اصل شخصیت پر غیر مطلوب پردے ڈالتے رہتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص اس کے مقابلے میں زیادہ ترقی کر گیا۔ یہ تجربہ اس کے اندر حسد کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ اور اس کی شخصیت کے اندر حسد کا ایک عنصر شامل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص اس کے ساتھ ناپسندیدہ سلوک کرتا ہے۔ یہ تجربہ اس کی شخصیت میں نفرت کا ایک عنصر شامل کردیتا ہے۔ ایک مشاہدہ اس کے سامنے آتا ہے اس کو دیکھ کر اس کے اندر وہ چیز پیدا ہوتی ہے جس کو لالچ کہاجاتا ہے۔ یہ تجربہ اس کی شخصیت میں لالچ کا ایک عنصر داخل کردیتا ہے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اس کے ساتھ ظلم کا معاملہ کرتا ہے۔ یہ تجربہ اس کے اندرتشدد کا جذبہ جگاتا ہے، اوراس کی شخصیت میں تشدد کا عنصر شامل ہوجاتا ہے۔ p. 468

اس طرح ماحول کے اندر آدمی کو مختلف قسم کے تجربات سے سابقہ پیش آتا رہتا ہے، اور ہر تجربہ ایک منفی عنصر بن کر اس کی شخصیت کی تشکیل کرتا رہتا ہے۔ یہاںتک کہ انسان کی اصل شخصیت پردوں میں ڈھک جاتی ہے۔ انسانِ فطری بدل کر انسانِ مصنوعی بن جاتا ہے۔ p. 468

ڈی کنڈیشننگ اسی مصنوعی صورتِ حال کی تصحیح ہے۔ یہ ڈی کنڈیشننگ ہر انسان کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر انسان کی شخصیت ایک ناقص شخصیت بنی رہے گی، وہ کبھی کامل شخصیت کا درجہ نہ پاسکے گی۔اس ڈی کنڈیشننگ کا بنیادی ذریعہ احتساب خویش (introspection) ہے۔ ہر عورت اور مرد کو یہ کرنا ہے کہ وہ خود اپنا نگراں بن جائے۔ وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے اندر سے ہر منفی آئٹم کو نکالے اور اس کو فکری تصحیح کے عمل سے گزار کر مثبت آئٹم بنائے۔ اور پھر اسی مثبت آئٹم کو اپنی شخصیت میں واپس داخل کرے۔ جس طرح مویشی جگالی (rumination) کرکے اپنے اندر سے غیر ہضم شدہ غذا کو نکالتے ہیںاور پھر اس کو قابل ہضم بنا کر اپنے پیٹ میں دوبارہ داخل کرتے ہیں۔ اسی طرح ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ ڈی کنڈیشننگ کے ذریعے اپنی شخصیت کی تعمیر و تشکیل کریں۔ p. 468

نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے دماغ کے دوبڑے حصے ہیں— شعور اور لاشعور۔ انسان کے ساتھ جب کوئی ناخوشگوار تجربہ گزرتا ہے تو وہ سب سے پہلے اس کے ذہن کے شعوری خانے میں ایک منفی آئٹم کے طور پر داخل ہوتا ہے۔ یہ منفی آئٹم چند دن تک زندہ شعور کے خانے میں رہتا ہے۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے وہ اس کے لاشعور کے خانے میں چلا جاتا ہے۔ اور پھر ہمیشہ کے لیے اس کے ذہن کا حصہ بن جاتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہر آدمی پہلے ہی دن یا چند دن کے اندر ہر منفی آئٹم کو مثبت آئٹم میں تبدیل کرے۔ تا کہ یہ آئٹم جب زندہ شعور سے گذر کر اس کے لاشعور میںیا حافظے کے اسٹور میں پہنچے تو وہ ایک مثبت آئٹم کے طورپر وہاں محفوظ ہو۔ p. 469

یہی وہ عمل ہے جو انسانی شخصیت کی تعمیر میںاصل فیصلہ کن عامل(factor) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی عمل کے دوران یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کوئی انسان منفی شخصیت کا حامل ہوگا یا مثبت شخصیت کا حامل۔جو آدمی اپنے روز مرّہ کے تجربات پر تصحیح کا عمل کرکے اس کو مثبت آئٹم میں ڈھالتا رہے،اس کے لاشعور یا حافظے کے اسٹور میں تمام آئٹم مثبت آئٹم کے طورپر جمع ہوں گے۔ ایسے انسان کی شخصیت ایک مثبت شخصیت ہوگی۔ اس کے برعکس، جو انسان تجربے کے پہلے ہی مرحلے میںتصحیح کا یہ عمل جاری نہ کرسکے اس کو پیش آنے والے تمام منفی آئٹم اس کے لاشعور کے خانے میں صرف منفی آئٹم کے طورپر جگہ پائیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کی پوری شخصیت ایک منفی شخصیت بن جائے گی۔ p. 469

انسان جو بھی عمل کرتا ہے، خواہ وہ اس کی سوچ ہو یا وہ اس کا قول ہو یا وہ اس کا عمل، سب کچھ اس کے لاشعور کے تحت ہوتا ہے۔ کوئی انسان اپنے شعور کے کم اور اپنے لاشعور کے زیادہ تابع ہوتا ہے۔ جس انسان کا لاشعور منفی آئٹم کا ذخیرہ بن جائے، اس کے تمام اقوال و اعمال منفی نوعیت کے ہوں گے۔ اس کے برعکس، جس انسان کا لاشعور خود تعمیری کے نتیجے میں مثبت آئٹم کا ذخیرہ بنا ہوا ہو، اس کے تمام اقوال و اعمال صحت مند اور مثبت انداز کے حامل ہوں گے۔ p. 469

حق کی تلاش یا حق کی یافت دونوں ہی مثبت شخصیت کا فعل ہیں۔ یہ دراصل مثبت شخصیت ہے جس کے اندر تلاشِ حق کا اعلیٰ جذبہ جاگتا ہے۔ اور یہ مثبت شخصیت ہی ہے جو اپنی سلامتِ فکر کی بنا پر آخر کار حق کی یافت کے مرحلے تک پہنچتی ہے۔ p. 469

