Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
امامت عالم کا راز p. 205
نومبر 1847 کی چار تاریخ تھی۔ اسکاٹ لینڈ کے ایک ڈاکٹر کے کمرہ میں اس کا ملازم داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ ڈاکٹر اور اس کے دو ساتھی اپنی کرسیوں سے گر کر فرش پر اوندھے مُنھ بے ہوش پڑے ہوئے ہیں۔ ملازم نے سمجھا کہ ان لوگوں نے شاید آج کوئی تیز قسم کی شراب پی لی ہے اس بنا پر ان کا یہ حال ہوا ہے۔ اس نے ان کے کپڑے درست کیے اور خاموشی کے ساتھ باہر چلا گیا۔ مگر بات دوسری تھی۔ یہ دراصل سر جیمز سمپسن( 1811-1870) اور ان کے دو اسسٹنٹ تھے۔ انھوں نے انسانی جسم پر کلو رو فارم کے اثرات کا تجربہ کرنے کے لیے پہلی بار اس کو سانس کے ذریعہ اپنے اندر داخل کر لیا تھا۔ p. 205
سمپسن ایک غریب نانبائی کے سات لڑکوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ چار سال کی عمر میں اس نے اپنے گائوں کے اسکول میں تعلیم شروع کی۔ اس نے تعلیم میں اتنی دلچسپی دکھائی کہ اس کا باپ اورچھ بھائی اس پر راضی ہو گئے کہ خود انتہائی ضروری مصارف پر قناعت کر کے اس کو اعلیٰ تعلیم کے لیے شہر بھیجیں۔ اس طرح وہ اڈنبرا یونیورسٹی پہنچا اور ڈاکٹر ی میں اس وقت کی سب سے اونچی ڈگری (ایم ڈی) حاصل کی۔ p. 206
ڈاکٹر سمپسن کو اپنے مطالعہ کے دوران معلوم ہوا کہ کلو رو فارم میں بے ہوش کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس نے اس کی تحقیق شروع کر دی۔ وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ آپریشن کے وقت اگر مریض کو وقتی طورپر کلوروفارم کے ذریعہ بے ہوش کر دیا جائے تو اس کو چیر پھاڑ کی بھیانک تکلیف سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔ اس نے اپنی تحقیق جاری رکھی۔ یہاں تک کہ خود اپنے آپ پر تجربہ کر کے یہ ثابت کر دیا کہ کلوروفارم تو بے ضرر بے ہوشی کے لیے کامیاب طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح غریب نانبائی کا یہ لڑکا انسان کو وہ چیز دے سکا جس کو ڈاکٹر براؤن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے— دکھی انسانوں کے لیے خدا کا ایک بہترین تحفہ p. 206original + quote
...one of God's best gifts to his suffering children. p. 206
جدید دنیا میں مغرب کی امامت کا راز اس کے اسی قسم کے با حوصلہ افراد ہیں نھوں نے اپنے آپ کو کھویا تاکہ وہ انسانیت کو دیں۔ انھوں نے اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالا تاکہ وہ دوسروں کو خطرہ سے بچا سکیں۔ p. 206