Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مل کر کام کرنا p. 274
شہد کی تیاری ایک بے حد محنت طلب کام ہے۔ بہت سی مکھیاں لگاتار رات دن کام کرتی ہیں تب وہ چیز وجود میں آتی ہے جس کو شہد کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی ایک پھول میں اس کی مقدار بہت تھوڑی ہوتی ہے۔ بے شمار پھولوں کا رس جمع کیا جاتا ہے تب کہیں یہ ہوتا ہے کہ شہد کی قابل لحاظ مقدار تیار ہو سکے۔ p. 274
ایک پونڈ (نصف کلو)شہد تیار کرنے کے لیے شہدکی مکھیوں کو مجموعی طور پر بعض اوقات تین لاکھ میل کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ مشاہدہ بتاتا ہے کہ ایک مکھی کی عمر چند مہینے سے زیادہ نہیں ہوتی اس لیے کوئی ایک مکھی تنہا ایک پونڈ شہد تیار نہیں کر سکتی ،خواہ وہ اپنی عمر کا ہر لمحہ پھولوں کا رس جمع کرنے میں لگا دے۔ p. 274
اس مشکل کا حل شہد کی مکھیوں نے اجتماعی کوشش میں تلاش کیا ہے۔ یعنی جو کام ایک مکھی نہیں کر سکی اس کو لاکھوں مکھیا ں مل کر انجام دیتی ہیں۔ جو کام ’’ ایک ‘‘ کے لیے نا ممکن ہے وہ اس وقت ممکن بن جاتا ہے جب کہ کرنے والے ’’ لاکھوں ‘‘ ہو گئے ہوں۔ p. 274
یہ قدرت کا سبق ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ ممکن تھا کہ شہد کے بڑے بڑے ذخیرے زمین پر رکھ دے جس طرح پٹرول اور پانی کے ذخیرے بہت بڑی مقدار میں زمین پر جگہ جگہ موجود ہیں۔ مگر شہد کی تیاری کو اللہ نے ایک بے حد پیچیدہ نظام سے وابستہ کر دیا۔ اس حیرت انگیز نظام کے اندر انسان کے لیے بیشما ر سبق ہیں۔ ان میں سے ایک سبق وہ ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ p. 274
انسانی زندگی میں کچھ کام ایسے ہیں جن کو ہر آدمی کم وقت میں اپنی ذاتی کوشش سے انجام دے سکتا ہے۔ مگر کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جن کو کوئی شخص تنہا انجام نہیں دے سکتا۔ ایسے کام کو واقعہ بنانے کی واحد ممکن شکل وہی ہے جو شہد کی مکھی کی مثال میں نظر آتی ہے۔ یعنی بہت سے لوگ مل کر اسے انجام دیں۔ p. 275
تاہم مل کر کام کرنا ہمیشہ ایک قربانی کی قیمت پر ہوتا ہے ، اور وہ قیمت صبر ہے۔ فرد کے اندر اٹھنے والے با غیانہ جذبات کو کچلنا ہی وہ چیز ہے جو اجتماعی عمل کو ممکن بناتی ہے۔ اس قربانی کے بغیر کبھی اجتماعی عمل ظہور میں نہیں آتا۔ p. 275