Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
کامیاب تدبیر p. 119
ایک مغربی کمپنی نے موٹر کار کا ایک ٹائر بنایا۔ اس نے اشتہار دیا کہ جو شخص ہمارے ٹائر میں کوئی واقعی خرابی بتائے گا اس کو پچاس ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا۔ جب اس کمپنی کا ٹائر بازار میں آیا تو لوگ اس کو خریدنے کےلیے ٹوٹ پڑے۔ لوگوں نے سوچا کہ اگر کوئی خرابی نکال پائے تو پچاس ہزار ڈالر مل جائیں گے۔ ورنہ ٹائر تو ہے ہی۔ p. 119
کمپنی کو بےشمار شکایت نامے موصول ہوئے چھان بین کے بعد معلوم ہوا کہ ان میں سے 20فیصد خطوط قابل لحاظ ہیں۔ چنانچہ کمپنی نے ہر علاقہ کے منتخب مکتوب نگاروں کو دعوت نامے روانہ کیے۔ ان کو آمدورفت کا کرایہ دیا اور ان کو عمدہ ہوٹلوں میں ٹھہرایا۔ کمپنی کے تحت ایک سمینار میں یہ لوگ شریک ہوئے۔ ہر ایک نے اپنی اپنی تنقیدی رائیں پیش کیں۔ بحث مباحثہ کے بعد ایک متفقہ تجویز منظور ہوئی اور انعام بھی تقسیم کیا گیا۔ p. 119
اس کے بعد کمپنی نے نیا ٹائر بنایا۔ اس نے نئے ٹائر کی قیمت پہلے کےمقابلہ میں دگنا کردی جب اشتہار دیا گیا تو دوسرا ٹائر پہلے ٹائر سے بھی زیادہ فروخت ہوا۔ پہلا ٹائر کمپنی نے اپنی رائے سے بنایا تھا۔ دوسرے ٹائر میں عوام کی رائے شامل ہوگئی۔ لوگوں نے سمجھا کہ یہ ٹائر استعمال کرنے والوں کی تجاویز اور مشوروں کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اس لیے وہ اس ٹائر سے زیادہ اچھا ہوگا جس کو کمپنی خود اپنی رائے سے بنائے۔ p. 119
موجودہ دنیا میں ہر آدمی دوسرے آدمی سے بندھا ہوا ہے۔ ہر آدمی دوسروں کو شریک کرنے کے بعد کامیاب ہوتا ہے۔ اس لیے موجودہ دنیا میں کامیاب عمل کےلیے دوسروں کی رعایت ضروری ہے۔ آپ اپنی ذات کےلیے کوئی کامیابی اس وقت حاصل کرسکتے ہیں۔ جب کہ دوسروں کو کامیاب بنانے میں بھی آپ نے کوئی حقیقی حصہ ادا کیا ہو۔ p. 119
اس دنیا میں کامیاب ہونے کےلیے آدمی کو نفع بخش بننا پڑتا ہے جن لوگوں سے وہ لے رہا ہے ان کو یہ یقين دلانا پڑتا ہے کہ وہ ان کو کچھ دے بھی رہا ہے۔ یہ دنیا دو طرفہ لین دین کا بازار ہے جو دوسروں کو دے گا وہی دوسروں سے پائے گا جس کے پاس دوسروں کو دینے کےلیے کچھ نہ ہو۔ اس کو شکایت نہ ہونی چاہیے اگر دوسرے اسے کچھ دینے کےلیے تیار نہیں ہوئے۔ p. 120
کام ہے، کام کرنے والے نہیں p. 120
مہاراشٹر کا ایک نوجوان رامیش دھوبی (22سال) بے روزگاری سے سخت پریشان تھا۔ مایوسی نے اس کی زندگی اس کی نظر میں بے قیمت بنا دی تھی۔ آخر کار ایک روز وہ موہدی اسٹیشن پہنچا۔ ’’میرے اس ہاتھ کی کیا ضرورت ہے جس کےلیے دنیا میں کوئی کام نہ ہو‘‘ یہ احساس اس کے ذہن پر چھایا ہوا تھا۔ اتنے میں اس کو ایک ٹرین آتی ہوئی دکھائی دی۔ وہ ریلوے لائن کے کنارے کھڑا ہوگیا اور جیسے ہی ٹرین سامنے آئی اس نے اپنے دونوں ہاتھ پہیہ اور پٹری کے بیچ میں ڈال دئے۔ انجام ظاہر تھا۔ اس کے دنوں ہاتھ کٹ کر اس کے جسم سے الگ ہوگئے۔ p. 120
مسافروں نے جب اس کا حال دیکھا تو اس کو لے کر فوراً اسپتال پہنچے اور اس کو ڈاکٹروں کے حوالے کیا۔ رامیش دھوبی سے پوچھا گیا کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔ اس نے جو جواب دیا وہ انگریزی رپورٹنگ (ٹائمس آف انڈیا 14اگست 1981) میں ان الفاظ میں نقل ہواہے p. 120other source
My hands are useless as I can find no work, and living is shameful without work. p. 120
جب میرے لیے کوئی کام نہیں تو میرے ہاتھ بھی بے کار ہیں۔ کام کے بغیر زندگی رسوائی کے سوا اور کچھ نہیں۔ p. 121
اخبار کی یہ خبر میں نے پڑھ کر ختم کی تھی کہ ایک صاحب کمرہ میں داخل ہوئے۔ انھوں نے اپنے حالات بتاتے ہوئے کہا کہ میرے پاس کافی کھیت ہیں اور نہر ہونے کی وجہ سے آب پاشی کا معقول انتظام ہے۔ محنت اور ذمہ داری کے ساتھ کام کیا جائے تو بآسانی ایک لاکھ روپیہ سالانہ کی پیدوار حاصل کی جاسکتی ہے۔ اب تک میں خود کرتا رہا۔ مگر اب میرے پاس وقت نہیں۔ اور کوئی ایسا قابل اعتماد آدمی نہیں ملتا جس کے حوالے میں اپنا کام کرسکوں۔ اس لیے میں نے طے کیا ہے کہ میں اپنی زمینوں کو بیچ دوں۔ p. 121unverified
آج کی دنیا میں جس طرح بے شمار لوگ بے روزگار ی سے پریشان ہیں۔ اسی طرح یہ بھی واقعہ ہے کہ بےشمار لوگ اس مسئلہ سے دوچار ہیں کہ ان کے پاس کام ہیں مگر ایسے آدمی نہیں ملتے جو سلیقہ کے ساتھ کام کو سنبھال سکیں۔ p. 121
ان دونوں واقعاتکوملاکر دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ دنیامیں کام کی کمی نہیں بلکہ کام کرنے والوں کی کمی ہے۔ جو لوگ بے روزگار ہیں اگر وہ اپنے اندر صرف دو صلاحیت پیدا کر لیں تو روزگار خود انھیں تلاش کرے گا،نہ کہ وہ روزگار کی تلاش میں اِدھر اُدھر پھریں۔ وہ دو صلاحیتیں ہیں — محنت اور دیانت داری۔ p. 121
جتنا دینا اتنا پانا p. 122
مسٹر سرجیت سنگھ لانبہ (پیدائش 1931) عکسی حافظه (Photographic Memory) کے مالک ہیں۔ کسی چیز کو چند بار پڑھ لیں تو وہ ان کو یاد ہوجاتی ہے۔ 12جون 1983کو وہ ہمارے دفتر میں آئے تو الرسالہ کے کئی مضمون انھوں نے لفظ بلفظ زبانی سنادئیے۔ p. 122
مسٹر لانبہ وزارت قانون میں ہیں اور دہلی میں كيرتی نگر میں رہتے ہیں۔ وہ اقبال کے شیدائی ہیں۔ اقبالیات کے موضوع سے انھیں خاصی دلچسپی ہے۔ اقبال کے ہزاروں اشعار ان کو زبانی یاد ہیں۔ اور اسی طرح ان کی زندگی کے حالات بھی۔ p. 122
مسٹر سرجیت سنگھ لانبہ مئی 1983 میں پاکستان گئے۔ وہاں اقبالیات کے ماہر کی حیثیت سے ان کا زبردست استقبال کیا گیا۔ اس سلسلے میں ان کی ملاقات امیر حسین صاحب(لاہور)سے ہوئی۔ انھیں بھی اقبال کے اشعار کثرت سے یاد ہیں۔ انھوں نے مسٹر لانبہ کو چیلنج کیا اور کہا کہ اگر تم ثابت کردو کہ تم کو مجھ سے زیادہ اقبال کے اشعاریاد ہیں تو میں اپنی ہارمان لوں گا اور تم کو پانچ ہزار روپے انعام دوں گا۔ مسٹر لانبہ نے کہا p. 122
میں پچھلے دس سال سے شمع اقبال پر پروانے کی طرح رقص کررہاہوں تم مجھ سے زیادہ اقبال کا کلام اسی وقت پیش کرسکتے ہو جب کہ تم نے پروانہ بن کر شمع اقبال پر مجھ سے زیادہ رقص کیا ہو۔ چنانچہ مسٹر سرجیت سنگھ لانبہ مقابلہ میں جیت گئے۔ امیر حسین صاحب اقبال کی جس نظم کا مصرعہ پڑھتے مسٹر لانبہ مسلسل اس کے آگے کے اشعار سنانا شروع کردیتے۔ اس کے برعکس، جب مسٹر لانبہ نے اقبال کا کوئی مصرعہ پڑھا تو وہ اس کے آگے زیادہ نہ سنا سکے۔ p. 122
اقبالیات کے مقابلہ میں سرجیت سنگھ لانبہ جیت گئے اور امیر حسین لاہوری ہار گئے۔ p. 123
