Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مسائل اور مواقع p. 304
انگریزی کا ایک مثل ہے— مسائل کو بھوکا رکھو ، مواقع کو کھلائو p. 304other source
Starve the problems, feed the opportunities. p. 305
یہ ایک بہت با معنی بات ہے۔ بلکہ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ جو شخص اس گہری حکمت کو جانے اور اس کو استعمال کرے وہی اس دنیا میں کامیاب ہوتا ہے جو شخص اس حکمت کو نہ جانے اور اس کو استعمال نہ کر سکے اس کے لیے نا کامی کے سوا اور کوئی چیز مقدر نہیں۔ p. 305
اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں آدمی ہمیشہ دو قسم کی چیزوں کے درمیان رہتا ہے۔ ایک مسائل اور دوسرے مواقع۔ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کچھ مسائل سے گھرا ہوا ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ ہمیشہ یہ بھی ہوتا ہے کہ آدمی کے قریبی ماحول میں کچھ قیمتی مواقع موجود ہوتے ہیں جن کو بھرپور استعمال کرکے وہ کامیابی کی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ صورت حال ایک فرد کے ساتھ بھی پیش آتی ہے اور ایک پوری قوم کے ساتھ بھی۔ p. 305
یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ دنیا لوگوں کا امتحان لے رہی ہے۔ جو شخص صرف اپنے مسائل کو دیکھے اور اس میں الجھ جائے وہ اپنے مواقع کو کھو دے گا۔ اس کے بر عکس جو شخص مواقع کو دیکھے اور ان کو بھر پور استعمال کرے وہ مسائل میں زیادہ توجہ نہ دے سکے گا۔ مسائل کو ’’ کھلانا ‘‘ مواقع کو ’’ بھوکا ‘‘ رکھنے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ اسی طرح جو شخص مواقع کو کھلائے وہ اس قیمت پر ہو گا کہ اس کے مسائل بھوکے رہ جائیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مواقع کو استعمال کرنے کے لیے ہمیشہ مسائل کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ p. 305
تجربہ بتاتا ہے کہ مسائل میں الجھنا کبھی کسی کے لیے مفید نہیں ہوتا۔ آخری نتیجہ کے طور پر وہ صرف وقت کو ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔ مگرجو شخص اپنے آپ کو مواقع کے استعمال میں لگاتا ہے وہ نہ صر ف مواقع کا فائدہ حاصل کرتا ہے بلکہ اس کی کامیابی بالواسطہ طو رپر اس چیزکو بھی حل کر دیتی ہے جس کو مسائل کہتے ہیں۔ p. 305