Raz e Hayat

بڑا کام کرنے والے

Raz e Hayat — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (169 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. ناموافق حالات
  3. قدرت کا نظام
  4. قدرت کا قانون
  5. استحکام
  6. ٹوٹنے کے بعد
  7. دنیا کا قانون
  8. بچائو کا انتظام
  9. کردار
  10. بدعنوانی
  11. قومی کردار
  12. طاقت کاراز
  13. تعمیری مزاج
  14. اخلاق کی طاقت
  15. تعمیر خویش
  16. یہ خوش اخلاقی
  17. کردار کی طاقت
  18. کردار کا معاملہ
  19. اچھا معاشرہ
  20. اعتبار پیدا کیجئے
  21. حقیقت پسندی
  22. آسان حل
  23. دنیا ٹائپ رائٹر نہیں
  24. سڑک کا سبق
  25. نیا دور
  26. خود کشی نہیں
  27. اور تالا کھل گیا
  28. شوق کافی ہے
  29. زبان درازی
  30. حقیقت پسندی نہ کہ شوق
  31. دشمنی کے وقت بھی
  32. تعلیم کی اہمیت
  33. اس کے باوجود
  34. امکانات
  35. اپنی کوشش سے
  36. ایک کے بعد دوسرا
  37. مواقع کا استعمال
  38. ہار میں جیت
  39. کامیابی کے لیے
  40. کمی کی تلافی
  41. بربادی کے بعد بھی
  42. کمزوری نعمت ثابت ہوئی
  43. سڑک بند ہے
  44. افسوس نہ کیجئے
  45. ناکامی زینہ بن گئی
  46. سمجھ دار کون
  47. تاریخ سازی
  48. کوئی چیز مشکل نہیں
  49. حکمت
  50. جواب کا صحیح طریقہ
  51. عقل کا استعمال
  52. لچک بھی ضروری ہے
  53. مشتعل نہ ہو
  54. محفوظ سفر
  55. الٹی چھلانگ
  56. سب سے زیادہ خطرناک
  57. بے معنی اچھل کود
  58. خود جانناپڑتا ہے
  59. جدید نسل
  60. بلا تحقیق
  61. تحقیق کیجئے
  62. کامیابی کا سادہ اصول
  63. نفع بخشی
  64. تلوار سے زیادہ
  65. عزت کا مقام
  66. کامیاب تدبیر
  67. بہتر منصوبہ بندی سے
  68. ناکامی کا سبب
  69. جڑ کا کام
  70. الٹا اہرام
  71. آغاز نیچے سے
  72. بڑی چھلانگ کب
  73. ابتدائی تیاری
  74. سیڑھی نہ کہ لفٹ
  75. تنگی میں وسعت
  76. فرد کی سطح پر
  77. رخ صحیح کیجئے
  78. بڑا کام کرنے والے
  79. استقلال
  80. لگاتار عمل
  81. پتھر کا سبق
  82. کامیابی پندرہ سال میں
  83. مستقل ارادہ
  84. دو سو سال
  85. صحیح سبق
  86. خود کشی
  87. امامت عالم کا راز
  88. ایک طریقہ یہ بھی ہے
  89. جرأت مندی
  90. شبہات
  91. تنقید
  92. مایوسی نہیں
  93. قربانی
  94. کامیابی کا راز
  95. بڑا کام
  96. اسی خرچ سے
  97. خاموش تعمیر
  98. کامیابی کی قیمت
  99. دانش مندی
  100. زمانہ کے خلاف
  101. بتائے بغیر
  102. واقفیت کی کمی
  103. غلط اقدام
  104. دانش مندی کے ذریعہ
  105. حالات کی رعایت
  106. پہلے شعور پیدا کیجئے
  107. اقتصادی حملہ
  108. جانے بغیر بولنا
  109. خوشی کا راز
  110. برائی کی جڑ
  111. امتیاز
  112. ایک کے بجائے دو
  113. ٹاپ کی جگہ خالی ہے
  114. کامیاب انسان
  115. خود اعتمادی کا راز
  116. استحقاق پیدا کیجئے
  117. معمولی تدبیر سے
  118. بے کچھ سے سب کچھ تک
  119. خصوصی صلاحیت
  120. خود ساز ، تاریخ ساز
  121. فرق کا سبب
  122. اتحاد
  123. مل کر کام کرنا
  124. حقیقی حل
  125. اجتماعی عمل
  126. اتحاد کا طریقہ
  127. متحدہ عمل
  128. اختلاف دشمن کا ہتھیار
  129. ایک تجربہ
  130. اتحاد کی قیمت
  131. اتحاد کا راز
  132. شکایات
  133. بے غرضی
  134. نفرت کی تیزاب
  135. مزاج کی اہمیت
  136. کام یا نام
  137. تعبیر کا فرق
  138. قانع بنئے
  139. پاگل پن
  140. غیر حقیقی اضافہ
  141. سب کا فائدہ
  142. مغالطہ
  143. اعراض
  144. مسائل اور مواقع
  145. بڑا آدمی
  146. اُلٹا نتیجہ
  147. شیر کا سبق
  148. جواب کا طریقہ
  149. اشتعال نہیں
  150. جھگڑے سے بچ کر
  151. ڈیگال ازم
  152. کہانی بن گئی
  153. اعتراف
  154. بنیاد
  155. انسان کی شخصیت
  156. غلطی پر غلطی
  157. غلطی مان لینے سے
  158. سبب اپنے اندر
  159. اعتراف نہیں
  160. دوسری غلطی نہیں
  161. پیغامِ حیات
  162. رازِ حیات
  163. دینے کے بعد پانا
  164. تخلیقی اقلیت
  165. معلومات نہیں ذہنی رجحان
  166. ایک تجارتی راز
  167. برتر کامیابی
  168. شکایت
  169. چوٹی کے لوگ