مثبت شخصیت، منفی شخصیت p. 469

اسلامی فقہ کا یہ مسئلہ ہے کہ اگر ایک ٹب پاکیزہ پانی ہو، اُس میں گندگی کا ایک قطرہ ڈال دیا جائے تو ٹب کا پورا پانی گندا ہو جائے گا۔ اِس کے برعکس، اگر ایک ٹب گندا پانی ہو اور اس میں ایک قطرہ پاک پانی ڈال دیا جائے تو اُس سے وہ پانی پاک نہیں ہوجائے گا، بلکہ وہ بدستور گندا رہے گا۔ یہ ایک خارجی نوعیت کی مادی مثال ہے۔ یہی معاملہ انسان کی داخلی شخصیت کا ہے۔ p. 470

ایک شخص کے ذہن میں اگر 99 مثبت آئٹم ہوں اور صرف ایک منفی آئٹم اس کے اندر داخل ہوجائے تو یہی منفی آئٹم غالب آجائے گااور آدمی کی پوری شخصیت منفی شخصیت بن جائے گی۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ مثبت سوچ کسی درجے میں بھی منفی سوچ کو قبول نہیں کرتی ۔ آدمی کی شخصیت یا تو صد فی صد مثبت شخصیت ہوگی، یا وہ سرے سے مثبت شخصیت ہی نہ ہوگی۔ p. 470

یہ ایک اہم نفسیاتی اصول (psychological principle)ہے جو آدمی اپنے اندر مثبت شخصیت (positive personality) کی تعمیر کرنا چاہتا ہے، اُس کو لازمی طورپر یہ کرنا ہے کہ وہ سختی کے ساتھ اپنا محاسب بن جائے۔ وہ ہر وقت اِس بات کی نگرانی کرتا رہے کہ اس کے ذہن میں ادنی درجے میں بھی کوئی منفی سوچ داخل نہ ہو۔ شکایت یا نفرت کا کوئی ایک آئٹم بھی اگر اس کے اندر موجود ہے تو وہ ڈھونڈ کر اس کو باہر نکال دے۔ اِس معاملے میں وہ خود اپنا نگراں بن جائے۔ p. 470

تعمیر شخصیت کا یہ ایک مستقل عمل ہے جو ہر آدمی کو ہر صبح وشام انجام دینا ہے۔ کوئی بھی دوسرا عمل اِس معاملے میں غفلت کی تلافی نہیں بن سکتا۔ p. 470

یاد رکھنا چاہیے کہ مثبت شخصیت ہی ربانی شخصیت ہے اور ربانی شخصیت ہی وہ شخصیت ہے جس کو آخرت کے دورِ حیات میں جنت میں داخلہ ملے گا۔ منفی شخصیت رکھنے والے لوگ بلاشبہ جنت میں داخلے کے لیے غیر مستحق قرار پائیں گے۔ p. 471

سوال و جواب p. 471

سوال p. 471

ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملا قات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ میں الرسالہ سے پورا اتفاق رکھتا ہوں۔مگر ایک چیز سے میں ابھی تک پورا اتفاق نہ کر سکا۔ p. 471

وہ یہ کہ الرسالہ میں مثبت انداز میں کام کرنے کو کہا جاتا ہے، مگر خود الرسالہ میں تنقیدی اُسلوب پایا جاتا ہے۔ حالاں کہ تنقید کا اُسلوب منفی اُسلوب ہے۔ مزید یہ کہ الرسالہ کی تنقید یک طرفہ تنقید ہوتی ہے۔ اِس میں زیر تنقید شخص کے مثبت پہلو کو عام طور پر بیان نہیں کیا جاتا۔(ایک قاری الرسالہ، نئی دہلی) p. 471

جواب p. 472

ماہ نامہ الرسالہ میں کبھی یہ نہیں لکھا گیا کہ تنقیدی اُسلوب درست نہیں۔ الرسالہ میں جو کچھ لکھا گیا ہے، وہ صرف منفی اُسلوب کے بارے میں ہے، نہ کہ تنقیدی اُسلوب کے بارے میں۔ منفی اُسلوب میں دو قسم کی چیزیں شامل ہیں، شکایتی اُسلوب اور عیب زنی کا اُسلوب۔یہ دونوں چیزیں بلا شبہ حرام کے درجے میں قابلِ ترک ہیں۔ p. 472

جہاں تک تنقیدی اُسلوب کی بات ہے، وہ سرے سے قابلِ اعتراض ہی نہیں۔ تنقید کے بغیر کبھی ذہنی ترقی نہیں ہو سکتی۔ تاہم تنقید سے مراد تنقیص نہیں ہے، بلکہ اِس سے مراد علمی تجزیہ ہے۔ اور علمی تجزیہ ہمیشہ نہایت مفید ہوتا ہے۔الرسالہ میں جو تنقید ہوتی ہے، وہ ہمیشہ علمی تجزیہ کے معنی میں ہوتی ہے، نہ کہ شکایتی اُسلوب اور عیب زنی کے اُسلوب کے معنی میں۔ p. 472

اصل یہ ہے کہ لوگوں نے خود ساختہ طور پر بعض شخصیتوں کو اکابر کا درجہ دے رکھا ہے۔ اِس لیے جب اُن کے مفروضہ اکابر پر تنقید کی جائےتو اِس سے اُنھیں تکلیف پہنچتی ہے۔ مگر ملت کے افراد کو اصاغر اور اکابر میں تقسیم کرنا بجائے خود ایک بدعت ہے، اور بدعت کو حدیث میں ضلالت کہا گیا ہے(مسند احمد، حدیث نمبر17144)۔ p. 472original + quote

اُسلوبِ کلام کے دو طریقے ہیں۔ ایک اصلاحی اُسلوب، اور دوسرا قانونی اُسلوب۔ دونوں کے تقاضے الگ الگ ہیں۔ اِس لیے دونوں کا انداز یکساں نہیں ہو سکتا۔ p. 473

اصلاحی اُسلوب کا مقصد کسی شخص یا اشخاص کی اصلاح ہوتا ہے۔ اِس لیے حکمت کا تقاضا ہوتا ہے کہ سارا زور کمی والے پہلو پر دیا جائے، تاکہ آدمی کا ذہن اُس کو پکڑ سکے۔ اصلاحی اُسلوب میں اگر ’’عیب مے جملہ بہ گفتی، ہنرش نیز بگو‘‘(تم نے تمام عیب بیان کردیے، اب اس کی خوبی بھی بیان کر دو)کا طریقہ اختیار کیا جائے، تو کلام بے اثر ہو کر رہ جائے گا۔ p. 473original + quote

