Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
محفوظ سفر p. 101
جولائی 1969 میں امریکا نے انسان بردارراکٹ چاند کی طرف بھیجا تھا۔ اس راکٹ کی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ جب اس کی پہلی منزل کا انجن داغا گیاتو ایک بے حد ہولناک آواز پیدا ہوئی۔ یہ آواز اتنی تیز تھی کہ اس نے ایک سو میل کے رقبہ کو ہلا دیا۔ مگر جو خلا باز اس راکٹ میں سفر کر رہے تھے ، ان کو صرف دس سیکنڈ بعد یہ آواز سنائی دینا بند ہو گئی۔ وہ کان کے پردے پھاڑ دینے والی اس آواز سے محفوظ ہو کر اپنے سفر پر رواں ہو گئے۔ p. 101
ایسا کیوں کر ہوا۔ اس کی وجہ انسان بردار راکٹ کی تیز رفتاری تھی۔ آواز معمولاً ہوا کے ذریعہ پھیلتی ہے ، اس لیے اس کی رفتار سات سو میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ جب کہ راکٹ کی رفتار 25 ہزار میل فی گھنٹہ سے بھی زیادہ تھی۔ رفتار کے اس فرق کی وجہ سے ایسا ہواکہ صرف دس سیکنڈ بعد راکٹ اس خوفناک آواز کی زد سے باہر جا چکا تھا۔ آواز سات سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی اور راکٹ 25 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگ رہا تھا۔ اس فرق کا یہ نتیجہ ہوا کہ ابتدائی لمحات کے بعد راکٹ کے پھٹنے کی آواز خلا بازوں کے کنٹرول روم تک پہنچنا بند ہو گئی۔ خلا باز بھیانک آواز پیدا کرنے والی سواری میں سفر کر رہے تھے۔ مگر اس کے باوجود اس کی بھیانک آواز سے ان کے کان محفوظ تھے۔ p. 101
اسی طرح ہر شخص اور ہر قوم کی زندگی میں یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ ناخوش گوار حالات اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ اب اگر وہ اپنی جدوجہد کی رفتار اتنی تیز کر لے کہ نا خوش گوار حالات کے مقابلہ میں اس کی رفتار بڑھ جائے تو وہ ان کی زد سے نکل جائے گا ، وہ ان سے اسی طرح محفوظ ہو جائے گا جس طرح خلا باز اپنے راکٹ کے پھٹنے کی طوفانی آواز سے محفوظ ہو گئے۔ p. 102
زندگی کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ایک شخص یا قوم کے لیے ممکن ہے کہ یہاں بھی وہ ایسا سفر کر سکے جس میں وہ دوسروں کی زد سے محفوظ ہو۔ اگر دوسرے جلد بازی کی رفتار سے چل رہے ہوں اور آپ صبر کی رفتار سے چلنے لگیں۔ دوسرے منفی کارروائیوں کی بنیاد پر اٹھے ہوں اور آپ مثبت عمل کا طریقہ اختیار کریں۔ دوسرے مادی طاقت کے سہارے بڑھیں اور آپ اخلاقی طاقت کے زور پرکھڑے ہوں۔ دوسرے ظاہری انسان سے ٹکرا رہے ہوں اور آپ اندرونی انسان کو اپنا نشانہ بنائیں۔ تو یقینی ہے کہ آپ لوگوں کی زد سے اسی طرح باہر ہوں گے جس طرح راکٹ سوار اپنے راکٹ کی بھیانک آواز سے۔ p. 102