Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
صبر، بے صبری p. 212
کسی آدمی کے ساتھ آپ کا مسئلہ پیدا ہو تو ایک صورت یہ ہے کہ آپ خود اس کے حل کی ذمہ داری قبول کریں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ مسئلہ کے حل کی ذمہ داری دوسرے آدمی کے اوپر ڈالیں۔ پہلا طریقہ صبر کا طریقہ ہے، اور دوسرا طریقہ بے صبری کا طریقہ ۔ p. 212
صبر کا مطلب خود ذمہ داری قبول کرنا ہے ، اور بےصبری کا مطلب دوسرے کے اوپر ذمہ داری ڈالنا۔ یہی مختصر الفاظ میں صبر اور بے صبری کا خلاصہ ہے۔ p. 212
صبر آدمی کے اندر مثبت نفسیات پیدا کرتی ہے۔ صبر والا آدمی پیش آمدہ صورت حال کو چیلنج سمجھتا ہے اور اس سے مقابلہ کر کے اس کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنی ساری طاقت کو محنت اور عمل کی طرف موڑ دیتا ہے۔ وہ اپنے وقت کا ہر لمحہ اور اپنے اثاثہ کا ہر ذرہ تعمیر کے راستوںمیں لگاتا ہے۔ نئے حالات کا جھٹکا اس کو از سرِ نو بیدار کر دیتا ہے، بھر پور جدوجہد کے ذریعہ وہ مزیداضافہ کے ساتھ اپنی غلطیوں کی تلافی کر لیتا ہے۔ p. 213
اس کے برعکس، بے صبر آدمی کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کی پوری سوچ منفی ہو جاتی ہے۔ اس کا ذہن احتجاج اور شکایت کے رخ پر چل پڑتا ہے۔ وہ اپنے اثاثہ کو تعمیر خویش کے بجائے تخریب غیر کے محاذ پر لگا دیتا ہے ، وہ اپنی کمی کو دور کرنے کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ دوسرے کو غلط ثابت کرنے کو کام سمجھ کر اس میں مصروف ہو جاتا ہے۔ پہلے اگر وہ اپنی بے عملی سے محروم ہوا تھا ،تو اب وہ غلط عمل کی بنا پر اپنے کو مزید محروم کرلیتا ہے۔ p. 213
صبر کا مطلب سوچ کراقدام کرنا ہے اور بے صبری کا مطلب بے سوچے سمجھے اقدام کرنا۔ صبر منصوبہ بندعمل ہےاور بے صبری عجلت کی کارروائی۔ صبر حالات کا اندازہ کر کے حالات سے نپٹنا ہے اور بے صبری حالات کا اندازہ کیے بغیر حالات میں کو دپڑنا۔ صبر دانش مندانہ تدبیر ہے اور بے صبری جذباتی ہنگامہ آرائی۔صبر انجام کار کو ملحوظ رکھتے ہوئے متحرک ہونا ہے اور بے صبری انجام کار سے بے پروا ہو کرحرکت میں آجانا۔ p. 213
صبر گویا اپنے ساتھ دوسروں کو بھی جاننا ہے اور بے صبری گویا صرف اپنے آپ کو جاننا۔ پہلا آدمی ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے اور دوسرا آدمی ہمیشہ ناکام ۔ p. 213