مثلاً حضرت عائشہ سےایک بار بتایا گیا کہ ابو ہریرہ فلاں حدیث بیان کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ نے کہا كَذَبَ ‌أَبُو ‌هُرَيْرَةَ(ابو ہریرہ نے جھوٹ کہا)۔ حضرت عائشہ نے یہ انداز اختیار نہیں کیا کہ — پہلے وہ حضرت ابو ہریرہ کے تمام کارنامے بیان کریںاور اس کے بعد یہ کہیں کہ صرف ایک حدیث کے بیان میں ابو ہریرہ سے غلطی ہو گئی ہے۔ p. 473original + quote

اِس قسم کا’’متوازن‘‘طریقہ رسول نے یا اصحابِ رسول نے کبھی اختیار نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس قسم کا طریقہ متوازن طریقہ نہیں ہے، بلکہ وہ غیر مفید طریقہ ہے۔ p. 473

واضح رہے کہ قانونی اُسلوب میںمختلف پہلوؤں کا احاطہ مقصود ہوتا ہے۔ لیکن اصلاحی اُسلوب یہ ہے کہ دوسرے تمام پہلوؤں کو چھوڑ کر صرف اُس پہلو کو بیان کیا جائےجو موقع کی نسبت سے مطلوب ہے۔ یہی اصلاح یا دعوت کا صحیح اُسلوب ہے، اور یہی وہ اُسلوب ہے جس سے حقیقی نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ p. 473

سوال p. 474

میں دعوتی کام کرتا ہوں۔ مگر دعوتی کام کے دوران میں نے پایا ہے کہ کچھ لوگ لمبی لمبی بحثیں کرتے ہیں۔ میں اُن کو بہت زیادہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں، مگر وہ مطمئن نہیں ہوتے۔ ایسی حالت میں مجھ کو کیا کرنا چاہیے؟(ایک قاری الرسالہ، حیدر آباد) p. 474

جواب p. 474

اصل یہ ہے کہ جب آپ ایک شخص سے براہ راست گفتگو کریں تو اس میں آپ اور دوسرا شخص دونوں آمنے سامنے ہوتے ہیں۔ اِس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ گفتگو کے دوران ایگو پرابلم (ego problem)پیدا ہو جاتا ہے۔ p. 474

شعوری یا غیر شعوری طور پریہ احساس جاگ اُٹھتا ہے کہ میں دوسرے کی بات کیوں مانوں۔اگر میں نے دوسرے کی بات مانی تو میں اُس کے مقابلے میں چھوٹا ہو جاؤں گا۔اِس لیے دعوت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب تک آپ دیکھیں کہ گفتگو سنجیدہ انداز میں ہو رہی ہے، تو آپ اپنی گفتگو جاری رکھیں، ورنہ آپ اُس کو مطالعے کے لیےکوئی کتاب پیش کر دیں۔ آدمی جب کتاب پڑھتا ہے، تو ایک طرف وہ خود ہوتا ہےاور دوسری طرف صرف ایک کتاب، نہ کہ اُس کےجیسا کوئی انسان۔ p. 474

اِس لیے کتاب کے مطالعے میں ایگو پرابلم نہیں ہوتا۔آدمی کھلے ذہن کے تحت پڑھتا ہے اور کھلے ذہن کے تحت اس کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اِس طریقے کا نام حکمتِ دعوت ہے، اور حکمت کے بغیر دعوت کا کام مؤ ثر طور پر نہیں ہو سکتا۔ p. 475

سوال p. 475

میں آپ کے قول و فکر سے بہت متاثر رہا ہوں ۔ یہ اس بنا پر کہ میں نے آپ کی تحریر کی ہوئی باتیں آپ کے ماہنامہ الرسالہ میں پڑھی ہیں ۔ میں نے آپ کی بتائی ہوئی اچھی باتیں دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن میں نے پایا کے میرے اطراف کے لوگوں میں کچھ لوگ آپ کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے ۔ p. 475

جب میں نے ان سے وجہ دریافت کی تو وہ مجھے کوئی قابلِ قبول وجہ نہیں بتا سکے۔یہ لوگ صرف سنی سنائی باتوں کاذکر کرتے ہیں ۔ میں ان سے کہتا رہا ہوں کہ وہ خود اپنا کوئی ذاتی تجربہ یا مشاہدہ بتائیں تو وہ بتانے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس طرح میں ان کو نظر انداز کر کے خاموشی سے تعمیری سوچ اور کام میں لگا ہوا ہوں۔میرا ایک مشاہدہ آپ کے بارے میں ایسا ہوا ہے جو میری سمجھ سے غیر مناسب ہے اور آپ جیسی شخصیت سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔ p. 475

کل کے اخبار (The Hindu, Aug.7, 2009) سے معلوم ہوا کہ آپ نے اڈوانی صاحب کی لکھی ہوئی کتاب ’’میرا وطن میری زندگی‘‘کے Release Function میں شامل ہیں۔ ایک طرح سے یہ اُس شخصیت کا endorsement ہے جس کی لکھی ہوئی یہ کتاب ہے۔ اس مصنف کی جو قدریں (values) ہیں، وہ اس کے قول اور اُس سے زیادہ اس کے عمل اور کردار سے ظاہر ہوتی ہیں۔ اس بارے میں زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ p. 476

میرا تجربہ ہے اور دانش مندوں کی کہاوت ہے کہ خود غرض اور ظالم کی دوستی فائدہ مند نہیںہوتی، خواہ وہ ظالم آپ پر مہربان ہو۔ ایسے لوگوں کے دعوت نامہ کو قبول کرنے سے پہلے اچھی طرح غور کرنا چاہیے۔ اگر کسی وجہ سے ایسی دعوت قبول کرنا بھی پڑے تو ایسے موقع پر اپنی بات پوری وضاحت اور مضبوطی سے کہنا چاہیے۔ تا کہ negative values کا endorsment نہ ہونے پائے۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس معاملہ میں آپ وضاحت کریں اور میری غلط فہمی دور کریں۔(ایم اے صدیقی، کان پور) p. 476unverified