کسی میدان میں کامیابی کی سب سے ضروری شرط یہ ہے کہ اس میدان میں آدمی اپنے آپ کو وقف کردے۔ زندگی کا ہر معاملہ گویا ایک شمع ہے۔ اور اس معاملہ میں وہی شخص سب سےزیادہ آگے بڑھے گا جو سب سےزیادہ اس شمع کے لیے تڑپا ہو،جس نے سب سے زیادہ اس شمع کےلیے رقص کیا ہو۔ p. 123
زندگی لین دین کا سودا ہے۔ یہاں دینے والا پاتا ہے۔ اور اتنا ہی پاتا ہے جتنا اس نے دیا ہو۔ یہاں نه دیے بغیر پانا ممکن ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص کم دے کر زیادہ کا حصہ دار بن جائے۔ p. 123
دینے والے بنو p. 123
باٹا شو کمپنی باٹا خاندان کے نام پر ہے۔ یہ خاندان ابتداء چیکو سلواکیا میں رہتا تھا۔ 1620میں انہوں نے جوتا بنانے کا کام شروع کیا۔ ٹامس باٹا سینئر (موجودہ باٹا کے والد) نے 1925میں پہلی بار جوتے کا کارخانہ بنایا۔ p. 123
ٹامس باٹا سینئر اپنے ذاتی ہوائی جہاز میں اڑ رہے تھے کہ ان کا جہاز گہرے کہر میں پھنس کر گر گیا۔ اسی وقت وہ جل کر مر گئے۔ اس کے بعد سے ٹامس باٹا جونئیر باٹا لمیٹڈ کے پریزیڈنٹ ہیں۔ ان کی عمر اس وقت 68 سال ہے۔ p. 124
باٹا کمپنی کا کاروبار اس وقت 114 ملکوں میں پھیلا ہوا ہے۔ پچھلے سال اس کمپنی نے 315 ملین جوڑے جوتے ساری دنیا میں فروخت کیے۔ اس کمپنی کا سب سے بڑا کاروبار کناڈا میں ہے۔ اور اسکے بعددوسرے نمبر پر ہندوستان میں ہے۔ باٹا کمپنی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا جوتا سازادارہ ہے۔ اس کے براہ راست ملازمین کی تعداد مجموعی طور پر تقریباً 90 ہزار ہے۔ بالواسطہ کارکنوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ p. 124
مسٹر ٹامس باٹا جونئیر 1983 میں چالیسویں بار ہندوستان آئے۔ اخباری نمائندے نے ایک ملاقات میں ان سے سوال کیا آپ کی کامیابی کا واحد سب سے بڑا عامل کیا ہے جس نے آپ کو موجودہ کامیابی تک پہنچایا۔ مسٹر باٹا نے جواب دیا کہ ہم ہر قسم کے جوتے بناتے ہیں۔ سستے بھی اور انتہائی قیمتی بھی۔ مگر ہم ہر خریدار کی ضرورت مکمل طور پر پوری کرتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم اپنے خریداروں کا اتنا زیادہ لحاظ کرتے ہیں جتنا کوئی بھی نہیں کرتا p. 124
We really look after our customers as nobody else. p. 124
باٹا کی جوتا کمپنی کی عظیم کامیابی یہ سبق دے رہی ہے کہ — اگر تم اپنے لیے لینا چاہتے ہو تو دوسروں کو دینے کی کوشش کرو۔ کیوں کہ دوسروں کو دے کر ہی اس دنیا میں تم اپنے لیے پاسکتے ہو۔ p. 124
قدر دانی p. 125
چارلس ڈارون ( 1809-1882) اپنے اسکول کے زمانہ میں اچھا طالب علم نہ تھا۔ اس کے والد نے ایک بار اس کو ڈانٹتے ہوئے کہا تھا کہ ’’تم بس شکار کھیلتے رہتے ہو اور کتوں کے ذریعہ چوہا پکڑنے کے سوا اور کچھ نہیں کرتے ہو‘‘۔ اسکول کی تعلیم کے بعد اس کے والد نے اس کو ڈاکٹری کے کورس میں داخل کیا مگر وہ ڈاکٹری کا کورس مکمل نہ کرسکا۔ اس کے بعد پادری بننے کا ارادہ کیا اور کیمبرج یونیورسٹی میں دینیات میں داخلہ لیا۔ مگر یہاں بھی وہ ناکام رہا۔ p. 125original + quote
کیمبرج کے قیام کے زمانہ میں ڈارون کو تاریخ طبیعی (Natural history) کے موضوع سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ یہ مضمون اگرچہ اس کے ڈگری کورس کے نصاب میں شامل نہ تھا۔ تاہم ذاتی شوق کے تحت وہ اس کو پڑھتا رہا۔ تاریخ طبیعی اور علم طبقات الارض سے دلچسپی نے ڈارون کو پروفیسر ہنسلو (J.S.Henslow) تک پہنچایا۔ پروفیسر ہنسلو نہایت علم دوست اور وسیع الظرف آدمی تھے۔ ان سے تعلق ہی ڈارون کےلیے پہلا زینہ تھا جس نے اس کو علم کی دنیا میں چوٹی کے مقام پر پہنچا دیا۔ p. 125
اس زمانہ میں برطانوی حکومت نے اپنے بحریہ کے ایک خاص دخانی جہاز کو جس کا نام بیگل (Beagle) تھا تحقیقات کی مہم پر روانہ کیا۔ یہ جہاز بحر الکاہل اور اٹلانٹک کے ساحلی ملکوں کا پانچ سال (1831-36) تک سروے کرتا رہا۔ پروفیسر ہنسلو نے اپنے ذاتی اثرات سے کام لے کر ڈارون کو اس جہاز میں جگہ دلا دی۔ ڈارون اس جہاز میں تاریخ طبیعی کے عالم (Naturalist) کے طور پر مقرر کردیا گیا۔ اس طرح اس کو موقع مل گیا کہ دنیا کے مختلف حصوں کا عملی مشاہدہ کرسکے۔ ڈارون اس وقت بطور خود بیگل میں جگہ نہیں حاصل کرسکتا تھا۔ یہ صرف پروفیسر ہنسلو تھے جنھوں نے نوجوان ڈارون کی صلاحیت کو پہچانا اور اس کو اس تاریخی کشتی میں سفر کرنے کا موقع فراہم کیا۔ p. 125
اس پانچ سالہ مدت میں ڈارون نے مختلف ملکوں کو دیکھا اور سواحل پر واقع جنگلوں اور پہاڑوں کے سفر کیے۔ کہیں پیدل اور کہیں گھوڑے پر وہ میلوں تک اندر گیا اور ہزاروں کی تعداد میں مختلف قسم کے پودوں اور جانوروں کا مشاہدہ کیا اور ان کے نمونے جمع کیے۔ ساتھ ہی اس نے پتھروں میں محفوظ مختلف جانداروں کے باقیات (Fossils) کا ذخیرہ بھی اکٹھا کیا۔ p. 125
اس سفر کے مشاہدات سے اس نے بہت سے نظریات قائم کیے۔ مثلاً یہ کہ مختلف اقسام کے جانور ایک دوسرے سے الگ ہونے کے باوجود بہت سے پہلوؤں سے باہم مشابہت رکھتے ہیں۔ اسی طرح یہ کہ کوئی جاندار جس ماحول میں رہتا ہے وہ اس ماحول کا مناسبت سے اپنے آپ کو ڈھال لیتا ہے وغیرہ۔ بنیادی طور پر یہی وہ مشاہدات تھے جو مزید مطالعہ کے بعد ڈارون کے نظریہ ارتقاء کی صورت میں ڈھل گئے۔ p. 126
راقم الحروف ذاتی طور پر ڈارون کے نظریۂ ارتقا کو سراسر وہم سمجھتا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم ڈارون کی زندگی میں یہ سبق ہے کہ ’’بڑوں ‘‘ کی قدردانی کس طرح ’’ چھوٹوں‘‘ کو آگے بڑھاتی ہے اور ان کی صلاحیت کو نمایاں ہونے کا موقع دیتی ہے۔ جس معاشرے میں بڑے لوگ جوہر کی بنیاد پر افراد کی قدردانی کریں وہاں افراد ترقی کریں گے اور جہاں ایسا ہو کہ وقت کے بڑے لوگ صرف اپنے حاضر باشوں اور خوشامد پرستوں کی قدر کرنا جانیں وہاں افراد کی صلاحیتیںمُرجھا کر رہ جائیں گی۔ ایسا معاشرہ کبھی اعلیٰ ترقی تک نہیں پہنچ سکتا۔ p. 126
ڈارون کی زندگی کا ایک اور واقعہ بہت سبق آموز ہے۔ ڈارون کے ساتھ ایک عجیب اتفاق پیش آیا۔ ڈارون نے 1852 میں طبیعی انتخاب (Natural Selection) کے متعلق اپنے خیالات قلمبند کرلیے تھے۔ مگر ابھی اس کے چھپنے کی نوبت نہیں آئی تھی۔ جون 1858میں اس کو الفرڈویلیس (Alfred Wallace) کا ایک خط موصول ہوا۔ اس خط میں اس نے اپنے ایک غیر مطبوعہ مقالہ کا ذکر کیا تھا۔ اس مقالہ میں اس نے عین وہی بات لکھی تھی جو ڈارون نے اپنے مقالہ میں لکھ رکھی تھی۔ ڈارون یہ کرسکتا تھا کہ اولیت کا کریڈٹ لینے کےلیے وہ فوراً اپنے مقالے کو شائع کردے۔ مگر اس نےایسا نہیں کیا۔ اس نے یہ منصوبہ بنایا کہ وہ اپنے اور ویلیس کے خیالات کو ایک مشترکہ مقالہ کی صورت میں لند ن کی سوسائٹی (Lennean Society) کے سامنے پیش کرے تاکہ یہ نیا نظریہ لوگوں کے سامنے زیادہ طاقت اور اہمیت کے ساتھ لایا جاسکتے۔ چنانچہ 20 جون 1858 کو ارتقاء کا نظریہ ایک مشترکہ مقالہ کی صورت میں لندن کے اہل علم کے اجتماع کے سامنے پیش کیا گیا۔ اور فورا ہی اہمیت کا موضوع بن گیا— اجتماعی عمل ہمیشہ زیادہ طاقتور ہوتا ہے،بشرطیکہ افراد اپنی انفرادی خواہشوں کو روکیں اور اجتماعی انداز میں کام کرنے کا حوصلہ کرسکیں۔ p. 126
