Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
کامیابی کی قیمت p. 226
ایک طالب علم کے سر پرست کالج کے پرنسپل سے ملے۔ p. 227
’’ آپ لوگوں نے جو تعلیمی نصاب بنایا ہے وہ بہت لمبا ہے۔ طالب علم کی عمر کا ایک بڑا حصہ صرف پڑھنے میں گزر جاتا ہے ‘‘ انھوں نے کہا ۔ p. 227other source
’’ اس کا حل تو بہت آسان ہے ‘‘ پرنسپل نے جواب دیا ۔ p. 227
’’ وہ کیسے ‘‘ p. 227
’’ آپ مختصر نصاب بھی بنا سکتے ہیں۔ اصل میں مدت کا تعلق اس بات سے ہے کہ آپ طالب علم کے اندر کیسا علمی معیار چاہتے ہیں۔ قدرت کو شاہ بلوط (Oak) کا درخت اگانے میں سو برس لگ جاتے ہیں۔ مگر جب وہ ککڑی کا درخت اگانا چاہتی ہے تو اس کے لیے صرف چھ مہینے درکار ہوتے ہیں۔ اگر آپ معمولی معیار چاہتے ہوں تو چند سال کی تعلیم بھی کافی ہو سکتی ہے مگر اعلیٰ تعلیم یافتہ بنانے کے لیے تو بہر حال زیادہ وقت دینا پڑے گا۔ p. 227
یہی اصول زندگی کے تمام معاملات کے لیے ہے۔ چھوٹی ترقی چھوٹی کوشش سے مل سکتی ہے۔ لیکن اگر آپ بڑی ترقی چاہتے ہوں تو لازماً آپ کو بڑی جدوجہد کرنی پڑے گی۔ چھوٹی کوشش سے کبھی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ p. 228
ہر ولڈ شرمن (Harold Sherman) نے اسی بات کو ان الفاظ میں کہا ہے p. 228other source
Every worthwhile accomplishment has a price tag on it: how much are you willing to pay in hard work and sacrifice, in patience, faith, and endurance to obtain it. p. 228
ہر کامیابی کے ساتھ قیمت کا ایک پرچہ لگا ہوا ہے۔ اب یہ آپ پر موقوف ہے کہ آپ اس کو حاصل کرنے کے لیے محنت اور قربانی ، صبر ، یقین اور برداشت کی شکل میں کتنی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بازار میں آدمی کو وہی چیز ملتی ہے جس کی اس نے قیمت ادا کی ہو۔ اسی طرح ہر ترقی اور ہر کامیابی کی بھی ایک قیمت ہے اور آدمی کو وہی ترقی اور وہی کامیابی ملے گی جس کی اس نے قیمت ادا کی ہو۔ نہ اس سے زیادہ اور نہ اس سے کم۔ p. 228