جواب p. 476

اصل یہ ہے کہ کسی واقعہ کو دیکھنے کے دو زاویے (angles) ہوتے ہیں۔ ایک مثبت زاویہ اور دوسرا منفی زاویہ۔ ایک واقعہ مثبت زاویہ سے دیکھنے میں صحیح واقعہ نظر آئے گا ۔ اسی واقعہ کو دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو وہ منفی واقعہ بن جائے گا ۔ p. 476

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صلح حدیبیہ پیش آیا ۔ اس وقت ایک صحابی حضرت عمر فاروق نے منفی زاویہ سے دیکھا تو ان کو وہ پسپائی کا ایک واقعہ نظر آیا۔ انھوں نے کہا کہ لمَ نعطِي الدَّنيَّة في دِيننا (مسند احمد،حدیث نمبر18928)۔اس کے بر عکس، اللہ نے اس کو مثبت زاویہ سے دیکھا اور قرآن میں اعلان کیا کہ یہ فتح مبین ہے (48:1)۔آپ کی غلط فہمی یہ ہے کہ آپ نے مذکورہ اجتماع میں میری شرکت کو دوستی کے زاویہ سے دیکھا اور اس کو صاحب کتاب کا endorsement سمجھ لیا۔ p. 476original + quote

آپ کے لیے صحیح یہ تھا کہ آپ اس کو دعوت کے زاویہ سے دیکھتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ مذکورہ اجتماع میں میری شرکت ایک صحیح اور باعثِ ثواب معاملہ تھا ۔ جو شخص بھی ماہ نامہ الرسالہ اور اس کا خبر نامہ باقاعدگی کے ساتھ پڑھے تو اس کو معلوم ہو گا کہ مذکورہ واقعہ کوئی استثنائی واقعہ نہ تھا، بلکہ وہ بہت سے واقعات میں سے صرف ایک واقعہ تھا۔ p. 477

میں اور میرے ساتھی دعوت الی اللہ کا مشن چلا رہے ہیں ۔ یہ مشن ایک مبنی بر لٹریچر مشن ہے۔ ہم مسلسل یہ کر رہےہیں کہ انڈیا کے اندر اور انڈیا کے باہر ہونے والے اجتماعات میں شرکت کرتے ہیں ۔ وہاں ہم لوگوں کے درمیان اسلامی لٹریچر تقسیم کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہم ہر مذہب اور ہر گروہ اور ہر پارٹی کے اجتماعات میں جاتے ہیں ۔ اگر ہم آپ کے بیان کردہ زاویے سے چیزوں کو دیکھیں تو ہم دعوت کے مواقع (opportunities) کو استعمال نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں گناہ گار ثابت ہوں گے۔ p. 477

ہمارا یہ طریقہ پیغمبر کے سنت کے عین مطابق ہے۔ حضرت یوسف نے قدیم مصر میں وہاں کے بادشاہ کے ایڈمنسٹریشن میں ایک ذمہ دار انہ عہدہ قبول کیا، حالاں کہ یہ بادشاہ ایک مشرک بادشاہ تھا۔حضرت یوسف اگر اس معاملہ کو (شرک) کے زاویے سے دیکھتے، تو بادشاہ کے ایڈمنسٹریشن (administration) میں شرکت نہ کرتے۔ مگر آپ نے اس کو اپنے دعوتی مشن کی حیثیت سے دیکھا اور قبول کر لیا۔ p. 477original + quote

اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت کے ابتدائی زمانہ میں 13 سال تک مکہ میں تھے ۔ وہاں آپ کعبہ میں جاتے اور نماز ادا فرماتے اور لوگوں کو دعوت پہنچاتے ، حالاں کہ اس زمانے میں کعبہ کی عمارت میں کھلے طور پر 360 بت رکھے ہوئے تھے ۔ اگر اس واقعہ کو منفی زاویہ سے دیکھا جائے تو وہ شرک کا انڈورسمینٹ نظر آئے گا ۔ لیکن رسول اللہ نے اس کو دعوت کے زاویے سے دیکھا۔ p. 477

آپ نے یہ فارمولا اختیار کیا کہ — بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کرو اور وہاں موجود لوگوں میں اپنا پیغام پہنچائو۔ p. 478

ہم نے اپنے دعوتی مشن میں اسی پیغمبرانہ طریقہ کو اختیار کیا ہے ۔ ہم لوگوں کو دشمن اور دوست کے اعتبار سے نہیں دیکھتے ۔ ہم ہر انسان کو صرف انسان کے روپ میں دیکھتے ہیں۔ ہر عورت اور ہر مرد کو ہم حق کا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔ p. 478

اس مقصد کے لیے ہم ہر اجتماعی موقع پر جاتے ہیں۔ ہمارے پاس قرآن کا ترجمہ اور دوسری اسلامی کتابیں ہوتی ہیںان کو ہم ایک ایک شخص تک پہنچاتے ہیں ۔ مذکورہ اجتماع میں پورے انڈیا کے تقریباًتمام ٹاپ کے کٹر ہندو لیڈر موجود تھے ۔ ہمارے ساتھیوں نے بڑے پیمانے پر قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر اُن لوگوں کو مطالعے کے لیے دیا۔ p. 478

حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ النَّاسُ ‌أَعْدَاءُ مَا جَهِلُوا(لوگ اس کے دشمن ہوتے ہیں جس کو وہ نہیں جانتے)کی مثال ہے۔ جو لوگ دعوت کے فرض سے غافل ہیں ، جو یہ نہیں سمجھتے کہ مسلمان کا دوسرے انسانوں سے تعلق داعی اور مدعو کا تعلق ہے، وہ اس معاملے میں غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں ۔ وہ انسانوں کو دوست اور دشمن کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ وہ کسی کو اپنا اور کسی کو غیر سمجھتے ہیں۔وہ کسی سے محبت کرتے ہیں اور کسی سے نفرت۔ ایسے لوگ ایک داعی کی پوزیشن کو سمجھ نہیں پاتے۔ آپ کو چاہیے کہ آپ ہمارے بارے میں کسی انگریزی یا ہندی اخبار میں ایک خبر پڑھ کر رائے نہ بنائیں بلکہ خود ہماری تحریروں کو پڑھ کر ہمارے بارے میں رائے بنائیں۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ کو کبھی مذکورہ قسم کی غلط فہمی نہیں ہوگی۔ p. 478original + quote