محنت p. 126
تعمیر کی فتح p. 126
صبح کو وہ سو کر اُٹھا تو کمرہ میں چڑیا کا انڈا ٹوٹا ہو ا پڑا تھا۔ یہ گوریا کا انڈا تھا جس نے چھت کی لکڑی میں ایک گوشہ پا کر وہاں اپنا گھونسلا بنا رکھا تھا۔ اس گھونسلے کی وجہ سے کمرہ میں ہر وقت چڑیوں کا شور رہتا۔ تنکے گرتے رہتے۔ آدمی نے فرش پر ٹوٹا ہوا انڈا دیکھا تو اس نے گھونسلا اجاڑ کر پھینک دیا۔ p. 127
اگلے دن پھر وہی ’’چوں چوں‘‘ کا شور تھا۔ چڑیاں دوبارہ چھت کی لکڑی میں تنکے جمع کررہی تھیں۔ شاید اجڑے ہوئے گھونسلے کو دوبارہ بنا بنایا دیکھنے کے جذبہ نے ان کے اندر عمل کا شوق بڑھادیا تھا۔ اس جسارت پر اس کو غصہ آیا اور اس نے دوبارہ ان کا گھونسلا اجاڑ کر پھینک دیا۔ وہ سمجھتا تھا کہ اس نے چڑیوں کے اوپر آخری طور پر فتح پالی ہے۔ مگر اگلے دن پھر گھونسلے کا مسئلہ اس کے سر پر موجود تھا۔ چڑیوں نے جب دیکھا کہ ان کا بنابنایا گھونسلا اجاڑ دیا گیا ہے اور انڈے توڑے جاچکے ہیں تو انھوں نے رونے میں یا فریاد کرنے میں وقت ضائع نہیں کیا۔ انھوں نے ایسا بھی نہیں کیا کہ باہر جا کر دوسری ہم جنس چڑیوں کو ڈھونڈیں اور ان کے ساتھ متحدہ محاذ بنا کر گھر پر حملہ کریں۔ اس کے برعکس وہ خاموشی سے باہر نکل گئیں اور ایک ایک تنکا لاکر دوبارہ گھونسلا بنانا شروع کردیا۔ p. 127
اب یہی روزانہ کا قصہ ہوگیا۔ چڑیاں روزانہ گھونسلا بنانا شروع کرتیں اور آدمی روزانہ اس کو اجاڑ دیتا۔ اسی طرح ایک مہینہ گزرگیا۔ اس دوران میں کتنی ہی بار چڑیوں کی محنت ضائع ہوئی۔ ان کے چنے ہوئے تنکے بیکار ہوگئے۔ مگر چڑیاں ان چیزوں سے بے پروا ہو کر اپنا کام کیے جارہی تھیں۔ آدمی کی نفرت کا جواب چڑیوں کے پاس صرف خاموش عمل تھا۔ آدمی کی تخریب کا مقابلہ ہر بار وہ نئی تعمیر سے کرتی تھیں۔ چڑیوں کا دشمن طاقت ور تھا مگر طاقت ور دشمن کا توڑا نھوں نے اپنے لگاتار عمل میں ڈھونڈھ لیا تھا۔ p. 127
آخر نفرت پر خاموش عمل غالب آیا۔ چڑیوں کی مسلسل تعمیر نے آدمی کی مسلسل تخریب پر فتح پائی۔ ایک مہینہ کے ناکام مقابلہ کے بعد آدمی تھک چکا تھا۔ اس نے چڑیوں کا گھونسلا اجاڑنا چھوڑدیا۔ اب گوریا نے اپنے گھونسلے کو مکمل کرکے پھر اس میں انڈے دے دیے ہیں۔ وہ ان کو سینے میں مشغول ہے تاکہ وہ اپنی اگلی نسل پیدا کرے اور پھر اپنا کام کرکے اڑ جائے۔ جب یہ چڑیاں اپنے گھونسلے میں جمع ہوتی ہیں تو ان کا ’’چوں چوں ‘‘ کا شور اب بھی کمرہ میں گونجتا ہے۔ مگر اب آدمی کو یہ شور برا نہیں لگتا کیونکہ ’’چوں چوں‘‘ کی آواز میں اس کو یہ قیمتی پیغام سنائی دیتا ہے۔ اپنے دشمن سے نفرت نہ کرو۔ ہر حال میں اپنی تعمیری جدوجہد میں لگے رہو۔ تم کامیاب ہوگے۔ p. 127
محنت کا ذریعہ p. 127
جوزف کانریڈ(Joseph Conrad)پولینڈ کے ایک شہر برڈک زیو (Berdiczew) میں 1857 میں پیدا ہوا۔ وہ بچپن ہی میں یتیم ہوگیا۔ اپنی زندگی کے ابتدائی زمانہ میں اس کو ملاحی کے ذریعہ اپنی معاش فراہم کرنی پڑی۔ اس کی باقاعدہ تعلیم بھی نہ ہوسکی۔ مختلف ملکوں میں سفر کرتا ہوا بالآخر وہ انگلستان پہنچا۔ اور 1886میں اس نے برطانوی شہریت حاصل کرلی۔ p. 128
برطانیہ کے زمانۂ قیام میں اس نے انگریزی سیکھنے کےلیے غیرمعمولی محنت کی۔ یہاں تک کہ وہ انگریزی زبان کا مستند ادیب بن گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اپنے زمانہ میں انگلستان کے زندہ مصنفین میں اس کی شہرت ہارڈی (Hardy) کے بعد صرف نمبر 2پر تھی۔ p. 128original + quote
اس کی کتاب لارڈ جم ( Lord Jim) میں اس کے جو حالات چھپے ہیں اس میں اس کے بارے میں یہ جملہ درج ہے— اس نے انگریزی زبان میں صاحب طرز ادیب کا نام حاصل کیا اگرچہ 19 سال کی عمر تک اس کا یہ حال تھا کہ وہ انگریزی کا ایک لفظ نہ بول سکتا تھا p. 128
He made his name as a stylist in English although he was unable to speak a word of the language before he was nineteen. p. 128
جوزف کانریڈ کی دودرجن سے اوپر کتابیں ہیں جوزیادہ تر ناول یا کہانی کے پیرایہ میں ہیں۔ انگریزی اگرچہ اس کی مادری زبان نہ تھی، مگر اس کی انگریزی کتابیں یونی ورسٹیوں کے تعلیمی نصاب میں شامل ہیں۔ اس نے 1924میں انگلستان میں وفات پائی۔ p. 128
انگلستان کے ایک باشندہ نے مجھ سے بتایا کہ کالج میں اس کے انگریز استاد نے ایک بار اس سے کہا کہ تم جوزف کانریڈ کو پڑھو۔ وہ بہت خوب صورت انگریزی لکھتا ہے p. 129other source
Read Joseph Conrad. He writes beautiful English. p. 129
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ محنت ہر چیز کا بدل ہے آپ غریب گھر میں پیدا ہو کر بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ بن سکتے ہیں۔ آپ غیر اہل زبان ہو کر اہل زبان جیسے ادیب بن سکتے ہیں۔ آپ لوگوں کی نظر میں غیر اہم ہوتے ہوئے ایسی چیز لکھ سکتے ہیں جس کو پڑھنے کےلیے تمام دنیا والے مجبور ہوں۔ p. 129
کام کا شوق p. 129
ایک تعلیم یافتہ شخص ایک مصروف ادارہ میں ہمہ وقتی ملازم تھے۔ اسی کے ساتھ وہ ایک انگریزی اخبار میں سب ایڈیٹر تھے۔ وہ مذکورہ ملازمت کی ذمہ داریاں پوری طرح نبھاتے تھے اور اسی کے ساتھ اخبار کے ادارتی ذمہ داریاں بھی۔ کسی شخص نے ان سے پوچھا آپ اتنا زیادہ کام کرتے ہیں۔ آپ کو وقت کیسے ملتاہے۔ انھوں نے جواب دیا۔ وقت کوئی چیز نہیں۔ یہ صرف دلچسپیوں کی کارگزاری ہے p. 130unverified
Time is nothing but it is a function of interests. p. 130
یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی کام کی تکمیل کےلیے اصل اہمیت وقت کی نہیں ، اصل اہمیت دلچسپی کی ہے ، یہ آدمی کی دلچسپی ہے جو اس سے کسی کام کو پورا کرادیتیہے۔ واقعی لگن اور شوق ہو تو کم وقت میں آدمی بہت سا کام کرلے گا۔ اور اگر شوق اور لگن نہ ہو تو زیادہ وقت بھی اس کےلیے تھوڑا بن جائے گا۔ p. 130
