Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
خود کشی p. 204
مسٹر آئنا دیو انگاڈی(بنگلور) اس وقت کیمبرج میں زیر تعلیم تھے جب پنڈت جواہر لال نہرو وہاں تعلیم کے لیے گئے۔ ان کا اور نہرو کا بہت قریبی ساتھ تھا۔ چنانچہ ان کے بیٹے مسٹرڈیرین انگاڈی کی پرورش اس طرح ہوئی کہ وہ بچپن سے نہرو کے تذکرے سنتے تھے اور نہرو کی نقل کرتے تھے۔ مسٹر ڈیرین انگاڈی بعد کو فلم ایکٹر بن گئے۔ p. 204
لارڈ اٹن برو نے تقریباً 25 کروڑ روپے کے خرچ سے ’’ گاندھی ‘‘ نامی مشہور فلم بنائی ہے۔ ابتداء ً جب اس فلم کے لیے کرداروں کی تلاش ہوئی تو جو اہر لال نہرو کا رول ادا کرنے کے لیے مسٹر ڈیرین انگاڈی کو موزوں سمجھا گیا اور ان کو اس کام کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ مگر چھ ماہ بعد انھیں اطلاع دی گئی کہ ان کا نام کرداروں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے اور مسٹر روشن سیٹھ ان کے بجائے پنڈت نہرو کا رول ادا کریں گے p. 204
This was six months after Darien Angadi had been given the part, during which he had worked hard to perfect his role. p. 204
ڈیرین کو رول دینے کے چھ ماہ بعد ایسا ہوا۔اسدوران انھوں نے سخت محنت کی تھی تاکہ وہ فلم میں معیاری رول ادا کر سکیں (ہندوستان ٹائمس، 16 ستمبر 1984)۔چنانچه مسٹرڈیرین کو اس کا اتنا صدمہ ہوا کہ انھوں نے 5 دسمبر 1981 کو خود کشی کر لی۔ p. 205original + quote
مذکورہ شخص نے کیوں خود کشی کر لی۔ اس لیے کہ اس نے چھ مہینے تک محنت کر کے اپنے اندر جو صلاحیت پیدا کی تھی اس کو اس کا وہ استعمال نہیں ملا جو اس نے چاہا تھا۔ اس سے اس کے اندر مایوسی پیدا ہوئی اور اس نے اپنے آپ کو ہلاک کر لیا۔ p. 205
مگر انسان اپنی محنت سے اپنے اندر جو صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ وہ صلاحیت اپنی قیمت آپ ہے۔ اگر فوری طور پر اس کو اس کے استعمال کا موقع نہ ملے تب بھی وہ ایک محفوظ خزانہ ہے۔ اس کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس کی محنت بے کار چلی گئی۔ اس کی محنت سے پیدا شدہ لیاقت بد ستور اس کے پاس موجود رہتی ہے اور جلد ہی آدمی کوئی دوسرا موقع پا لیتا ہے جہاں وہ اس کو استعمال کر کے اس کی پوری قیمت وصول کر سکے۔ p. 205