Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
جھگڑے سے بچ کر p. 314
دو کسانوں کے کھیت ملے ہوئے تھے۔ ان کے درمیاان ایک مینڈ کا جھگڑا ہو گیا۔ ہرایک کہتا تھا کہ مینڈ میری ہے۔ دونوں کھیت کی مینڈ پر لڑ گئے۔ یہ جھگڑا پہلے’’ مینڈ ‘‘ کا تھا پھر وہ ’’ ساکھ ‘‘ کا مسئلہ بن گیا۔ ہر ایک کو دکھائی دینے لگا کہ مینڈ سے ہٹنا لوگوں کی نظر میں اپنے آپ کو بے عزت کرنا ہے۔ چنانچہ جھگڑا بڑھتا رہا۔ وہ یہاں تک بڑھا کہ دونوں طرف قتل ہوئے، کھیت کاٹے گئے۔ دونوں نے ایک دوسرے کی چیزیں جلائیں۔ اس کے بعد معاملہ اور بڑھا۔ وہ پولس اور عدالت کا معاملہ بن گیا۔ مقدمہ بازی کا لمبا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ مقدمات 20 سال بعد صرف اس وقت ختم ہوئے جب کہ ان کے کھیت، باغ ، زیورات سب بک گئے۔ ایک معمولی مینڈ کو پانے کے لیے دونوں نے اپنا سب کچھ کھو دیا۔ p. 314
یہی مینڈ کا جھگڑا ایک اور کسان کے ساتھ پیدا ہوا۔ مگر اس نے فوری اشتعال کے تحت کاروائی کرنے کے بجائے اس پر غور کیا۔ سمجھ دارلوگوں سے مشورے کیے۔ آخر کار اس کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ مینڈ کا جھگڑا مینڈ پر طے نہیں ہوتا۔ جھگڑے کو طے کرنے کی جگہ دوسری ہے۔ یہ سوچ کر اس نے جھگڑےکی مینڈ چھوڑ دی۔ p. 314
اس نے یہ کیا کہ مسئلہ پر ’’ آج ‘‘ سے سوچنے کے بجائے ’’ پیچھے ‘‘ سے سوچنا شروع کیا۔ مینڈ کے واقعہ سے اس کے دل کو بھی چوٹ لگی۔ اس کو بھی اپنے نقصان اور اپنی بے عزتی سے وہی تکلیف ہوئی جو ہر انسان کو ایسے وقت پر ہوتی ہے۔ مگر اس نے اپنے جذبات کو تھاما۔ فوری جوش کے تحت کاروائی کرنے کے بجائے سوچ سمجھ کر اقدام کرنے کا فیصلہ کیا۔ p. 314
میرے حریف کو میری مینڈ پر قبضہ کرنے کی جرأت ہی کیوں ہوئی، اس سوال پر غور کرتے کرتے وہ اس رائے پر پہنچا کہ اس کی وجہ حریف کے مقابلہ میں میری کمزوری ہے۔ میرا اور حریف کا اصل معاملہ مینڈ کامعاملہ نہیں ہے۔ بلکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ میری پوزیشن میرے حریف کے مقابلہ میں اتنی زیادہ نہیں کہ وہ مجھ سے دبے اور میرے حقوق پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ کرے۔ ٹھنڈے ذہن سے سوچنے کے بعد اس کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ اگر وہ اپنی طاقت اور حیثیت کو بڑھالے تو وہ زیادہ بہتر طور پر اپنے حریف کے مقابلہ میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اس کے بعد اس کے حریف کو اس کے اوپر دست اندازی کی جرأت ہی نہ ہو گی۔ p. 315