بڑا کام کرنے والے p. 161

دنیامیں ہمیشہ دو قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ ایک وہ انسان جس کا حال یہ ہو کہ وہ جو کچھ کرے اس کی قیمت مع اضافہ کے وصول کرنا چاہے۔ دوسرا انسان وہ ہے کہ وہ جو کچھ کرے اسے بھول جائے۔ اسے اپنے کیے کا کوئی معاوضہ نہ ملے تب بھی وہ کوئی شکایت اپنے دل میں نہ لائے۔ اس کی تسکین کا سامان یہ ہو کہ وہ اپنے آپ کو مقصد میں لگائے ہوئے ہے، نہ یہ کہ اس کو اس کے عمل کا فوری معاوضہ مل رہا ہے۔ p. 162

پہلی قسم کے لوگ بھی انسان ہیں اور دوسری قسم کے لوگ بھی انسان۔ مگر دونوں میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ ظاہری صورت کے سوا دونوں میں کوئی چیز مشترک نہیں۔ پہلی قسم کے لوگ صرف بازار چلاتے ہیں۔ جب کہ دوسری قسم کے لوگ تاریخ بناتے ہیں۔ p. 162

یہی دوسری قسم کے لوگ انسانیت کا اصل سرمایہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی بڑا کام کرنے کے لیے ہمیشہ اس کی ضرورت ہوتی ہے کہ بہت سے لوگ مل کر کام کریں۔ جب اس طرح لوگ ملتے ہیں تو کسی کو کم ملتا ہےاور کسی کو زیادہ۔ کوئی کریڈٹ پاتا ہےا ور کوئی بے کریڈٹ رہ جاتا ہے۔ کسی کا استقبال ہوتا ہےاور کوئی دیکھتا ہے کہ وہ نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال بالکل فطری ہے۔ یہ فرق ہمیشہ پیش آتا ہے۔ خواہ وہ کوئی عام تحریک ہو۔ یا کسی پیغمبر کی تحریک ہو۔ ایسی حالت میں متحدہ کوشش کو باقی رکھنے کی واحد قابل عمل صورت صرف یہ ہے کہ لوگ اپنے حقوق کو بھول جائیں اور صرف اپنی ذمہ داری کو یاد رکھیں۔ p. 162

اس مزاج کی ضرورت صرف اس لیے نہیں ہے کہ اجتماعی جدوجہد میں لوگ بے معاوضہ رہ جاتے ہیں۔ بلکہ اس لیے بھی ہےکہ ملنے والا معاوضہ اکثر آدمی کے اپنے اندازہ سے کم ہوتا ہے۔ چنانچہ معاوضہ ملنے پر بھی وہی تمام شکایتیں پیدا ہو جاتی ہیں جو اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب کہ سرے سے کوئی معاوضہ نہ ملا ہو۔ p. 162

بڑا کام کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کا حال یہ ہو کہ ان کا عمل ہی ان کا معاوضہ بن جائے۔ اپنی ذمہ داری کو بھر پور طور پر ادا کر کے ان کو وہ خوشی حاصل ہو جو کسی شخص کو اس وقت ہوتی ہے، جب کہ اس کے کام کے نتیجہ میں اس کو کوئی بہت بڑا انعام حاصل ہو جائے۔ p. 162