Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
آغاز نیچے سے p. 149
ایک شخص جس کی داڑھی میں سفیدی آچکی تھی، رکروٹنگ آفس میںداخل ہوا،’’مجھے سپاہی کی حیثیت سے بھرتی کر لیجئے‘‘اس نے کہا۔ p. 150
’’مگرتمھاری عمر کیا ہے‘‘سرجنٹ نے پوچھا۔ p. 150
’’باسٹھ سال‘‘۔ p. 150
’’تم اچھی طرح جانتے ہو کہ باسٹھ سال کی عمر سپاہی بننے کے لیے بہت زیادہ ہے‘‘۔ p. 150
’’سپاہی کے لیے یہ عمر زیادہ ہو سکتی ہے‘‘آدمی نے کہا ’’مگر کیا آپ کو کسی جنرل کی ضرورت نہیں؟‘‘ p. 150other source
ایک انگریزی رسالہ (مئی 1982)میں مذکورہ واقعہ چھپا ہے اوراس کا عنوان طنزیہ طور پر ان لفظوں میں قائم کیا گیا ہے— اوپر سے آغاز p. 151other source
Starting at the top. p. 151
ایک شخص جنرل کے عہدہ سے اپنی فوجی زندگی شروع کرنا چاہے تو وہ کبھی ایسا نہیں کر سکتا۔ یہی معاملہ عام زندگی کا ہے۔ یہاں کسی کے لیے چھلانگ ممکن نہیں۔ جس طرح درخت کا آغاز بیج سے ہوتا ہے اسی طرح زندگی کی تعمیر کا آغاز بھی ابتدائی نقطہ سے ہوتا ہے۔ آخری نقطہ سے آپ اپنی زندگی کا آغاز نہیں کر سکتے۔ p. 151
تجارت روپیہ لگانے سے شروع ہوتی ہے،نہ کہ نفع کمانے سے۔ ڈاکٹری کی تعلیم محنت سے شروع ہوتی ہے،نہ کہ بازار میں شان دار بورڈ لگانے سے۔ مکان کی تعمیر بنیاد سے شروع ہوتی ہے،نہ کہ چھت ڈالنے سے۔ کھانے کا آغاز فصل بونے سے ہوتا ہے،نہ کہ دسترخوان لگانے سے۔ کارخانہ کاآغازمشین کی فراہمی سے ہوتا ہے،نہ کہ تیار مال بیچنے سے وغیرہ۔ p. 151
اسی طرح اجتماعی معاملات میں آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ افراد کے اندر مقصد کا شعور ابھارا جائے۔ ان کو محنتی اور دیانت دار بنایا جائے، ان کے اندر برداشت اور اتحاد کی صلاحیت پیدا کی جائے۔ قوم کے افراد میں ’’قابل لحاظ حد تک‘‘ان صلاحیتوں کو پیدا کرنے سے پہلے اگر عملی اقدام شروع کر دیا جائے تو وہ صرف ناکامی پر ختم ہو گا۔ اس قسم کی قومی تعمیر کی مثال بالکل ایسی ہو گی جیسے دیوار بنانے سے پہلے چھت کھڑی کرنے کی کوشش۔ ایسی چھت ہمیشہ اٹھانے والے کے سر پر گرتی ہے۔ اسی طرح افراد کی تعمیر سے پہلے قومی اقدام صرف ناکامی اور بربادی پر ختم ہوتا ہے۔ p. 151