Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
صبر کی تعلیم p. 138
ایک مغربی مبصّرولیم پیٹن(William Paton) نے لکھا ہے کہ اسلام کا ایک پھل انسانیت کے لیے یہ رہا ہے کہ اس نے لوگوں میں شدید اور مستقل صبر پیدا کیا ۔ صبر کی یہ کیفیت ان میں اللہ کی کامل اطاعت سے پیدا ہوئی p. 139other source
One of the fruits of Islam has been that stubborn, durable patience which comes of the submission to the absolute will of Allah. p. 139
یہ تبصرہ نہایت درست ہے۔ اسلام میں صبر کی بے حداہمیت ہے۔ قرآن کی بیشتر آیتیں،براہ ِراست یا بالواسطہ طور پر، صبر ہی سے متعلق ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر کی صفت ایک ایسی صفت ہے جس کے بغیر ایمان واسلام کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ p. 139
موجود ہ دنیا اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں بار بار آدمی کوناخوشگوار تجربات سے سابقہ پیش آتا ہے ،گھر کے اندر بھی اور گھر کے باہر بھی ۔ اب اگر آدمی ہر ایسے موقع پر لوگوں سے اُلجھ جائے تو وہ انسانی ترقی کی طرف زیادہ آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ اس لیے اسلام میں صبر کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ تاکہ آدمی ناخوش گوار یوں کونظرانداز کرتے ہوئے مقصد ِاعلیٰ کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھ سکے۔ p. 139
قرآن میں بار بار صبر کی تاکید کی گئی ہے۔مثلاً فرمایا کہ جو مصیبتیں تمہارے اُوپر پڑیں ان پر صبر کرو (31:17) صبر کرو، اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (8:46)۔ فرمایا کہ گھاٹے سے محفوظ رہنے والے لوگ وہ ہیں جو ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کریں اور ایک دوسرے کوصبر کی نصیحت کریں( 103:3)۔ p. 139original + quote
اسی طرح حدیث میں کثرت سے صبر کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَاصْبِرُوا(مسنداحمد، حدیث نمبر10008)۔ یعنی، سنواور مانو اور صبر کرو۔ آپ نے فرمایا فَأَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ بِالصَّبْرِ وَالْعَفْوِ(سنن ابی دائود ، حدیث نمبر3000)۔ یعنی، اللہ نے صبر اور عفوو درگزر کا حکم دیا ہے۔ ایک صحابی کہتے ہیں وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يَعْفُونَ عَنِ المُشْرِكِينَ، وَأَهْلِ الكِتَابِ، كَمَا أَمَرَهُمُ اللهُ، وَيَصْبِرُونَ عَلَى الأَذَى(صحیح البخاری ،حدیث نمبر4566 )۔ یعنی، رسول اور اصحاب ِرسول مشرکین اور اہل کتاب سے درگزر کرتے تھے، جیسا کہ اللہ نے ان کو حکم دیا تھا۔ اور ان کی ایذاؤں پرہمیشہ صبر کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر اسلامی عمل کی بنیاد ہے۔ فتنوں اور آزمائشوں کی اس دنیا میں صبر کے بغیر کوئی آدمی اسلامی کردار پرقائم نہیں رہ سکتا۔ p. 140original + quote
صبر p. 140
صبر کا مطلب ہے رکنا، اپنے آپ کو تھا منا۔ انسان کا مقصد یہ ہے کہ وہ اونچے آدرشوں کے مطابق دنیا میں زندگی گزارے۔ مگر دنیا میں قدم قدم پر ایسی ناپسندیدہ باتیں سامنے آتی ہیں جو آدمی کو بھڑکا دیں جو آدمی کے نشانہ کو اصل مقصد سے ہٹا کر دوسری طرف کر دیں ۔ p. 140
ایسی حالت میں آدمی اگر ایسا کرے کہ وہ ہر بھڑکنے والی بات پر بھڑک اٹھے، وہ ہر نا موافق چیز سے الجھ جائے تو وہ اپنے مقصد کی طرف اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ وہ غیرمتعلق چیزوں میں الجھ کر رہ جائے گا۔ p. 140
اس مسئلہ کا واحد حل صبر ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو جب کسی کڑوے تجربہ سے سابقہ پیش آئے تو وہ بھڑک اٹھنے کے بجائے برداشت کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ جھٹکے کوسہتے ہوئے سچائی کے راستہ پر آگے بڑھ جائے ۔ p. 141
یہ صبر ایک طرف باہر کی دنیا میں پیش آنے والے مسائل کا عملی حل ہے۔ دوسری طرف وہ آدمی کے لیے اپنی شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔ صبر نہ کرنے والے کی شخصیت منفی رحجانات کے درمیان پرورش پاتی ہے، اور جو آدمی صبر کر لے اس کی شخصیت مثبت رجحانات کے درمیان پرورش پانے لگتی ہے ۔ p. 141
صبر پسپائی نہیں ہے۔ صبر کا مطلب جوش والے راستہ کو چھوڑ کر ہوش والے راستہ کی طرف اقدام کرنا ہے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی نازک مواقع پر اپنے جذبات کو تھا مے۔ وہ اپنی عقل کو استعمال کر کے زیادہ مفید سمت میں اپنے عمل کا میدان تلاش کرلے ۔ p. 141
موجودہ دنیا اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں ہر شخص کو لازماً نا خوش گوار باتوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ناقابل مشاہدہ مناظر اس کے سامنے آتے ہیں ۔ اس کو ناقابل سماعت آوازیں سننی پڑتی ہیں۔ ایسی حالت میں الجھاؤ کا طریقہ اختیار کرنے کا نام بے صبری ہے اور اعراض کا طریقہ اختیار کرنے کا نام صبر۔ موجودہ دنیا میں کامیابی صرف ان لوگوں کے لیے مقدر ہے جو نا خوش گوار مواقع پر صبر کا طریقہ اختیار کریں ۔ p. 141