ایک شخص کے پاس ملک کے باہر سے ایک پیش کش آئی۔ وقت صرف تین ہفتہ کا تھا، جبکہ اس کے پاس ابھی تک پاسپورٹ بھی نہیں تھا۔ موجودہ زمانہ میں بیرونی سفر کےلیے بہت سے قانونی تقاضے پورے کرنے ہوتے ہیں۔ بظاہر وقت پر سفر کرنا انتہائی دشوار تھا۔ مگر اس نے رات دن ایک کرکے سارا کام پورا کرلیا اور ٹھیک تاریخ پر وہ ہوائی جہاز پر بیٹھ کر مطلوبہ ملک کو پرواز کررہا تھا۔ p. 130
دوسری طرف اسی قسم کا موقع ایک اور شخص کےلیے پیدا ہوا۔ وہ شہر سے دور دیہات میں تھا، اس نے اپنے ایک رشتہ دار کو جو شہر میں رہتے تھے ، خط لکھا کہ میرے لیے شہر میں آنا مشکل ہے۔ آپ میرا یہ کام کرا دیجئے اور اس سلسلہ میں جو پیسہ خرچ ہوگا۔ وہ سب میرے ذمہ ہوگا۔ رشتہ دار نے جواب دیا کہ اچھا میں کوشش کروں گا۔ مذکورہ شخص ان کے اطمینان پر رہ گیا۔ اس کے پاس پورے دو مہینے کا وقت تھا مگر اس کا کوئی کام نہیں ہوااور وہ باہر نہ جاسکا۔ آخر میں مذکورہ رشتہ دار کا پیغام ملاکہ فلاں وجہ پیش آگئی اس وجہ سے میں تمہارا کام نہکرسکا۔ یہ زبانی پیغام تاخیر سے اس وقت پہنچا جب کہ وقت گزر چکا تھا۔ p. 130
پہلے شخص نے اپنا کام سمجھ کر دلچسپی لی تو اس نے کم وقت کے باوجود کام کو پورا کرلیا۔ دوسرے شخص نے اپنے کام کی طرح دل چسپی نہیں لی اس لیے معمولی باتیں اس کےلیے عذر بن گئیں اور زیادہ وقت کے باوجود وہ کام کو انجام نہ دے سکا۔ p. 131
آدمی کو جب کام کا شوق ہو تو اس کی عقل کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ مقصد کو حاصل کرنے کی تڑپ اس کے قوتِ عمل کو بڑھا دیتی ہے۔ وہ اس کی خاطر ہر قربانی کےلیے تیار ہوجاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دنوں میں وہ کام کرلیتا ہے جس کو دوسرا شخص ہفتوں اور مہینوں میں بھی نہ کرسکے۔ p. 131
ایک تاثر p. 131
20 جنوری 1986 کو میں انڈین ائیر لائنز کی فلائٹ نمبر 439کے ذریعہ دہلی سے حیدر آباد گیا۔ جہاز کے اندر حسب معمول اعلانات شروع ہوئے تواناؤنسر نے دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی کہا p. 131
Captain Mustafa is in command. p. 131
(کیپٹن مصطفٰي اس جہاز کے پائلٹ ہیں)۔ انڈین ائیر لائنز میں مَیں نے بہت سفر کیے ہیں مگر ’’کیپٹن مصطفیٰ ‘‘ جیسا لفظ پہلی بار سننے میں آیا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مسلمان اب دیگر اعلیٰ سروسوں کے علاوہ اس ملک کی ہوائی سروسوں میں بھی داخل ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ وہ اپنے پچھڑے پن کو ختم کرکے تیزی سے آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ p. 132
ہندوستان کے مسلم لیڈر ہمیشہ اپنی قوم کے نوجوانوں کے بارے میں ’’نکالے جانے‘‘ کی خبریں دنیا کوسناتے ہیں۔ مگر یہ سراسر ناانصافی ہے۔ ان کو چاہیے کہ اسی کے ساتھ ’’داخل کیے جانے‘‘ کی خبریں بھی وہ دنیا کو سنائیں تاکہ لوگوں کو تصویر کا دوسرا رُخ بھی معلوم ہوسکے۔ مسلم قائدین کا یہ عمل یقینی طور پر غیر منصفانہ عمل ہے۔ اور غیر منصفانہ عمل کےلیے اس دنیا میں بربادی کے سوا کچھ اور مقدر نہیں۔ p. 132
میں مانتا ہوں کہ اس ملک میں اگر ایسے واقعات ہیں کہ ایک ’’مصطفيٰ ‘‘ کو سروس میں لیا گیا ہے تو اسی کے ساتھ ایسا واقعہ بھی موجود ہے کہ کسی ’’مصطفيٰ‘‘کو سروس میں نہیں لیا گیا۔ مگر مجھے جس چیز سے اختلاف ہے وہ یہ کہ اس کو تعصب اور امتیاز قرار دیا جائے۔ یہ دراصل زندگی کی ایک حقیقت ہے،نہ کہ تعصب اور امتیاز۔ p. 132
اصل یہ ہے کہ یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے یہاں لازماً یہ ہونا ہے کہ افراد اور قوموں کے درمیان دوڑ جاری رہے۔ اور پھر کوئی آگے بڑھے اور کوئی پیچھے رہ جائے۔ چڑیا گھر میں جو جانور ہوتے ہیں وہ کچھ دن کے بعد سُست پڑ جاتے ہیں۔ چنانچہ ان کے کٹہرے میں وقتی طور ان کے دشمن جانور ڈالے جاتے ہیں تاکہ ان کے لیے دوڑنے اور بھاگنے کا ماحول پیدا کیا جائے۔ یہ قدرت کا اصول ہے، اور مقابلہ اور مسابقت کے اسی اصول میں زندگی کا راز چھپاہوا ہے— ایک واقعہ کو قومی تعصب کہیں تو صرف شکایت کا ذہن بنتا ہے ، اسی واقعہ کو قومی مسابقت کہیے توعمل کا جذبہ بیدار ہونے لگےگا۔ p. 132
ایک وراثت یہ بھی ہے p. 132
کریم بخش سیدھے سادھے دین دار آدمی تھے۔ گاؤں کی معمولی آمدنی پر گزر کر لیتے۔ 65 سال كي عمر میں وہ چار بچے چھوڑ کر مرے تو ان کےلیے انھوں نے کوئی قابل ذکر جائیداد نہیں چھوڑی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بڑے صاحب زادے رحیم بخش شہر چلے آئے تاکہ اپنے لیے کمائی کی کوئی صورت کرسکیں۔ شہر میںانھوں نے مختصر سرمایہ کے ساتھ ایک کاروبار شروع کردیا۔ p. 133
رحیم بخش کے والد نے ان کےلیے کوئی مادی وراثت نہیں چھوڑی تھی۔ مگر قناعت اور سادگی اور کسی سے لڑے بھڑے بغیر اپنا کام کرنے کی وراثت چھوڑی تھی۔ یہ وراثت رحیم بخش کےلیےبےحد مفید ثابت ہوئی۔ ان کی سادگی اور قناعت کانتیجہ یہ ہوا کہ معمولی آمدنی کے باوجود وہ مسلسل ترقی کرنے لگے۔ ان کا لڑائی بھڑائی سے بچنے کا مزاج ان کےلیے مزید معاون ثابت ہوا۔ ہر ایک ان سے خوش تھا۔ ہر ایک سے ان کو تعاون مل رہا تھا۔ ان کی ترقی کی رفتار اگرچہ سست تھی مگر وہ ایک دن رکے بغیر جاری رہی۔ p. 133
رحیم بخش کا کاروبار اگرچہ معمولی تھا مگر ان کی شرافت ، ان کی بے غرضی اور ان کی ایمان داری نے ان کو اپنے ماحول میں اتنی عزت دے رکھی تھی جیسے کہ وہ کوئی بڑی حیثیت کے آدمی ہوں۔ ان کے پاس سرمایہ بہت کم تھا مگر لین دین میں صفائی اور وعدہ کا پکا ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ بازار میں بڑے بڑے تھوک بیوپاری ان سے کہتے کہ ’’میاں جی، جتنا چاہے مال لے جاؤ۔ پیسہ کی پروانہ کرو۔ پیسے بعد میں آجائیں گے‘‘۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ کسی سے جھگڑے کی نوبت آگئی۔ مگر انھوں نے خود ہی اپنے کو چپ کرلیا۔ وہ شریر آدمی کے خلاف کوئی جوابی کاروائی نہ کرتے بلکہ خاموشی سے اپنے کاروبار میں لگ جاتے اور اس کے حق میں دعا کرتے رہتے۔ جب ان کے دل میں شیطان کوئی بدمعاملگی کا جذبہ ڈالتا تو ان کے والد کا معصوم چہرہ ان کے سامنے آکر کھڑا ہو جاتا۔ ان کو ایسا محسوس ہوتا کہ اگر میں نے کوئی غلط معاملہ کیا یا کسی سے جھگڑا فساد کیا تو میرے باپ کی روح قبر میں تڑپ اٹھے گی۔ یہ خیال فوراً ان کے جذبات کو دبادیتا۔ وہ دوبارہ اسی تعمیری راستہ پر چل پڑتے جس میں انھیںان کے باپ نے چھوڑا تھا۔ p. 133
