Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
برائی کی جڑ p. 245
ولیم لا (1761۔ 1686) ایک مشہور انگریز مصنف ہے۔ اس نے اخلاقیات کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے— برائی جب بھی شروع ہوتی ہے غرور سے شروع ہوتی ہے۔ برائی کا جب بھی خاتمہ ہوتا ہے تو انکساری کے ذریعہ ہوتا ہے p. 245other source
Evil can have no beginning, but from pride, nor any end but from humility ) William Law). p. 245other source
کہنے والے نے یہ بات اخلاقی اعتبار سے کہی ہے۔ مگر آسمانی شریعت کی بات بھی یہی ہے۔ خدا کے نزدیک کسی آدمی کا سب سے بڑا جرم شرک اور غرور ہے۔ ہر چیز کی معافی ہو سکتی ہے مگر شرک اور غرور کی معافی نہیں۔ p. 245original + quote
ایک انسان دوسرے انسان کے مقابلہ میں جو بھی ظلم یا فساد کرتا ہے ان سب کی جڑ میں کھلا یا چھپا ہوا غرور شامل رہتا ہے۔ غرور کی وجہ سے آدمی حق کا اعتراف نہیں کرتا۔ کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ حق کا اعتراف کرنے سے ان کی بڑائی ختم ہو جائے گی۔ وہ بھول جاتا ہے کہ حق کو نہ مان کر وہ حق کے مقابلہ میں خود اپنی ذات کو بر تر قرار دے رہا ہے۔ حالاں کہ اس دنیا میں سب سے بڑی چیز حق ہے،نہ کہ کسی کی ذات۔ p. 246
جس آدمی کے مزاج میں غرور ہو وہ اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ موجودہ دنیا میں کامیابی کا اصل راز یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو حقیقت واقعہ کے مطابق بنائے۔ وہ وہی کرے جو ازروئے حقیقت اس کو کرنا چاہیے اور وہ نہ کرے جو ازروئے حقیقت اس کو نہیں کرنا چاہیے۔ p. 246
مگر مغرور آدمی کا برتری کا مزاج اس کے لیے اس میں مانع بن جاتا ہے کہ وہ اپنے کو حقیقت کے مطابق ڈھالے۔ وہ چاہتا ہے کہ حقیقت خود اُس کے مطابق ڈھل جائے۔ p. 246
چوں کہ عملاً ایسا ہونا ممکن نہیں ، اس لیے ایسے آدمی کا اس دنیاہی میں کامیاب ہونا بھی ممکن نہیں۔ p. 246
کامیاب تدبیر p. 247
’’جیل سے فرار‘‘ موجودہ زمانہ میں ایک آرٹ بن گیا ہے۔ اخبارات میں اس کی مثالیں آتی رہتی ہیں۔ اس سلسلہ کا ایک دل چسپ واقعہ وہ ہے جو 26 مئی 1986 کو پیرس میں پیش آیا۔ p. 247
ترقی یافتہ مغربی ملکوں میں ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر عام استعمال کی چیز بن گئے ہیں۔ وہاں کوئی شخص اسی طرح ایک ہیلی کاپٹر کرایہ پر لے سکتا ہے جس طرح ہندوستان جیسے ملکوں میں موٹرکار کرایہ پر حاصل کی جاتی ہے۔ مذکورہ تاریخ کو ایک 30 سالہ عورت نے ایک تجارتی ادارہ ائیر کانٹیننٹ (Air continent)سے ایک ہیلی کاپٹر کرایہ پر لیا۔ وہ خود اس کو اڑاتی ہوئی پیرس کے جیل (La Sante prison) کے اوپر پہنچی اور طے شدہ پروگرام کے مطابق ایک قیدی کو لے کر فرار ہو گئی۔ p. 247
اس جیل میں ایک 34 سالہ شخص قید تھا۔ اس کا نام مائیکل واجور ((Michel Vaujourبتایا گیا ہے۔ مسلح قزاقی کے جرم میں اس کو 8 مارچ 1985 کو 18 سال کی سزا ہوئی تھی۔ مذکورہ ہیلی کاپٹر ساڑھے دس بجے دن میں اڑتا ہوا جیل کی فضا میں پہنچا۔ وہ اس کی ایک چھت پر اُترا اور مذکورہ قیدی کو لے کر اڑ گیا۔ یہ پوری کارروائی صرف 5 منٹ کے اندر مکمل ہو گئی۔ جیل میں مسلح پولیس موجود تھی۔ مگر یہ ساری کارروائی اتنی اچانک اور اس قدر غیر متوقع طور پر ہوئی کہ مسلح پولیس اس کے اوپر ایک فائر بھی نہ کر سکی۔ ( ٹائمس آف انڈیا ، انڈین ایکسپریس 27 مئی 1986) p. 247other source
جب دو فریقوں میں مقابلہ ہو تو اس میں وہی فریق کامیاب ہوتا ہے جو مذکورہ قسم کی تدبیر اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ موجودہ دنیا میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ حریف کو بے خبری میں پکڑ لیا جائے۔ اچانک ایسا اقدام کیا جائے جس کے متعلق فریق ثانی فوری طور پر کچھ نہ سوچ سکے۔ اس کو صرف اس وقت ہوش آئے جب کہ اس کے خلاف کاروائی اپنی کامیابی کی آخری حد پر پہنچ چکی ہو۔ p. 247
مذکورہ مثال میں اس تدبیر کو ایک شخص نے مجرمانہ جارحیت کے لیے استعمال کیا۔ مگر جائز دفاع کے لیے بھی یہی تدبیر سب سے زیادہ موثر تدبیر ہے۔ p. 248