اب اس نے اپنے کھیتوں پر پہلے سے زیادہ محنت شروع کر دی جو طاقت وہ حریف کو برباد کرنے کی کوششوں میں لگا تا اسی طاقت کو اس نے خود اپنی تعمیر میں لگانا شروع کر دیا۔ اس نئی فکر نے اس کے اندر نیا حوصلہ جگا دیا۔ وہ نہ صرف اپنے کھیتوں میں زیادہ محنت کرنے لگا بلکہ کھیتی کے ساتھ کچھ اور قریبی کاروبار بھی شروع کر دیا۔ اس کے نئے شعور کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے اپنی زندگی کو ازسرنو منظم کیا۔ وہ خرچ کو کم کرنے اور آمدنی کو بڑھانے کے اصول پر سختی سے عمل کرنے لگا۔ اسی کے ساتھ اپنے بچوں کو تعلیم کی راہ پر لگا دیا۔ اس نے طے کر لیا کہ اپنے ہر بچہ کو اعلیٰ مرحلہ تک تعلیم دلائے گا۔ p. 315
اس دوسرے شخص کو بھی اپنی کوششوں میں اسی طرح 20 سال لگ گئے جس طرح پہلے شخص کو 20 سال لگے تھے۔ مگر پہلے شخص کے لیے 20 سال بربادی کے ہم معنی تھا، جب کہ دوسرے شخص کے لیے 20 سال آبادی کے ہم معنی بن گیا۔ اس 20 سال میں اس کے بچے پڑھ لکھ کر اچھے عہدوں پرپہنچ چکے تھے۔ اس نے اپنی کھیتی اتنی بڑھا لی تھی کہ اس کے یہاں ہل بیل کے بجائے ٹریکٹر چلنے لگا تھا۔ جس کسان سے اس کا مینڈ کا جھگڑا ہوا تھا اس کا وہ پورا کھیت اس نے مینڈ سمیت خرید لیا۔ p. 315
جس آدمی نے مینڈ کا جھگڑا مینڈ پر طے کرنے کی کوشش کی وہ تباہ ہو گیا۔ اس کے برعکس، جس نے مینڈ کو چھوڑ کر دوسرے میدان میں مقابلہ کی کوشش کی وہ آخر کار نہ صرف مینڈ کا مالک بنا بلکہ حریف کا پورا کھیت اس کے قبضہ میں آگیا۔ p. 315
بجلی کا بلب جلتے جلتے بجھ جائے یا پنکھا چلتے چلتے رک جائے تو ہم بلب کو توڑ کر نہیں دیکھتے یاپنکھے سے نہیں الجھتے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بلب بجھنے اور پنکھا بند ہونے کی وجہ بلب اور پنکھے کے اندر نہیں ان کے باہر ہے۔ اور پھر جہاں سے فرق پڑا ہو وہاں درست کر کے اپنے بلب اور پنکھے کو دوبارہ چلا لیتے ہیں۔ انسانی معاملات بھی اکثر اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ بلب اور پنکھے کے معاملہ میں جو بات آدمی کبھی نہیں بھولتا اسی بات کو انسانی معاملہ میں ہمیشہ بھول جاتا ہے۔ p. 315
آدمی کی یہ عام کمزوری ہے کہ جب بھی اس کی زندگی میں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اسی مقام پر اپنا سر ٹکرانے لگتا ہے جہاں مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ حالانکہ اکثر حالات میں یہ ہوتا ہے کہ مسئلہ کہیں پیدا ہوتا ہے اور اس کی وجہ کہیں ہوتی ہے۔ ’’حال ‘‘ کا ایک واقعہ اکثر ’’ ماضی ‘‘ کے کسی واقعہ کا نتیجہ ہوتا ہے ایک معاملہ میں کسی کی زیادتی اکثر حالات میں کسی اور معاملہ میں پائی جانے والی ایک صورت حال کے سبب سے وقوع میں آتی ہے۔ ایسی حالت میں بہترین عقل مندی یہ ہے کہ آدمی جائے وقوع پر سر نہ ٹکرائے۔ بلکہ اصل سبب کو معلوم کر کے بات کو وہاں بنانے کی کوشش کرے جہاں بات بگڑ جانے کی وجہ سے اس کے ساتھ وہ حادثہ پیش آیا ہے جس میں وہ آج اپنے کو مبتلا پاتا ہے۔ p. 316