ان کا کاروبار بڑھا تو ان کو مزید معاون کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اب انھوں نے اپنے بھائیوں کو بلانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ چاروں بھائی شہر میںمنتقل ہوگئے۔ دھیرے دھیرے ان کے کاروبار کے چار مستقل شعبے ہوگئے۔ ہر شعبہ ایک ایک بھائی کے سپرد تھا۔ چاروں بھائی ایک ساتھ مل کر رہتے اور ساتھ کھاتے پیتے۔ مگر کاروباری اعتبار سے ہر بھائی اپنے اپنے شعبہ کو آزادانہ طور پر انجام دیتا تھا۔ p. 133
کچھ دنوں کے بعد رحیم بخش کو محسوس ہوا کہ بڑے بھائی ہونے کی حیثیت سے چونکہ وہی کاروبار کے مالک ہیں اس لیے بقیہ بھائی اپنے کام کو اس دلچسپی سے نہیں کرتے جیسا کوئی آدمی اس وقت کرتا ہے جب کہ وہ کام کو اپنا ذاتی کام سمجھتا ہو۔ اب رحیم بخش کےلیے دو صورتوں میں سے کسی ایک کو انتخاب کرنے کا سوال تھا۔ یا تو کاروبار کو اپنے قبضہ میں لے کر بقیہ تینوں بھائیوں کو اس سے الگ کردیں اور اس کے نتیجہ میں ہمیشہ کےلیے بھائیوں کی دشمنی خریدیں۔ دوسرے یہ کہ معاملات کو اسی طرح چلنے دیں۔ یہاں تک کہ بالآخر وہی ہو جو عام طور پر مشترک کاروبار میں ہوتا ہے۔ یعنی باہمی شکایت اور اس کے بعد تلخ یادوں کے ساتھ کاروبار تقسیم۔ p. 133
رحیم بخش نے چند دن سوچا اور اس کے بعد سب بھائیوں کو جمع کرکے ساری بات صاف صاف ان کے سامنے رکھ دی۔ انھوں نے کہا کہ خدا کے فضل سے ابھی کوئی بات بگڑی نہیں ہے۔ بہترین بات یہ ہے کہ چاروں بھائی ایک ایک کاروبار کو لے لیں اور ہر ایک ذاتی طور پر اپنا کاروبار چلائے۔ اس طرح ہمارے والد کی روح کو سکون پہنچے گا۔ اور مجھے یقین ہے کہ اس میں ہر ایک کےلیے زیادہ برکت ہوگی۔ تینوں بھائیوں نے کہا کہ ہم تو سراپا آپ کے احسان مند ہیں۔ اس لیے آپ جو بھی فیصلہ کردیں وہ ہم کو منظور ہے۔ مختصر گفتگو کے بعد یہ طے ہوا کہ قرعہ اندازی کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ چنانچہ اسی وقت قرعہ کے ذریعہ ہر بھائی کو ایک ایک کاروبار دے دیاگیا۔ p. 134
اب چاروں بھائی اپنے اپنے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں۔ ہر ایک اپنے بچوں کو لے کر اپنے اپنے کام میں صبح سے شام تک محنت کرتا ہے۔ چاروں کے درمیان پہلے سے بھی زیادہ اچھے تعلقات ہیں۔ ہر ایک دوسرے کی مدد کرنے کےلیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ چاروں نے الگ الگ اپنے مکانات بنالیے ہیں۔ مگر رحیم بخش اب بھی اسی طرح سب کے ’’بڑے بھائی‘‘ ہیں جیسے وہ پہلے بڑے بھائی تھے۔ ایک بھائی جو بات کہہ دے اس کو دوسرا بھائی کبھی نہیں ٹالتا۔ ایک گھر میں کوئی ضرورت پیش آجائے تو چاروں گھروں کی عورتیں اور بچے مل کر اس کو اس طرح کرتے ہیں جیسے وہ ہر ایک کا اپنا کام ہو۔ p. 134
اکثر باپ یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی اولاد کےلیے سب سے بڑی وراثت یہ ہے کہ وہ ان کےلیے مال اور جائیداد چھوڑ کر اس دنیا سے جائیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سب سےز یادہ خوش نصیب اولاد وہ ہے جس کے باپ نے اس کےلیے بااصول زندگی کی وراثت چھوڑی ہو۔ وہ اپنی اولاد کو یہ سبق دے کر دنیا سے گیا ہو کہ اپنی محنت پر بھروسہ کرو، لوگوں سے الجھے بغیر اپنا کام کرو۔ اپنے واجبی حق پر قناعت کرو۔ حال کے فائدوں سے زیادہ مستقبل کے امکانات پر نظر رکھو۔ خوش خیالیوں میں گم ہونے کے بجائے حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرو— مادی وراثت سےزیادہ بڑی چیز اخلاقی وراثت ہے۔ مگر بہت کم باپ ہیں جواس حقیقت کو جانتے ہوں۔ p. 134
اس کو اسکول سے خارج کردیا گیا تھا p. 134
پروفیسر البرٹ آئن سٹائن (1955۔ 1879) نے 20 ویںصدی کی سائنس میں عظیم انقلاب برپا کیا۔ مگر اس کی زندگی کا آغاز نہایت معمولی تھا۔ تین سال کی عمر تک وہ بولنا شروع نہ کرسکا۔ بظاہر وہ ایک معمولی باپ کا معمولی بچہ تھا۔ نوسال کی عمر تک وہ بالکل عام بچہ دکھائی دیتا تھا۔ اسکول کی تعلیم کے زمانہ میں ایک بار وہ اسکول سے خارج کردیا گیا۔ کیوں کہ اس کے استادوں کا خیال تھا کہ اپنی تعلیمی نااہلی کی وجہ سے وہ دوسرے طالب علموں پر برا ثر ڈالتا ہے۔ زیورک کے پولی ٹیکنیک میں اس کو پہلی بار داخلہ نہ مل سکا کیوں کہ آزمائشی امتحان میں اس کے نمبر بہت کم تھے۔ چنانچہ اس نے مزید تیاری کرکے اگلے سال داخلہ لیا۔ اس کے ایک استاد نے اس کے بارے میں کہا p. 134original + quote
Albert was a lazy dog. p. 135
البرٹ ایک سست کتا تھا۔ 20 سال کی عمر تک البرٹ آئن سٹائن میں کوئی غیر معمولی آثار نظر نہ آتے تھے۔ مگر اس کے بعد اس نے محنت شروع کی تو وہ اس بلندی تک پہنچا جو موجودہ زمانہ میں بمشکل کسی دوسرے سائنس دان کو حاصل ہوئی۔ اس بنا پر اس کے ایک سوانح نگار نے لکھاہے p. 135original + quote
We could take heart that it is not necessary to be a good student to become Einstein. p. 135
ہم کو جاننا چاہیے کہ آئن سٹائن بننے کےلیے یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی طالب علمی کے زمانہ میں ممتازرہا ہو۔ آئن سٹائن نے اپنی پہلی سائنسی کتاب اس وقت شائع کی جب کہ اس کی عمر 26سال تھی۔ اس کے بعد سے اس کی شہرت بڑھتی ہی چلی گئی۔ آئن سٹائن کی زندگی بالکل سادہ تھی۔ وہ نہایت سادہ غذا کھاتا تھا۔ وہ اکثر آدھی رات تک اپنے کام میں مشغول رہتا تھا۔ اس کو اسرائیل کی صدرات پیش کی گئی تھی مگر اس نے انکار کردیا۔ اس کا کہنا تھا کہ سیاست انسانیت کا کینسر ہے۔ 1933 میں اس نے ہٹلر کے جرمنی کو چھوڑ دیا تھا۔ ہٹلر کی حکومت نے اعلان کیا کہ جو شخص آئن سٹائن کا سر کاٹ کر لائے گا اس کو 20ہزار مارک انعام دیا جائے گا۔ اس زمانہ میں یہ رقم بہت زیادہ تھی مگر آئن سٹائن کی عظمت لوگوں کے دلوں میں اتنی قائم ہوچکی تھی کہ کوئی اس انعام کو حاصل کرنے کی جرأت نہ کرسکا۔ (7اکتوبر 1979) p. 135
تاریخ میں اس طرح کی بہت مثالیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ بڑا انسان بننے کےلیے بڑا بچہ پیدا ہونا ضروری نہیں۔ معمولی حیثیت سے آغاز کرکے آدمی بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کرسکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ جدوجہد کی شرطوں کو پورا کرے۔ بلکہ وہ لوگ زیادہ خوش قسمت ہیں جن کو مشکل مواقع میں زندگی کا ثبوت دینا پڑے۔ کیونکہ مشکل حالات عمل کا محرک ہوتے ہیں۔ وہ آدمی کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کرتے ہیں۔ نیز زندگی کے بہترین سبق ہمیشہ مشکل حالات میں ملتے ہیں۔ اعلیٰ انسان راحتوں میں نہیں بلکہ مشکلوں میں تیار ہوتا ہے۔ حقيقتیہ ہے کہ خدا کی اس دنیا میں امکانات کی کوئی حد نہیں۔ یہاں کسی کو اپنے عمل کےلیے معمولی آغاز ملے تو اس کو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ معمولی حالات زندگی کا سب سے مضبوط زینہ ہیں۔ تاریخ کی اکثر اعلیٰ ترین کامیابیاں معمولی حالات کے اندر ہی سے برآمد ہوئی ہیں۔ p. 135
