Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
حقیقی حل p. 275
ایک فارسی شاعر نے کہا ہے کہ ہم نے اپنے دوست سے سو بار جنگ کی اور سو بار صلح کی۔ مگر اس کو ہماری جنگ وصلح کی خبر بھی نہ ہو سکی۔ کیوں کہ یہ سب ہم خود ہی خود اپنے اندر کرتے رہے p. 275original + quote
صدبار جنگ کردہ بہ اوصلح کر دہ ایم او را خبر نہ بودہ زصلح وزجنگ ما p. 275
یہ بات بظاہر شاعری کی دنیا کی ہے مگر یہ حقیقت کی دنیا کے لیے بھی نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ کسی بڑے مقصد کے حصول کے لیے جس صلاحیت کے افراد درکار ہوتے ہیں وہ بھی عین وہی صلاحیت ہے جس کا ذکر اس شعر میں کیا گیاہے۔ یعنی اپنے اندر پیدا ہونے والی شکایت کو خود ہی اپنے اندر ختم کر لینا۔ p. 276
کوئی بڑا مقصد کوئی شخص تنہا حاصل نہیں کر سکتا۔ ہر بڑے مقصد کے لیے بہت سے آدمیوں کی متحدہ کوشش ضروری ہوتی ہے۔ مگر متحدہ کوشش ہمیشہ ایک مسئلہ بھی پیدا کرتی ہے۔ اور وہ ہے افراد کا باہمی اختلاف۔ p. 276
جب بھی بہت سے لوگ مل کر کوشش کریں تو لازماً ان کے درمیان طرح طرح کی شکایتیں اور تلخیاں پیدا ہوتی ہیں۔ کبھی تقسیم میں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو با عتبار عہدہ اونچی جگہ ملتی ہے اور کسی کو نیچی۔ کسی کی کوئی بات دوسرے کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوتی ہے۔ کسی کا کوئی عمل دوسرے کو اپنے مفاد کے خلاف نظر آتا ہے۔ غرض بار بار ایک دوسرے کے درمیان ایسی باتیں ہوتی ہیں جو آپس کی تلخی پیدا کریں۔ جو ایک کو دوسرے کے خلاف غصہ ، حسد ، انتقام اور عداوت میں مبتلا کر دیں۔ p. 276
ایسے موقع پر قابل عمل حل صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ ہر آدمی ایک خود اصلاحی مشین (Self-correcting machine) بن جائے۔ وہ اپنے اندر پیدا ہونے والے ہیجان کو خود ہی ٹھنڈا کر لے۔ وہ اپنی شکایت کو خود ہی اپنے اندر رفع کر لے۔ p. 276
خلیفہ دوم عمر فاروق نے جب خالد بن ولید کو سپہ سالاری کے عہدہ سے معزول کیا تو فوری طور پر حضرت خالد کے دل میں شدید ردعمل پیدا ہوا مگر پھر اسی لمحہ انھوں نے یہ کہہ اپنے آپ کو مطمئن کرلیا کہ تم جو کچھ کر رہے تھے خدا سے انعام پانے کی امید میں کر رہے تھے۔ پھر تم کو عُمرسے خفا ہونے کی کیا ضرورت۔ انھوں نے حضرت عمر سے شکایت کرنے کے بجائے اپنی اصلاح آپ کر لی۔ p. 276