سوال p. 478

مولانا صاحب ، میں نے آپ کی آن لائن کافی تقریریں سنی ہیں۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں ، ہم اپنی اصلاح کا سفر کہاں سے شروع کریں ۔ پاکستان کے حالات میں آپ ہماری اصلاح کے لیے کیا رہنمائی تجویز فرمائیں گے۔ (بشریٰ عامر، پاکستان) p. 479

جواب p. 479

سب سے پہلے آپ یہ کیجیے کہ اپنے اندر مکمل معنوں میں مثبت ذہن کی تعمیر کریں، ایک ایسا ذہن جو منفی سوچ سے پوری طرح خالی ہو۔ p. 479

اِس کے بعد دوسرا کام یہ ہے کہ آپ افراد کی سطح پر دوسروں میں بھی مثبت سوچ والے انسان بنانے کی کوشش کریں، اور جب آپ کو ایسے کچھ ساتھی مل جائیں تو ہفتے وار اجتماع کی شکل میں اُن کو منظّم کرنے کی کوشش کریں۔ p. 479

میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ حقیقت پسند (realist)بنیں، رومانی تصورات میں جینے کی ہرگز کوشش نہ کریں۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ آپ امت کے ماضی کی عظمت کے خول سے مکمل طور پر باہر آ جائیں، ورنہ آپ کے لیے کبھی بھی اپنی اصلاح ممکن نہ ہو گی۔ p. 480

سوال p. 480

کہا جاتا ہے کہ امریکا اور افغانستان کی جنگ میں امریکا ناکام ہو گیا اور افغانستان جیت گیا ۔وہ اس طرح کہ اگر دو فریقوں کی جنگ میں ایک فریق کے لیے جنگ منفی نتائج کا سبب ہوتی ہے تو اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ دوسرے فریق کے لیے وہ جنگ یقینی طور پر مثبت نتائج کا سبب بن رہی ہے۔ p. 480original + quote

یہ بات امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر کے اِس بیان کی روشنی میں کہی جاتی ہے کہ امریکا جو کچھ افغانستان میں کر رہا ہے، وہ سب اُس کے لیے الٹے نتیجوں کا ہی سبب بن رہا ہے۔ p. 480

براہِ کرم ، اِس معاملے کی وضاحت فرمائیں۔(عبدالباسط عمری، قطر ) p. 480

جواب p. 481

افغان جنگ کے بارے میں امریکی افسر نے جو بات کہی، وہ صرف ایک جنگی تبصرہ ہے، اِس سے وہ نتیجہ ہر گز نہیں نکلتا جو مذکورہ قسم کے لوگ اُس سے نکال رہے ہیں۔ کوئی بھی منفی تبصرہ ، مثبت نتیجے کا سبب نہیں بن سکتا ۔ p. 481

امریکا نے جب عراق اور افغانستان پر ہوائی حملے کیے ، تو اس کا مقصد اصلاً القاعدہ کا زور توڑنا تھا، اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت (2011ء) کے بعد یہ مقصد ایک حد تک حاصل ہو چکا ہے۔ لیکن امریکی قائدین کو غالباً اِس کا اندازہ نہ تھا کہ اُن کے اقدام سے القاعدہ کی طاقت تو کمزور ہو سکتی ہے، لیکن اس اقدام کے ردعمل میں امریکا کے خلاف مسلمانوں میں جو نفرت پیدا ہو گی ، اس کا کوئی توڑ ممکن نہ ہو گا۔ p. 481

امریکی افسر نے جو کچھ کہا وہ صرف امریکی قائدین کے غلط اندازے کو بتاتا ہے۔ اُس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اِس جنگ میںا فغانستان کی جیت ہوئی ہے، واقعات بتاتے ہیں کہ افغانستان کی اقتصادی طاقت بالکل تباہ ہو گئی ہے۔ افغانستان کی تعمیر و ترقی کا کام بالکل رکا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ افغانی لوگوں میں آپس کی جنگ چھڑ گئی ہے۔ یہ واقعات افغانستان کی تباہی کو بتاتے ہیں، نہ کہ اس کی جیت یا کامیابی کو۔اِس معاملے میں جہاں تک اسلامی نقطۂ نظر کا تعلق ہے، اسلام میں وہی اقدام مثبت اقدام ہے جو مثبت نتیجہ بر آمد کرنے والا ہو۔فریقِ ثانی کے نقصان پر خوش ہونا اسلام کا طریقہ نہیں۔ p. 481original + quote

اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق، قابلِ لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ اِس جنگ میں امریکا کو کچھ نقصان پہنچا، اصل قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ افغانستان بدستور پچھڑا ہوا ایک ملک ہے، وہ تعمیر و ترقی کے راستے میں آگے نہ بڑھ سکا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اب بھی بدستور اپنے بیٹوں کوامریکا بھیج رہے ہیں، کوئی بھی شخص اپنے بیٹوں کو افغانستان بھیجنے کے لیے تیار نہیں۔ p. 481

سوال p. 482

آپ نے کشمیر کی نسبت سے کافی لکھا ہے ۔ یہ کشمیریوں کے ساتھ آپ کی خیر خواہی کی دلیل ہے۔ آپ نے’’کشمیرمیںامن‘‘ (Peace in Kashmir) اور’’صبحِ کشمیر‘‘ (The Dawn over Kashmir) نام کی کتابوں کو تحریر کر کے کشمیریوں کو صحیح رہنمائی دی ہے۔ ایک اگرhistorical document ہے تو دوسری ideological document ہے۔ دونوں تحریروں میں تاریخ اور مذہب کی حقیقی تصویر پیش کی گئی ہے۔ p. 482

