Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ناکامی کا سبب p. 146
لاس اینجلس میں ہونے والے اولمپک گیم(جولائی- اگست 1984)میں ہندوستان سے حصہ لینے والوں کا جو دستہ گیا تھا اس میں کل 62 افراد تھے۔ کھیل کے خاتمہ پر یہ لوگ واپس ہو کر 16 اگست 1984 کو نئی دہلی پہنچے تو ہوائی اڈہ پر ان کا زیادہ پر جوش استقبال نہیں ہوا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اولمپک میں کوئی میڈل نہ جیت سکے۔ نہ سونے کا نہ چاندی کا اور نہ کانسی کا۔ p. 146
اس ناکامی کا سبب کیا تھا، ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ (17 اگست 1984) کے مطابق لوٹنے والے کھلاڑیوں میں سے ایک نے کہا کہ سائنسی اور منظم تربیت کا نہ ہونا ہندوستان کے ناقص کھیل کی بنیادی وجہ تھی۔ ہم نے اپنی بہترین کوشش کی۔ مگر بدقسمتی سے وہ کافی نہ تھی۔ ہندوستانی ٹیم کی تربیت کافی پہلے سے شروع ہونی چاہیے،نہ کہ صرف تین ماہ پہلے سے۔ اس سلسلہ میں اخبار میں جو باتیں شائع ہوئی ہیں ان میں سے ایک بات یہ ہے۔ p. 146original + quote
Lack of scientific and systematic training was the main reason for India's poor showing. We did our best but that, unfortunately, was not good enough. The training of Indian teams should start well before an event and not just three months. p. 146
مذکورہ شخص نے جو بات اولمپک کے کھیل کے بارے میں کہی وہی زندگی کے ہر’’کھیل‘‘کے لیے درست ہے۔ p. 146
مقابلہ کی اس دنیا میں کامیابی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے کہ آپ میدان میں اتریں تو پوری تیاری کر کے اتریں۔ اگر آپ کم تر تیاری کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہو گئے تو آپ کے لیے ناکامی کے سوا کوئی اور چیز مقدر نہیں۔ p. 147
آپ کی تیاری دو پہلوئوں کے اعتبار سے ہونا چاہئے۔ ایک یہ کہ وہ باقاعدہ ہو اور دوسرے یہ کہ وہ زمانہ کے تقاضوں کے مطابق ہو۔ اگر آپ کی تربیت باقاعدہ اور منظم نہیں تو آپ زندگی کے اسٹیج پر شاعر اور خطیب بن کر رہ جائیں گے اور اگر آپ کی تربیت وقت کے تقاضوں کے مطابق نہیں تو آپ کو صرف تاریخ کے عجائب خانہ میں جگہ ملے گی۔ آپ خواہ اور جو کچھ ہو جائیں، مگر آپ وقت کے زندہ نقشوں میں اپنے لیے جگہ نہیں بناسکتے۔ p. 147