بیس سال بعد p. 136
1950 اور 1970 کے درمیان تقریباً 20 سال تک جاپان کا حال یہ تھا کہ وہ صنعتی ٹیکنالوجی کی اعلیٰ قسموں کو مغربی ملکوں سے حاصل کرتا تھا۔ کبھی اُدھار ، کبھی مانگ کر اور کبھی خرید کر۔ مگر آج جاپان کی اقتصادیات اپنی ذاتی بنیادوں پر قائم ہیں۔ جاپان اس حیثیت میں ہوگیا ہے کہ وہ نہ صرف مصنوعات کو بلکہ اپنی صنعتی مہارت کو بھی دوسرے ملکوں میں بھیج سکے۔ p. 136
صنعت میں اپنی ترقی یافتہ تکنیکی صلاحیت کی بنا پر اس کو یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ دوسرے ملکوں کی مدد کرکے ان کی دوستی حاصل کرسکے۔ مختلف ملکوں کی بڑی بڑی اسکیموں کا ٹھیکہ لے کر ان سے تجارتیں کرے۔ جاپانی ماہرین آج تھائی لینڈ میں آب پاشی کے جدید منصوبوں کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ وہ سنگا پور میں کمپیوٹر پروگرام کی تعلیم دے رہے ہیں۔ وہ جنوبی کوریا اور چین میں فولاد کے کارخانے تعمیر کر رہے ہیں۔ وہ شرق اوسط میں پٹروکیمیکل صنعتیں قائم کر رہے ہیں،وغیرہ۔ p. 136
جاپانیوں نے ابتداء ً فولاد بنانا امریکیوں سے سیکھا تھا، اب وہ اس ہنر کو مزید ترقی دے کر اس کو خود امریکا کو برآمد کرنے کے قابل ہوگئے ہیں۔ جاپان جو کسی وقت امریکا کا شاگر د تھا، اب اس نے کئی چیزوں، خاص طور پر مواصلات (کمیونیکیشن ) اور الیکٹرانکس میں اتنی ترقی کرلی ہے کہ امریکا خود اپنے فوجی اہمیت کے شعبوں میں جاپان کی تکنیکی مدد حاصل کرنے کےلیے جاپان سے معاہدہ کررہا ہے۔ شاگرد اس قابل ہوگیا ہے کہ اپنے استاد کو سبق دے سکے۔ p. 136
جاپان کے اس تجربہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایک اخباری مبصر (ہندوستان ٹائمز 11 جون 1981) نے لکھا ہے ٹیکنالوجی کا بہاؤ پہلے جاپان کے اندر تھا ، اب اس کا بہاؤ جاپان کے باہر ہے p. 136other source
Now the flow is out instead of in. p. 137
جاپان20 سال تک صنعتی مغلوبیت پر راضی رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج اس کو صنعتی غلبہ کا مقام حاصل ہوگیا۔ اگر وہ اول دن سے غلبہ پر اصرار کرتا تو اس کے حصہ میں صرف یہ آتا کہ اس کی مغلوبیت کبھی ختم نہ ہو۔ ہر پانے کےلیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ ہر بلندی کے لیے کچھ پستی کو گوارا کرنا ہوتا ہے۔ یہی دنیا کا قانون ہے۔ جو لوگ دنیا کے اس قانون کے ساتھ موافقت کریں وہی خدا کی اس دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں اور جو لوگ اس قانون کے ساتھ موافقت کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔ ان کے حصہ میں صرف یہ آتا ہے کہ وہ ناکام ہو کر رہ جائیں اور اس کے بعد بے فائدہ طور پر دوسروں کو اپنی بربادی کا جھوٹا الزام دیتے رہیں۔ p. 137
بے کاری p. 137
قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنِّي لَأَرَى الرَّجُلَ، فَيُعْجِبُنِي، فَأَقُولُ هَلْ لَهُ حِرْفَةٌ؟ فَإِنْ قَالُوا لا؛ سَقَطَ مِنْ عَيْنِي.(المجالسة وجواهر العلم للدينوري، حديث نمبر 3005)يعني حضرت عمر فرماتے تھے کہ میں کسی آدمی کو دیکھتا ہوں اور وہ مجھے پسند آتا ہے مگر جب معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی کام نہیں کرتا تو وہ میری نگاہوں سے گرجاتا ہے۔ p. 137original + quote
یہی روایت ابن الجوزی نے تلبیس ابلیس میں ان الفاظ میں نقل کی ہے p. 138other source
عَنْ مُحَمَّد بْن عَاصِم قَالَ بلغني أن عُمَر بْن الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عنه كان إذا رأى غلاما فأعجبه سأل عنه هل لَهُ حرفة فَإِن قيل لا قَالَ سَقَطَ مِنْ عَيْنِي.(تلبيس ابليس، جلد 1، صفحه 252)يعني محمد بن عاصم کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عمر جب کسی نوجوان کو دیکھتے اور وہ انھیں اچھا معلوم ہوتا تو پوچھتے کیا اس کا کوئی کام ہے۔ اگر کہا جاتا کہ نہیں تو وہ ان کی نگاہ سے گرجاتا ہے۔ p. 138original + quote
حقیقت یہ ہے کہ بےکاری نہایت بری چیز ہے وہ آدمی کی تمام بہترین صلاحیتوں کو کھا جاتی ہے۔ بے کار آدمی بظاہر دیکھنے میں زندہ معلوم ہوتا ہے مگر حقیقتہً وہ ایک مرا ہوا انسان ہوتا ہے۔ اس کے اندر سے وہ تمام لطیف احساسات ختم ہوجاتے ہیں جو کسی انسان کو حقیقی معنوں میں انسان بناتے ہیں۔ p. 138
بے کاری کی ایک صورت وہ ہے جب کہ آدمی محنت اور مشقت کی چیزوں سے گھبراتا ہے اور اس کے اندر یہ صلاحیت موجود نہیں ہوتی کہ کوئی بے مشقت کا کام اسے مل جائے۔ چنانچہ وہ اپنے پسندیدہ کام کے انتظار میں بے کار پڑا رہتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی کو وراثت میں یا اور کسی اتفاقی سبب سے ایسے ذرائع معاش حاصل ہوجائیں جن کےلیے اس نے کوئی ذاتی کسب نہیں کیا تھا۔ مثلاً بنک میں جمع شدہ رقم۔ یا جائیداد جس کی آمدنی یا کرایہ اس کو اپنے آپ ہر ماہ ملتا رہے۔ اس قسم کی ہر صورت بے کاری کے صورت ہے اور وہ آدمی کےلیے قاتل ہے ، خواہ بظاہر وہ خوش پوش ہو اور چلتا پھرتا نظر آتا ہو۔ p. 138
ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے لیے کوئی جائز کام اختیار کرے اور صبح شام اپنے آپ کو اس میں مشغول رکھے۔ جس کے پاس کام کی مشغولیت نہیں اس کے پاس زندگی بھی نہیں۔ بے کار آدمی کو کبھی بھی آپ اعلیٰ انسان نہیں پائیں گے۔ p. 138
بڑی کامیابی p. 139
انگریزی کے ایک شاعر نے کہا ہے ’’جس شخص کو دنیا میں بڑا آدمی بننا ہوتا ہے وہ اس وقت کام میں مصروف رہتا ہے جس وقت عام لوگ سو رہے ہوتے ہیں‘‘۔مطلب یہ ہے کہ ایسا آدمی صرف عام وقتوں ہی میں کام نہیں کرتا بلکہ اس وقت بھی کام کرتا ہے جب کہ لوگ اپنے کام سے فارغ ہو کر آرام کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ لوگوں سے زیادہ کام کرتا ہے اس لیے وہ لوگوں سے زیادہ ترقی حاصل کرتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ زیادہ بڑی کامیابی ہمیشہ زیادہ بڑی محنت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ p. 139original + quote
سر سی وی رمن ہندوستان کے مشہور سائنس دان گزرے ہیں جن کو نوبل انعام دیا گیا۔ ان سے کسی نے کہا کہ سائنس دانوں نے جو بڑی بڑی دریافتیں کی ہیں ان میں سائنس دانوں کا اپنا کوئی کارنامہ نہیں۔ کیونکہ اکثر دریافتیں محض اتفاق سے حاصل ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر رمن نے جواب دیا ہاں ، مگر ایسا اتفاق صرف ایک سائنس دان کو پیش آتا ہے۔ p. 139original + quote