میں کشمیر کے gun culture میں جوان ہوا ، لہٰذا میں کشمیر کے صوفی کلچر سے عملاً بےخبر ہوں ۔ البتہ میرے والد بتاتے ہیں کہ ’’میں جب اپنے بچپن کو یاد کرتا ہوں تو کشمیر کی موجودہ صورت حال مجھے ایک خواب نظر آتی ہے۔ جب گاؤں میں ہمارا کوئی مہمان آتا تھا تو اس کی تواضع کے لیے ہم مرغ ذبح کرتے تھے، لیکن مرغ ذبح کرنے کے لیے ہمیں مشکل ہی سے کوئی آدمی ملتا تھا ۔ اکثر لوگوں کے پاس چاقو تک نہ ہوتا تھا۔ لوگ جانور کو مارنے سے کتراتے تھے، کسی انسان کو تکلیف دینے کو تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا‘‘۔ p. 482original + quote

ایک روز میں نے کیڑے مار دوا چھڑکی ۔ صبح کو میرے والد نے مجھے بلایا ۔ مرے ہوئے کیڑے مکوڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا— یہ قتل ہے۔ p. 482

میں اِس رحم دلی کے مزاج کو یاد کر کے آج روتا ہوں ۔ یہ ایک شخص کی کہانی نہیں ، بلکہ یہی کشمیریوں کی فطرت تھی جس کو عرف عام میں ہم ’’کشمیریت‘‘سے یاد کرتے ہیں۔ p. 483

جہاں تک میں نے آپ کے لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے ، کشمیر کی نسبت سے آپ کا مشن کشمیر کو دوبارہ اپنی فطری حالت پر لانا ہے، تا کہ ہم دنیا کو امن و سلامتی (اسلام) کا پیغام دے سکیں۔ برائے مہربانی مزید رہنمائی سے نوازیں۔(انجینئرسید عابد حسین، بڈگام، کشمیر) p. 483original + quote

جواب p. 483

کشمیر کا مسئلہ ہو یا اس قسم کے دوسرے مسائل ، ہر ایک کا سبب صرف ایک ہے، وہ یہ کہ لوگ محدود طور پر صرف اُس مسئلے کو لے کر سوچتے ہیں جس سے وہ عملاً دوچار ہیں۔ وہ اُن مسائل سے اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتے۔ یہ اوپر اٹھ کر سوچنا ۔وہی چیز ہے جس کو قرآن میں خلقِ عظیم (68:4) کہا گیا ہے۔ خلق عظیم کا لفظی مطلب ہے بر تر کردار ، لیکن بر تر کردار بر تر آئڈیالوجی سے پیدا ہوتا ہے۔بر تر آئڈیالوجی نہیں تو بر تر کردار بھی نہیں۔ p. 483original + quote

مومن کے لیے بر تر آئڈیالوجی صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی دوسری چیزوں کو لے کر سوچنے کے بجائے اللہ رب العالمین کو لے کر سوچے ۔ اس کے اندر خدا رخی سوچ (God oriented thinking ) آ جائے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے اندر خدا رخی سوچ نہیں ، وہ صرف اپنے معاشی اور سیاسی مسائل کو جانتے ہیں۔ p. 483

ان کی موجودہ سوچ اسی بنیاد پر بنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان اللہ کی نصرت سے محروم ہو گئے ہیں۔ ان کے پاس صرف شکایت کی زبان ہے، ان کے پاس شکر کی زبان نہیں۔ p. 484

موجودہ زمانے میں عالمی سطح پر مسلمانوں کے دو بڑے مسئلے ہیںکشمیر کا مسئلہ اور فلسطین کا مسئلہ ۔ غیر معمولی قربانیوں کے باوجود یہ دونوں مسئلے عملاً لا ینحل مسئلے بنے ہوئے ہیں۔ اِن دونوں مسائل کا حل اگر موجودہ قسم کی کوششوں سے ممکن ہوتا تو اب تک وہ ہو چکا ہوتا۔ لیکن 60سال سے زیادہ مدت کی غیر معمولی کوششوں کے باوجود یہ دونوں مسئلے کسی بھی درجے میں حل نہیں ہوئے۔ p. 484

ایسی حالت میں کشمیریوں اور عربوں دونوں کو چاہیے کہ وہ اپنی سوچ کو بدلیں ۔ اس کے سوا، ہر دوسری تدبیر صرف نقصان میں اضافہ کرے گی ، وہ کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی نہیں۔ p. 484

کشمیر کے مسلمان اب تک دو چیزوں کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے تھے، آزاد کشمیر یا پاکستانی کشمیر۔ مگر یہ دونوں نشانے قومی سوچ پر بنے ہیں ، نہ کہ خدائی سوچ پر۔ صحیح یہ ہے کہ کشمیر کے مسلمان اپنی سوچ پر نظر ثانی کریں اور یہ کہیں کہ ہمارا نشانہ نہ آزاد کشمیر ہے اور نہ پاکستانی کشمیر ،ہمارا نشانہ صرف خدائی کشمیر (divine Kashmir) ہے۔ خدائی کشمیر کو اپنا نشانہ بنانے کا مطلب ہے، خدا والی سوچ کے تحت اپنے عمل کا نقشہ بنانا۔ p. 484

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مکہ میں ہوئی تو آپ نے وہاں یہ اشو نہیں کھڑا کیا کہ مکہ سیاسی طور پر کس کے قبضے میں ہو۔ اس کے بر عکس ، آپ نے یہ کیا کہ صورتِ موجودہ (status quo)کو تسلیم کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا کام شروع کر دیا ۔ p. 485original + quote

کشمیریوں کو بھی اِسی نہج پر کام کرنا ہے۔ کشمیریوں کو یہ کرنا ہے کہ جموں و کشمیر میں جو سیاسی اسٹیٹس کو (political status quo) بن گیا ہے وہ اُس سے ٹکراؤ نہ کریں بلکہ اس کو تسلیم کرتے ہوئے وہ اپنی ساری کوشش پُر امن دعوت الی اللہ کے کام میں لگا دیں۔ p. 485

یہی وہ سنت ہے جو عربوں کو فلسطین میں اختیار کرنا ہے ۔ فلسطین میں عربوں کے کرنے کا واحد کام یہ ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف اپنی متشددانہ تحریک کو مکمل طور پر ختم کر دیں ۔ وہ یک طرفہ طور پر ٹکراؤ کی پالیسی کو چھوڑ دیںاور اپنی ساری طاقت پر امن دعوت میں لگا دیں۔ فلسطین میں دعوت الی اللہ کےعظیم مواقع ہیں ، اسرائیل کے درمیان بھی اور سیاحوں (tourists) کے درمیان بھی، جو دنیا بھر سے بکثرت روزانہ فلسطین کے علاقے میں آتے ہیں۔ p. 485

