Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
بڑا کام کرنے والے p. 161
دنیامیں ہمیشہ دو قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ ایک وہ انسان جس کا حال یہ ہو کہ وہ جو کچھ کرے اس کی قیمت مع اضافہ کے وصول کرنا چاہے۔ دوسرا انسان وہ ہے کہ وہ جو کچھ کرے اسے بھول جائے۔ اسے اپنے کیے کا کوئی معاوضہ نہ ملے تب بھی وہ کوئی شکایت اپنے دل میں نہ لائے۔ اس کی تسکین کا سامان یہ ہو کہ وہ اپنے آپ کو مقصد میں لگائے ہوئے ہے، نہ یہ کہ اس کو اس کے عمل کا فوری معاوضہ مل رہا ہے۔ p. 162
پہلی قسم کے لوگ بھی انسان ہیں اور دوسری قسم کے لوگ بھی انسان۔ مگر دونوں میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ ظاہری صورت کے سوا دونوں میں کوئی چیز مشترک نہیں۔ پہلی قسم کے لوگ صرف بازار چلاتے ہیں۔ جب کہ دوسری قسم کے لوگ تاریخ بناتے ہیں۔ p. 162
یہی دوسری قسم کے لوگ انسانیت کا اصل سرمایہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی بڑا کام کرنے کے لیے ہمیشہ اس کی ضرورت ہوتی ہے کہ بہت سے لوگ مل کر کام کریں۔ جب اس طرح لوگ ملتے ہیں تو کسی کو کم ملتا ہےاور کسی کو زیادہ۔ کوئی کریڈٹ پاتا ہےا ور کوئی بے کریڈٹ رہ جاتا ہے۔ کسی کا استقبال ہوتا ہےاور کوئی دیکھتا ہے کہ وہ نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال بالکل فطری ہے۔ یہ فرق ہمیشہ پیش آتا ہے۔ خواہ وہ کوئی عام تحریک ہو۔ یا کسی پیغمبر کی تحریک ہو۔ ایسی حالت میں متحدہ کوشش کو باقی رکھنے کی واحد قابل عمل صورت صرف یہ ہے کہ لوگ اپنے حقوق کو بھول جائیں اور صرف اپنی ذمہ داری کو یاد رکھیں۔ p. 162
اس مزاج کی ضرورت صرف اس لیے نہیں ہے کہ اجتماعی جدوجہد میں لوگ بے معاوضہ رہ جاتے ہیں۔ بلکہ اس لیے بھی ہےکہ ملنے والا معاوضہ اکثر آدمی کے اپنے اندازہ سے کم ہوتا ہے۔ چنانچہ معاوضہ ملنے پر بھی وہی تمام شکایتیں پیدا ہو جاتی ہیں جو اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب کہ سرے سے کوئی معاوضہ نہ ملا ہو۔ p. 162
بڑا کام کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کا حال یہ ہو کہ ان کا عمل ہی ان کا معاوضہ بن جائے۔ اپنی ذمہ داری کو بھر پور طور پر ادا کر کے ان کو وہ خوشی حاصل ہو جو کسی شخص کو اس وقت ہوتی ہے، جب کہ اس کے کام کے نتیجہ میں اس کو کوئی بہت بڑا انعام حاصل ہو جائے۔ p. 162