سائنسی دریافتیں(مثلاً بجلی کی دریافت) اکثر اس طرح ہوئی ہیں کہ ایک سائنس دان اپنی تجربہ گاہ میں تحقیق کر رہا ہے۔ تحقیق کرتے کرتے اچانک ایک چیز چمک اٹھی۔ اب سائنس دان نے اس کی کھوج شروع کی۔ یہاں تک کہ وہ ایک نئی دریافت تک پہنچ گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئی دریافت اگرچہ اچانک ہوتی ہے۔ مگر یہ اچانک دریافت اسی شخص کے حصہ میں آتی ہے جو مسلسل تحقیق و تلاش میں لگا ہوا ہو۔ کوئی آدمی بے کار بیٹھاہوا ہو تو اس کے ساتھ ایسا خوش قسمت لمحہ کبھی نہیں آئے گا۔ p. 139
یہی معاملہ زندگی کی تمام ترقیوں کا ہے۔ بڑی کامیابی اکثر کسی کے حصہ میں اس طرح آتی ہے کہ وہ اپنے کام میں لگا ہوا ہے۔ وہ محنت میں رات دن ایک کیے ہوئے ہے۔ پھر اچانک ایک موقع سامنے آتا ہے اور وہ اس کو استعمال کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہ موقع اچانک آتا ہے اور پہلے سے بتائے بغیر آتا ہے۔ کوئی شخص دن کو کام کرے اور رات کو غافل ہو تو رات کو وہ موقع آئے گا اور وہ اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہے گا۔ اسی طرح کوئی شخص رات کو کام کرے اور دن کو غافل ہو تو دن میں وہ موقع آئے گا اور وہ اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہ جائے گا۔ بڑی کامیابی ہمیشہ بڑی جدوجہد سے حاصل ہوتی ہے۔ بڑی کامیابی حاصل کرنے کی دوسری کوئی صورت نہیں۔ p. 139
25 پیسے سے p. 140
شام کا وقت تھا۔ بارہ سال کا بچہ اپنے گھر میں داخل ہوا، اس کو بھوک لگ رہی تھی۔ وہ اس امید میں تیز تیز چل کر آرہا تھا کہ گھر پہنچ کر کھانا کھائوں گا اور پیٹ کی آگ بجھائوں گا۔ مگر جب اس نے اپنی ماں سے کھانا مانگاتو جواب ملا’’اس وقت گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے‘‘ بچہ کا باپ ایک غریب آدمی تھا۔ وہ محنت کر کے معمولی کمائی کرتا تھا۔ روزانہ کمانا اور روزانہ دکان سے سامان لا کر پیٹ بھرنا یہ اس کی زندگی تھی تاہم ایسا بھی ہوتا کہ کسی دن کوئی کمائی نہ ہوتی اور باپ خالی ہاتھ گھر واپس آتا۔ یہ ان کے لیے فاقہ کا دن ہوتاتھا۔ اس خاندان کی معاشیات کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ تھا’’کام مل گیا تو روزی، کام نہیں ملا تو روزہ‘‘۔ p. 140
ماں کا جواب سن کر بچہ کو بڑا صدمہ ہوا’’مجھے بھوک لگ رہی ہے اور میرے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں‘‘۔وہ چپ ہو کر دیر تک سوچتا رہا۔ اس کے بعد بولا’’کیاتمہارے پاس 25 پیسے بھی نہیں ہیں‘‘۔ماں نے بتایا کہ 25 پیسے اس کے پاس موجود ہیں’’اچھا تو لائو 25 پیسے مجھے دو‘‘۔ بچہ نے کہا۔ اس نے اپنی ماں سے 25 پیسے لیے۔ اس کے بعد ایک بالٹی میں پانی بھرا۔ دو گلاس لیے۔ 25 پیسے کا برف لے کر بالٹی میں ڈالا اور سیدھا سینما ہائوس پہنچا۔ یہ گرمی کا زمانہ تھا جب کہ ہر آدمی پانی پینے کے لیے بے تاب رہتا ہے۔ وہاں اس نے آواز لگا کر ’’ٹھنڈا پانی‘‘بیچنا شروع کیا۔ اس کا پانی تیزی سے بکنے لگا۔ کئی لوگوں نے بچہ سمجھ کر زیادہ پیسے دئیے۔ آخر میں جب وہ خالی بالٹی میں گلاس ڈال کر واپس گھر پہنچا تو اس کے پاس پندرہ روپے ہو چکے تھے۔ p. 140unverified
اب بچہ روزانہ ایسا ہی کرنے لگا۔ دن کو وہ اسکول میں محنت سے پڑھتا اور شام کو پانی یا اور کوئی چیز بیچ کر کمائی کرتا۔ اسی طرح وہ دس سال تک کرتا رہا، ایک طرف وہ گھر کا ضروری کام چلاتا رہا دوسری طرف اپنی تعلیم کو مکمل کرتا رہا۔ آج یہ حال ہے کہ اس لڑکے نے تعلیم پوری کر کے ملازمت کر لی ہے۔ اس کو تنخواہ سے ساڑھے سات سو روپے مہینہ مل جاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ’’شام کا کاروبار ‘‘بھی وہ بدستور جاری رکھے ہوئے ہے۔ اپنے چھوٹے سے خاندان کے ساتھ اس کی زندگی بڑی عافیت سے گزر رہی ہے۔ اس کی محنت کی کمائی میں اللہ نے اتنی برکت دی کہ اپنا آبائی ٹوٹا پھوٹا مکان اس نے ازسرنو بنوا لیا۔ سارے محلہ والے اس کی عزت کرتے ہیں ماں باپ کی دعائیں ہر وقت اس کو مل رہی ہیں۔ p. 140
مشکل حالات آدمی کے لیے ترقی کا زینہ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ مشکل حالات آدمی کو پست ہمت نہ کریں بلکہ اس کے اندر نیا عزم پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائیں۔ زندگی میں اصل اہمیت ہمیشہ صحیح آغاز کی ہوتی ہے۔ اگر آدمی اتنے پیچھے سے سفر شروع کرنے پر راضی ہوجائے جہاں سے ہر قدم اٹھانا آگے بڑھنا ہو تو کوئی بھی چیز اس کو کامیابی تک پہنچنے سے روک نہیں سکتی۔ ’’25 پیسے ‘‘سے سفر شروع کیجئے۔ کیوں کہ ’’25 پیسے‘‘ سے سفر شروع کرنا ہر ایک کے لیے ممکن ہے اور جو سفر ’’25 پیسے ‘‘سے شروع کیا جائے وہ ہمیشہ کامیاب رہتا ہے۔ p. 140
اپنا حصہ ادا کرنا پڑتا ہے p. 141
ایک لطیفہ ہے کہ ایک شخص اس بات کو نہیں مانتا تھا کہ خدا رازق ہے اور وہی آدمی کو کھلاتا ہے۔ اس کے ساتھی اس کو سمجھاتے مگر وہ نہ مانتا۔ آخر اس نے کہا کہ میں اس کا تجربہ کروں گا۔ چنانچہ ایک روز وہ بالکل سویرے گھر سے نکلا اور جنگل میں جا کر ایک درخت کے اوپر بیٹھ گیا۔ اس نے کہا اگر کھلانے والا خداہے تو وہ ضرور یہاں بھی میرا رزق بھیجے گا۔ p. 141
وہ سارا دن پیڑ پر بیٹھا رہا مگر خدا کی طرف سے اس کا کھانا نہ آیا۔ صبح ناشتہ کا وقت گزرا۔ پھر دوپہر کے کھانے کا وقت گزر گیا۔ اس کے بعد شام آئی اور شام کے کھانے کا وقت بھی گزر گیا اور اس کا کھانا نہ آیا۔ اب اس کو یقین ہو گیا کہ یہ بات غلط ہے کہ خدا کھلاتا ہے۔ اتنے میں اس کو کچھ آدمی آتے ہوئے نظر آئے۔ وہ مسافر تھے اور انھیں کسی درخت کی تلاش تھی جس کے نیچے وہ رات گزار سکیں۔ انھوں نے اِدھر اُدھر دیکھنے کے بعد اسی درخت کو پسند کیا جس کے اوپر مذکورہ شخص بیٹھا ہوا تھا۔ p. 141
درخت پر بیٹھے ہوئے آدمی نے بالکل خاموشی اختیار کر لی کہ دیکھیں اب کیا ہوتا ہے۔ مسافروں نے پڑائو ڈالنے کے بعد لکڑیاں جمع کیں۔ پھر اپنی گٹھری کھولی اور چاول دال نکال کر کھچڑی پکانے لگے۔ جب کھچڑی تیار ہوگئی تو انھوں نے سوچا کہ اس کو بگھار بھی دے دیں۔ تیل میں مرچ ڈال کر جب انھوں نے گرم کیا تو اس کا دھواں اوپر اٹھا اور درخت پر بیٹھے ہوئے آدمی تک پہنچا۔ اس کی وجہ سے اس کو چھینک اور کھانسی آگئی۔ کھانسی کی آواز سن کر مسافروں کو معلوم ہوا کہ درخت کے اوپر بھی کوئی آدمی بیٹھا ہواہے۔ انھوں نے اس کو آواز دے کر بلایا اور اس کو درخت سے اتار کر اپنے کھانے میں شریک کر لیا۔ p. 141
