Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
برتر کامیابی p. 340
موجودہ دنیا میں اعلیٰ درجہ کا کام انجام دینے والا (Super achiever)بننے کےلیے کسی طلسماتی صلاحیت کی ضرورت نہیں۔ ایک اوسط درجہ کا آدمی بھی انتہائی اعلیٰ درجہ کی کارکردگی کا ثبوت دے سکتا ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ آدمی زندگی کی سادہ حقیقتوں کو جانے اور ان کو استعمال کرے۔ (ریڈرز ڈائجسٹ، اکتوبر 1986) p. 340original + quote
ایک امریکی مصنف نے باقاعدہ طور پر اس کی تحقیق کی۔ اس کا کہنا ہے کہ تجارت، سیاست، سپورٹس اور آرٹ کے میدان میں اس نے 90 ممتاز افراد سے رابطہ کیا۔ ان کی اکثریت نے ناکامی کو ’’غلط آغاز‘‘کا نتیجہ قرار دیا۔ مایوسیاں ان کے لیے زیادہ طاقتور ارادہ کا سبب بن گئیں۔ حالات خواہ کتنے ہی خراب ہوں، اعلیٰ درجے کا کام انجام دینے والے ہمیشہ محسوس کرتے ہیں کہ یہاں کچھ نئے گوشے ہیں جن کو وہ دریافت کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس ہمیشہ کوئی نیا تصور ہوتا ہےجس کا وہ دوبارہ تجربہ کریں p. 340other source
In a study of 90 leaders in business, politics, sports and the arts, many spoke of “false starts” but never of “failure”. Disappointment super greater resolve. No matter how rough things get, super-achievers always feel there are other avenues they can explore. They always have another idea to test. p. 340
اگر آپ ناکامی سے دوچار ہوں اور اس ناکامی کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دیں تو آپ کے اندر عمل کا جذبہ ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ آپ صرف دوسروں کے خلاف احتجاج اور شکایت میں مشغول رہیں گے اور خود کچھ نہ کر سکیں گے۔ لیکن اگر آپ اپنی ناکامی کو خود اپنی غلط کارکردگی کا نتیجہ سمجھیں تو آپ کا ذہن نئی زیادہ بہتر تدبیر سوچنے میں لگ جائے گا۔ آپ سُست پڑنے کے بجائے مزید پہلے سے زیادہ متحرک ہو جائیں گے۔ آپ از سرِ نو جدوجہد کر کے ہاری ہوئی بازی کو دوبارہ شاندار تر شکل میں جیتنے میںکامیاب ہو جائیں گے۔ p. 341
ناکامی کی ذمہ داری خود قبول کیجئے۔ ایک تدبیر کارگر نہ ہو رہی ہو تو دوسری تدبیر کا تجربہ کیجئے۔ آپ یقیناً اعلیٰ کامیابی تک پہنچ جائیں گے۔ p. 341