Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
کامیاب انسان p. 250
لی آئی کوکا (Lee Iacocca) کی پیدائش 1924 میں ہوئی۔ ان کے والدین بہت غریب تھے اوروہ تلاش معاش میں اٹلی چھوڑکر امریکا چلے گئے۔ آئی کوکانے محنت سے تعلیم حاصل کی اور انجینئرنگ میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ تعلیم کے بعد مسٹر آئی کوکا کو فورڈموٹر کمپنی میں ملازمت مل گئی۔ وہ ترقی کرتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ فورڈ کمپنی کے پریزیڈنٹ ہو گئے۔ اس کے بعد ہنری فورڈدوم سے ان کا اختلاف ہو گیا۔ 1978 میں انھیں فورڈکمپنی چھوڑ دینا پڑا۔ p. 251
آئی کوکا کو ایک او ر کمپنی کی صدارت مل گئی جس کا نام کرسلر کارپوریشن (Chrysler Corporation)ہے۔ یہ کمپنی اس وقت بالکل دیوالیہ ہو گئی تھی۔ آئی کوکا نے تین سال کی غیرمعمولی محنت سے اس کو کامیابی کے ساتھ چلادیا۔ حتیٰ کہ اب وہ فخر کے ساتھ کہتے ہیں p. 251
I am the company p. 251
آئی کوکا نے اپنی سوانح عمری لکھی ہے جس کانام ہے p. 251
Iacocca:An Autobiography, 1984 p. 251
اس خود نوشت سوانح عمری میں بہت سے قیمتی تجربات ہیں انھوںنے اپنے ایک تجربہ کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے p. 252
The key to success is not information. It's people. And the kind of people I look for to fill top management spots are the eager beavers. These are the guys who try to do more than they're expected to... p. 252
کامیابی کی کنجی معلومات اور ڈگریاں نہیں ہیں۔ یہ دراصل افراد ہیں۔ اورمیں اپنی کمپنی کے بڑے عہدوں کے لیے جس قسم کے افراد کی تلاش میں رہتا ہوں وہ عمل کے شائق لوگ ہیں۔ یہ وہ آدمی ہیں جو اس سے زیادہ کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں جتنی ان سے کرنے کی امید کی گئی ہو۔ (ٹائمس آف انڈیا 22 ستمبر 1985) p. 252original + quote
امید سے زیادہ کام کرنا سنجیدہ اور با عمل آدمی کی قطعی پہچان ہے۔ جو لوگ امید سے زیادہ کام کرنے کی کوشش کریں وہی وہ لوگ ہیں جو اپنی زندگی میں امید سے زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔ p. 252