صبح کو آدمی خوشی خوشی اپنے گھر واپس آیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا تم نے جو بات کہی وہ صحیح تھی۔ مگر تم لوگوں نے آدھی بات بتائی۔ بے شک خدا کھلاتا ہے مگر وہ کھانسی آنے کے بعد کھلاتا ہے۔ p. 141
اس لطیفہ میں تمثیل کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے کہ آدمی جو کچھ پاتا ہے وہ خدا کے دیے سے پاتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ اسے اپنا بھی ایک حصہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ خدا اسی کو دیتا ہےجو خدا کے منصوبہ میں اپنے کو شریک کرے۔ انسان کی شرکت اگرچہ پورے واقعہ کا بے حد جزئی حصہ ہوتی ہے۔ مگر وہ بہرحال ضروری ہے۔ اس دنیا میں آدمی اس کا ثبوت دیے بغیر کچھ نہیں پا سکتا۔ یہی دینا تو پانے کا امتحان ہے۔ اسی شرط پر پانے کا استحقاق پیدا ہوتا ہے۔ پھر اپنی طرف سے دینے کی شرط پوری کیے بغیر کوئی شخص خدا کے یہاں پانے والوں کی فہرست میں کس طرح شامل ہو سکتاہے۔ p. 142
منصوبہ بندی p. 142
تاخیر نہیں p. 142
میڈیکل کالج کا پروفیسر زبانی امتحان لے رہا تھا۔ اس نے طالب علم سے پوچھا’’تم ان میں سے کتنی گولیاں اس شخص کو دو گے جس کو دل کا دورہ پڑا ہو‘‘۔طالب علم نے جواب دیا ’’چار‘‘۔ ایک منٹ کے بعد طالب علم نے دوبارہ کہا ’’پروفیسر، کیا میں اپنا جواب بدل سکتا ہوں‘‘پروفیسر نے کہا ’’ہاں ضرور‘‘۔اس کے بعد پروفیسر نے اپنی گھڑی دیکھتے ہوئے کہا ’’مگر مجھے افسوس ہے کہ تمہارا مریض 40 سیکنڈ پہلے مر چکا ہے‘‘۔ p. 142
The Medical-College professor was giving an oral examination. “How many of these pills” he asked, “would you give a man who had a heart attack?” “Four” replied the student. A minute later he piped up. “Professor, can I change my answer?” “You can, by all means”, said the professor, looking at his watch. “But, regrettably, your patient has already been dead for 40 seconds.” p. 142
ایک شخص جس کو دل کا دورہ پڑا ہوا ہو وہ نہایت نازک حالت میں ہوتا ہے۔ اس کو فوری طور پر دوا کی بھر پور خوراک دینا انتہائی ضروری ہے۔ اگر اس کو فوری طور پر بھی بھرپور دوا نہ ملے تو اگلے لمحہ کا تقاضا صرف یہ ہو گا کہ اس آدمی کو ڈاکٹر کی بجائے گورکن کے حوالے کیا جائے۔ p. 143
یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔ بعض معاملات اتنے نازک ہوتے ہیں کہ وہ بلاتاخیر درستکاروائی کا تقاضا کرتے ہیں۔ ایسے معاملات میں آدمی کو فی الفور قطعی فیصلہ لینا پڑتا ہے۔ اگر آدمی فوراً فیصلہ نہ لے سکے تو وہ یقینی طور پر ناکام رہے گا۔ اگلا لمحہ جو اس پر آئے گا وہ صرف اس کی حسرت میں اضافہ کرنے کے لیے ہو گا،نہ کہ اس کی کامیابی کے باب کو مکمل کرنے کے لیے۔ p. 143
زندگی کے سفر کی مثال ٹرین کے سفر کی ہے۔ ٹرین ہمیشہ مقرر وقت پر اسٹیشن پر آتی ہے۔ اور چند منٹ رک کر دوبارہ آگے کے لیے روانہ ہو جاتی ہے۔ ایسی حالت میں صرف وہی شخص ٹرین میںاپنی جگہ پا سکتا ہے جوضروری تیاری کے ساتھ ٹھیک وقت پر پلیٹ فارم پر موجودہو۔ ورنہ ٹرین آئے گی اور اس کو لیے بغیر آگے چلی جائے گی۔ اسی طرح مواقع ہمیشہ اپنے وقت پر آتے ہیں۔ مگر مواقع کسی کے لیے ترقی کا زینہ بن جاتےہیں اور کسی کے لیے محرومی کا اعلان۔ p. 143
نا موافق حالات ترقی کا زینہ بن گئے p. 143
ایک ’’ملا جی‘‘دہلی کی ایک مسجد میں امام تھے۔ امامت کے علاوہ ان کی ذمہ داری یہ بھی تھی کہ وہ روزانہ قرآن کا درس دیں۔ ان تمام خدمات کا معاوضہ تھا۔ ماہانہ 25 روپے تنخواہ، مسجد میں ایک حجرہ اور دو وقت کا کھانا۔ نوجوان ملا جی اس مختصر معاوضہ پر قانع ہونے کے لیے تیار تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ مسجد میرے لیے کم از کم ایک ٹھکانا تو ہے۔ یہاں رہ کر میں اپنے بچے کی تعلیم پوری کرا لوں گا۔ میں نہیں تو میرا بچہ مستقبل میں بہتر معاشی زندگی حاصل کر لے گا۔ p. 143
مگر مسجد کے لوگوں کا سلوک ان کے ساتھ اچھا نہ تھا۔ ہر نمازی ان کو اپنا ملازم سمجھتا۔ ذرا ذرا سی بات میں ہر آدمی ان کے اوپر برس پڑتا اور ان کو ذلیل کرتا۔ کوئی فرش کے لیے، کوئی جھاڑو کے لیے، کوئی لوٹے کے لیے، کوئی کسی اور چیز کے لیے ان پر بگڑتا رہتا۔ وہ معاشی تنگی برداشت کر سکتے تھے۔ مگر ذلت ان کے لیے برداشت سے باہر تھی۔ بالآخر انھوں نے ایک نیا فیصلہ کیا۔ انھوں نے طے کیا کہ مجھےاپنی زندگی کو مستقل طور پر مسجد سے وابستہ نہیں رکھنا بلکہ اپنے لیے کوئی دوسرا کام پیدا کرنا ہے۔ تا ہم فوری طور پر مسجد چھوڑنا بھی بُرا تھا۔ کیونکہ مسجد کی امامت چھوڑنے کے بعد مسجد کا حجرہ ان سے چھن جاتا۔ اور شہر میں دوسری جگہ حاصل کرنا ان کے لیے ممکن نہ تھا۔ p. 144
انھوں نے مسجد کی امامت کرتے ہوئے شہر کے طبیہ کالج میں داخلہ لے لیا اور خاموشی کے ساتھ طب کی تعلیم حاصل کرنے لگے۔ طبّی تعلیم کی تکمیل میں ان کو پانچ سال لگ گئے۔ اس دوران وہ مسجد کے لوگوں کے برے سلوک کو پہلے سے بھی زیادہ خوش اسلوبی کے ساتھ برداشت کرتے رہے۔ نئے فیصلہ میں کامیاب ہونے کے لیے ضروری تھا کہ وہ صبر کریں۔ ذلت کی زندگی سے نکلنے ہی کی خاطر ذلت کی زندگی کو چند سال اور برداشت کریں۔ p. 144
بالآخر وہ وقت آیا کہ انھوں نے طبّی کالج سے ڈاکٹری کی سند حاصل کر لی۔ اب انھوں نے مسجد والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امامت سے استعفیٰ دے دیا اور شہر کے ایک محلہ میں ایک جگہ کرایہ پر لے کر اپنا مطب کھول لیا۔ ان کی زندگی کے تلخ تجربات اور مستقبل کی خاطر ان کی طویل جدوجہد نے ان کو بہت کچھ سکھا دیا تھا۔ انھوں نے نہایت محنت اور ہوشیاری کے ساتھ اپنا مطب چلایا۔ صرف چھ ماہ بعد ان کی آمدنی اتنی ہو گئی کہ ایک مکان لے کر وہ بچوں کے ساتھ بفراغت رہنے لگے۔ ایک سال کے بعد انھیں مقامی طبّی کالج میںلیکچرر کی جگہ بھی مل گئی۔ اس طرح ان کی معاشی زندگی میں مزید استحکام پیدا ہو گیا۔ کل کے ملا جی اب ڈاکٹر صاحب بن کر زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کو عزت بھی حاصل ہے اور معاشی فارغ البالی بھی۔ p. 144
زندگی کے نا موافق حالات زندگی کے نئے زینے ہوتے ہیں جن کو استعمال کر کے آدمی آگے بڑھ سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ ناموافق حالات سے نفرت اور شکایت کا سبق نہ لے۔ بلکہ مثبت ذہن کے تحت اپنے لیے نیا مستقبل بنانے میں لگ جائے۔ p. 144