دعوت الی اللہ کا کام اہلِ ایمان کا اصل مشن ہے ۔ اسی مشن کی ادائیگی پر اُن کو اللہ کی نصرتیں حاصل ہوں گی۔ موجودہ زمانے کے مسلمان جن چیزوں کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں ، اُس مسئلے کا حل اللہ کی نصرت کے ذریعے ممکن ہے، نہ کہ محض ذاتی کوشش کے ذریعے، اور اللہ کی نصرت صرف اُن لوگوں کو ملتی ہے جو دعوت الی اللہ کا کام کریں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن کی اِس آیت میں بتایا گیا ہے وَلَیَنصُرَنَّ اللہُ مَن یَّنصُرُہ (22:40)۔ یعنی، اور اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے۔ p. 485original + quote

سوال p. 485

میں ایک طالب علم ہوںاور جدید تعلیم حاصل کر رہا ہوں لیکن اِسی کے ساتھ دینی معلومات بھی حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ ڈیڑھ سال پہلے میں نے آپ کا نام سنا تھا لیکن جن کے ذریعے آپ کا تعارف ہوا انہوں نے آپ کا کوئی مثبت ذکر نہیں کیا بلکہ دلخراش واقعات سنائے جو کہ میرے لیے باعث تشویش رہے کہ کیا دین اسلام کا داعی اس قسم کی باتیں کہہ سکتا ہے، کیا ایسا ممکن ہے ؟ p. 486unverified

آپ کے حقیقی تعارف کے بغیر میں ہر وقت شش و پنج میں رہتا تھا۔ پھر میں نے فیصلہ کیا کہ ان باتوں کی حقیقت کو جاننے کے لیے از خود آپ کی کتابوں کا مطالعہ کروں ۔ آخر کار اپنے ایک عزیز کی وساطت سے میں نے آپ کی ایک کتاب’’کاروانِ ملت‘‘ خریدی۔ کتاب مذکور میں ان سب سوالوں کا جواب تھا جس کی وجہ سے میں پریشان ہو چکا تھا ۔ وہ منفی تاثرات جو آپ کے متعلق مجھے بتائے گئے تھے ، وہ سب گمراہ کن لگے ۔ بعد میں آپ کی کتابوں کا مطالعہ میرے روزمرہ کے شیڈول کا ایک جزء بن گیا ۔میں نے جن کتابوں کا مطالعہ کیا ان میں یہ کتابیں قابلِ ذکر ہیں کتابِ معرفت، عظمتِ اسلام، تعمیر انسانیت، دعوتِ اسلام The Quran for all Humanity, Creation plan of God ، وغیرہ۔ p. 486

اب میں اس خدا کا شکر کرتا ہوں جس کے دست قدرت میں میری جان ہے کہ میرے خدا کی طرف سے یہ سب ممکن ہواکہ میں روحِ دین کو سمجھنے کی کوشش کروں ۔ اِس ’’عُسر‘‘ کے دور میں’’یُسر‘‘ کا ایک موقع مجھے ضرور ملا جس کو میں نے استعمال کیا۔ آپ کی کچھ باتیں جن کی وجہ سے میری زندگی میں بدلاؤ آیا، وہ مفہوم میں کچھ اس طرح ہیں  p. 486

۝غیر مسلم ہمارے دشمن یا حریف نہیں بلکہ وہ ہمارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہذا ہمیں ان سے داعی اور مدعو کا رشتہ قائم کرنا ہو گا ۔ p. 486

۝یک طرفہ طور پر دکھ درد کو برداشت کر کے ہی ہم اسلام کا پیغامِ امن ان تک پہنچا سکتے ہیں ۔ p. 487

۝ دینِ سلامتی کو دینِ قتل نہ بنائیں ۔ دینِ امن کو دینِ جنگ و جدال نہ بنائیں۔ p. 487

۝گمراہ کن نعروں سے مسلمانانِ دنیا کے جان، مال اور آبرو کو مباح نہ بنائیں۔ p. 487

۝دعوت کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہنا، وغیرہ وغیرہ۔ p. 487

ان جیسی اہم باتوں نے مجھے آپ کی فکر کو اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ اِس دوران میرے ذہن میں بہت سے اشکالات رہے جن کے جوابات جاننا میرے لیے ضروری ہو گیا۔ p. 487

امید ہے کہ آپ اپنی حد درجہ مشغولیت کے باوجود ذیل کی باتوں میں میری رہنمائی فرمائیں گے p. 488

1۔اسلامی حکومت کے قیام کے لیے کیا لائحہ عمل اپنانا ہوگا؟ p. 488

2۔قرون اول میں جو فتوحات ہوئیں ،مثلاً مصر، روم ، ایران وغیرہ ، ان کو دفاعی جنگ (defensive war) کہنا کیسے ممکن ہے؟ p. 488

3۔’’نہی عن المنکر‘‘ غیر اسلامی حکومت کے اندر کیسے کیا جائے؟ p. 488

4۔دفاعی طریقہ کار سے کیا آج کے دور میں ہم کسی ملک کو زیر کر سکتے ہیں؟ p. 488

(احمدوانی ،کشمیر) p. 489

جواب p. 489

کسی کے بارے میں رائے قائم کرنا ، ایک بے حد سنگین بات ہے ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ متعلق شخص کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کرے ، اور پھر معلومات کے مطابق وہ اپنی رائے بنائے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میرے پاس اتنا وقت نہیں تو اس کو یہ جواب دیا جائے گا کہ پھر آپ کے اوپر فرض ہے کہ آپ ایسے شخص کے بارے میں کوئی رائے نہ بنائیں ، بلکہ خاموشی کا طریقہ اختیار کریں ۔ p. 489

