Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
پہلے شعور پیدا کیجئے p. 239
مسجد کا مؤذن فجر سے کچھ پہلے اٹھا۔ وہ کسی ضرورت سے مسجد کے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی دکان کھول رہا ہے۔ چوں کہ ابھی فضا میں اندھیرا چھایا ہوا تھا اور اتنے سویرے دکان کھولنا ایک غیر معمولی بات تھی،وہ ٹھہر کر دیکھنے لگا۔ ’’یہ آدمی اندھیرے میں دکان کے اندر داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے کیا کام کرے گا ‘‘ اچانک یہ سوال اس کے ذہن میں آیا۔ ایک لمحہ سوچنے کے بعد اس کے دل نے کہا کہ یہ شخص سب سے پہلے دکان کی لائٹ جلائے گا۔ کیوں کہ جب تک دکان کے اندر اندھیرا ہے وہ کوئی کام نہیں کر سکتا۔ اب وہ اپنے اندازہ کی تصدیق یا تردید جاننے کےلیے وہاں ٹھہر کر دکان دار کو دیکھنے لگا۔ مؤذن کا اندازہ صحیح نکلا۔ دکان کا دروازہ کھولتے ہی دکان دار کا ہاتھ سب سے پہلے بجلی کے بٹن پر پہنچا۔ معاً بعد دکان کے اندر روشنی ہو گئی۔ اب دكان دار اس كے اندر داخل هو كر اپنا كام كرنے لگا۔ p. 239
اسی مثال سے ہم دین و ملت کے معاملہ کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔ دینی یا ملّی کام کرنے کے لیے بھی سب سے پہلے ’’روشنی‘‘جلانے کی ضرورت ہے۔ یعنی شعور کی بیداری۔ اندھیرے مکان یا دکان کو اجالے میں لانے کےلیے روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح ملت کے اندر کوئی حقیقی اور مفید کام وجود میں لانے کے لیے سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ ملت کے افراد کو ذہنی حیثیت سے باشعور بنایا جائے۔ اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بیدار کیا جائے۔ افراد کے اندر شعور کی روشنی جلائے بغیر کوئی حقیقی کام نہیں کیا جا سکتا۔ p. 239
آغاز سے پہلے اختتام کا اندازہ کر لیجئے p. 239
حاجیوں کا ایک قافلہ غار حرا کو دیکھنے کے لیے روانہ ہوا۔ غار حرا جس پہاڑ کے اوپر واقع ہے وہاں تک سڑک جاتی ہے۔ آدمی پہاڑ تک سواری سے جاتا ہے اور پھر وہاں سے پیدل پہاڑ پر چڑھتا ہے۔ قافلہ کے لوگ جب پہاڑپر چڑھنے لگے تو کچھ لوگوںنے احترام و تقدس کے جذبہ کے تحت سڑک کے پاس اپنے چپل اتار دئیے۔ جاتے وقت صبح کا وقت تھا اس لیے ننگے پائوں اوپر جانے میں کوئی خاص تکلیف نہیں ہوئی۔ مگر جب وہ لوگ واپس لوٹے تو دوپہر ہو چکی تھی۔ پہاڑی کے سرخ پتھر تپنے لگے تھے۔ بغیر چپل والے لوگ سخت تکلیف کے ساتھ اس حال میں اترے کہ ان کے پیروں میں چھالے پڑ گئے تھے۔ اس کی وجہ سے وہ کئی دن تک پریشان رہے۔ p. 239
سفر خواہ پہاڑکا ہو یا زندگی کا، ہر ایک کی کامیابی کا ایک ہی اصول ہے اور وہ یہ کہ سفر کے آغاز میں سفر کے اختتام کا پورا اندازہ کر لیا جائے۔ جو شخص سفر کے شروع میں سفر کے آخری حالات کا اندازہ نہ کر سکے اس کے حصہ میں اکثر ایسی مشکلات آتی ہیں جو اس کے سفر کے مقصد کو بے معنی کر دیتی ہیں۔ خدا کا یہ قانون اتنا بے لاگ ہے کہ ایک مخلص آدمی بھی اس قسم کی غلطی کرنے کے بعد اس کے انجام سے بچ نہیں سکتا۔ اگر وہ اچھی نیت سے ایک ایسا اقدام کر بیٹھے جس کے عواقب پر اس نے غور نہ کیا ہو تو اس دنیا میں اس کے بُرے نتائج سے وہ بھی اسی طرح دو چار ہو گا۔ جس طرح ایک بدنیت شخص اس قسم کی غلطی کر کے دو چار ہوتا ہے۔ کسی کا اخلاص اس کی غلطی کے خلاف اس کا محافظ نہیں بن سکتا۔ p. 240