Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
بتائے بغیر p. 230
ایک انگریزی کتاب میں ایک دلچسپ واقعہ پڑھا۔ اس کے الفاظ یہ تھے p. 230
When Sir Charles Napier conquered sind in 1843, his victory message to the Governor-General, Lord Dalhousie, read “Peccavi” which in Latin means, “I have sinnned”. p. 231
انگریز جنرل سر چارلس نیپئر نے جب 1843ء میں سندھ کو فتح کیا تو اس نے اس وقت کے ہندوستانی گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی کو فتح کا پیغام ان لفظوں میں بھیجا’’پیکاوی‘‘ یہ لاطینی لفظ ہے جس کے معنی ہوتے ہیں ’’میں نے گناہ کیا‘‘۔ p. 231unverified
بظاہر یہ بڑا عجیب پیغام تھا۔ فوجی افسر اور گورنر جنرل میں پہلے سے ایسی کوئی قرارداد نہیں ہوئی تھی جس کے مطابق وہ اس کا مطلب جان لیتا۔ اس کے باوجود گورنر جنرل اس کو سمجھ گیا۔ اس نے پیکاوی کا انگریزی ترجمہ کاغذ پر لکھا تو وہ اس طرح تھا۔ I have sinnedاس کو دیکھ کر وہ فوراً سمجھ گیا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ میں نے سندھ کو سر کر لیا ہے۔ p. 231
نازک اور بڑے معاملات میں عہدہ برآ ہونے کے لیے ہمیشہ ایسے ہی ذہین اور دور رس افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی ایسے لوگ جو اشاروں کی ذریعے تفصیل کو سمجھ لیں۔ جو نہ کہی ہوئی بات کو کہی ہوئی بات کی طرح جان لیں۔ جو اس بات کو پڑھ لیں جو سطروں میں لکھی ہوئی موجود نہیں ہے اور نہ کبھی موجود ہو سکتی ہے۔ p. 231
زندگی کی حقیقتوں میں سے ایک حقیقت یہ ہے کہ ہر بات پیشگی بتائی نہیں جا سکتی۔ بہت سی باتوں کو بتائے بغیر جاننا پڑتا ہے۔ جن لوگوںکے اندر یہ صلاحیت ہو وہی کوئی قابل ذکر کام کرتے ہیں۔ اور جو لوگ اس صلاحیت سے محروم ہوں وہ صرف نادانیاں کریں گے اور اس کے بعد شکایتوں کا دفتر لے کر بیٹھ جائیں گے۔ p. 231
دنیا میں سب سے زیادہ خوش قسمت انسان وہ ہے جس کو ایسے ساتھی مل جائیں جوچپ کی زبان جانتے ہوں۔ جو بولے بغیر سنیں اور لکھے بغیر پڑھیں۔ جو سطروں سے گزر کر بین السطور میں چھپی ہوئی باتوں کو جان لیں۔ p. 232