آدمی کے اوپر یہ فرض نہیں ہے کہ وہ ہر شخص کے بارے میں ضرور کوئی رائے بنائے۔ لیکن اگر اس کو کسی شخص کے بارے میں اپنے رائے کا اظہار کرنا ہے تو اس پر فرض ہو جاتا ہے کہ پہلے وہ براہِ راست طور پوری معلومات حاصل کرے ،اور اس کے بعد متعلق شخص کے بارے میں اپنی رائے قائم کرے۔ جہاں تک مذکورہ سوالات کا تعلق ہے۔ یہ سوالات ہماری کتابوں میں زیرِ بحث آ چکے ہیں ۔ آپ نے مطالعے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے ، اس کو جاری رکھیے، ان شاء اللہ آپ کو تشفی حاصل ہو جائے گی۔ p. 489

سوال p. 490

2015ء سے میں ماہ نامہ الرسالہ کا قاری ہوں۔ آپ کی کتابیں بالخصوص پیغمبر انقلاب، غیر ملکی اسفار، وغیرہ کا مطالعہ کر چکا ہوں۔ پوسٹ گریجو یشن میں تاریخ خصوصی مضمون ہے۔ ایم اے کے دوران آپ کے مضمون تاریخِ انسانی کے مطالعے سے تاریخ کے متعلق مستفید ہوا۔ عالمی منظر نامے سے واقفیت رکھنے کے لیے Indian Expressپڑھتا ہوں۔ p. 490

انسانی تاریخ کے مختلف مراحل کو ذہن میں رکھ کر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ کا مشن صلح حدیبیہ پر اتفاق، صبر و ضبط کا فارمولاہی انسانی زندگی اور اس کی بقاء اور ارتقاء کے لیے لازم ہیں۔ اس دورِ انسانی میں، جس میں ہم جی رہے ہیں، آپ حالات کی سنگینی سے زیادہ واقف ہیں۔ایسے وقت میں جب کہ لوگ اسلام کے نام پر، اسلام کواس طرح پیش کر رہے ہیں جو اسلام کی تعلیمات کے منافی ہیں، صلح حدیبیہ ماڈل کو سامنے رکھ کر مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ صبر و ضبط اپنی جگہ، ان کی غلط فہمی رفع کرنے کے لیے کس راستے کا انتخاب کیا جائے؟(محمد اسماعیل اشفاق احمد، مسلم پورہ، مالیگاؤں) p. 490unverified

جواب p. 490

ہمارا لٹریچر پورا کا پورا اِسی سوال کا جواب ہے۔ آپ نے ابھی صرف چند کتابیں پڑھی ہیں، اس لیے آپ کو یہ شک پیدا ہوا۔ اگر آپ تمام کتابیں پڑھیں، اور اسی کے ساتھ ہمارا ماہ نامہ الرسالہ(اردو) اور اسپرٹ آف اسلام(انگریزی) کا مطالعہ جاری رکھیں تو آپ کے تمام سوالا ت رفع ہو جائیں گے، ان شاءاللہ۔اصل یہ ہے کہ عام طور پر لوگ وقتی مسائل میں الجھے رہتے ہیں۔ لوگوں کا یہی مزاج ہے جو لوگوں کے اندر ردّ عمل (reaction)کی نفسیات پیدا کرتا ہے۔ p. 490

ردّ عمل کی نفسیات مزید بڑھ کر نفرت کی نفسیات بن جاتی ہے۔ اور نفرت کی نفسیات آخرکار لوگوں کو تشدد تک پہنچا دیتی ہے۔لوگوں کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ اگر وہ فعال تشدد (active violence)میں مبتلا نہ ہوں تب بھی وہ منفعل تشدد (passive violence)کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس نفسیات کا سب سے زیادہ برا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ مثبت سوچ سے محروم ہو جاتے ہیں۔ حالاں کہ مثبت سوچ ہی تمام ترقیات کا اصل زینہ ہے۔ p. 491

سوال p. 491

یہاں ہمارے ساتھی اِس بات سے منفی (negative) ہو رہے ہیں کہ وہ دعوتی کام کرتے ہیں، لیکن لوگ تبدیل نہیں ہوتے ہیں۔ اِس کا حل کیا ہو، اور اپنے دعوتی ساتھیوں کو کیسے سمجھایا جائے؟(طارق بدر، پاکستان) p. 491

جواب p. 491

جو لوگ دعوت کے معاملے میں اس طرح کی منفی بات کہتے ہیں، اُن کو قرآن کا مطالعہ کرنا چاہیے۔قرآن میں نبیوں کا تذکرہ ہے۔ انبیاء وہ لوگ ہیں، جو دعوت کے معیاری ماڈل تھے۔ انہوں نے جب لوگوں کے سامنے دعوت پیش کی تو اکثریت نے منفی ردّ عمل کا اظہار کیا۔ چنانچہ قرآن میں اس تجربے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہےيٰحَسْرَةً عَلَي الْعِبَادِ ڱ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ (36:30)۔یعنی، افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی اُن کے پاس آیا، وہ اُس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ دعوت کے مقابلے میں منفی ردّ عمل کے باوجود انبیاء اپنا دعوتی کام کرتے رہے۔ انہوں نے لوگوں کی شکایت نہیں کی، اور نہ اپنا دعوتی کام چھوڑا۔ p. 492original + quote

اِس کا سبب یہ تھا کہ انبیاء جو دعوتی کام کرتے تھے، وہ مدعو کے لیے نہیں کرتے تھے، بلکہ اللہ کے لیے کرتے تھے۔ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء دعوت کے کام میں ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اِس لیے جو لوگ دعوت کا کام کریں، اُن کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اِس ماڈل کو اپنے سامنے رکھیں۔ مثلاً پیغمبر اسلام آخری پیغمبر ہیں۔ آپ کی مثال بتاتی ہے کہ دعوت کا ایک اصول — ری پلاننگ ہے۔ مکی دور کا طریقہ مؤ ثر نہیں ہوا ، تو آپ نے دعوت کا دوسرا منصوبہ بنایا، اور یہ دوسرا منصوبہ اتنا زیادہ کامیاب ہوا کہ پوری قوم نے اُن کی دعوت کو قبول کرلیا۔ اِس نمونے سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کا ایک اصول ری پلا ننگ ہے۔ اگر ایک طریقہ (method) مؤ ثر نہ ہو، تو داعی کو چاہیے کہ وہ دوسرے طریقہ کا تجربہ کرے۔ عین ممکن ہے کہ دوسرا طریقہ اللہ کی مد د سے کامیاب ثابت ہو۔ p. 492