Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ایک تجربہ p. 283
گجرات کی ایک مسلم برادری ہے جس کا نام مَومن برادری ہے۔ عام طور پر اس کو چلیا برادری کہا جاتا ہے۔ یہ ایک تجارت پیشہ برادری ہے۔ ان کے افراد مختلف شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ بمبئی میں یہ برادری تقریباً 25 ہزار کی تعداد میں آباد ہے۔ p. 283
تجارت سے آدمی کے اندر ایک مخصوص کردار پیدا ہوتا ہے۔ یہ کردار اس برادری میں پوری طرح موجود ہے۔ مثلاً،وہ ملازمت کرنے کے بجائے اپنی محنت سے کمانا پسند کرتے ہیں۔ ان کی زندگی نہایت سادہ ہوتی ہے۔ حتی کہ شادیوں میں ان کے یہاں جہیز کا کوئی رواج نہیں۔ وہ سیاسی جھگڑوں سے بالکل دور رہتے ہیں۔ ان کے درمیان باہمی اختلافات دوسرے مسلمانوں کی نسبت سے بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔ اور اگر کوئی باہمی اختلاف پیدا ہو جائے تو وہ اپنے بڑوں کے فیصلہ پر راضی ہو کر اختلاف ختم کر دیتے ہیں۔ وہ اپنے اختلافی معاملات کے لیے کبھی عدالت میں نہیں جاتے۔ p. 283
چلیا برادری کے اس مزاج کی وجہ سے اس کو دینی فائدہ بھی مل رہا ہے اور دنیوی فائدہ بھی۔ اس کے مزاج کی سادگی ، حقیقت پسندی ، بات کو مان لینے،کانتیجہ یہ ہواکہ تبلیغی تحریک کو اس نے بہت جلد قبول کر لیا۔ تبلیغ میں شامل ہونے سے مزید ان کے اندر اعتماد اور یقین کی نفسیات پیدا ہوئی۔ وہ ترقی کی راہ میں آگے بڑھتے چلے گئے۔ p. 284
چلیا برادری کی مذکورہ نفسیات کا دوسرا زبردست فائدہ انھیں اتحاد کی صورت میں ملا۔ اس برادری کے لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ بہت جلد تجارتی شرکت کو قبول کر لیتے ہیں۔ ان کی اکثر تجارتیں آپس کے مشترک سرمایہ سے چل رہی ہیں۔ ان کا ایک آدمی کہے گا کہ فلاں ہوٹل دس لاکھ روپے میں بک رہا ہے۔ آئو ہم مل کر اس کو خرید لیں۔ اس کو نہایت آسانی سے سرمایہ لگانے والے افراد مل جائیں گے اور وہ مشترک سرمایہ سے ہوٹل کو خرید کر اس کو منظم انداز سے چلاتے رہیں گے اور ان کے درمیان کبھی کوئی جھگڑا نہیں پیدا ہو گا۔ p. 284
موجودہ زمانہ میں کوئی بڑا کام کرنے کے لیے بڑے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ سرمایہ عام طور پر بینک فراہم کرتے ہیں۔ اسلام میں چونکہ سود کو حرام قرار دیا گیا ہے اس لیے بہت سے ’’ ترقی پسند ‘‘ یہ کہتے ہیں کہ اسلام اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے کیوں کہ اقتصادی ترقی بینک کے سودی قرضوں سے ہوتی ہے اور سودی قرضہ پر کاروبارکر نے کی اسلام میں گنجائش نہیں۔ p. 284original + quote
بمبئی کی چلیا برادری اس الزام کی عملی تردید ہے۔ چلیا برادری کا نمونہ بتاتا ہے کہ اقتصادی عمل کے لیے سودی مالیات لازمی نہیں ہیں۔ یہاں سودی مالیات کا ایک بدل موجود ہے۔ اور وہ ہے مشارکتی مالیات۔ یعنی حصہ داری کی بنیاد پر مشترک سرمایہ فراہم کرنا اور اس کے ذریعہ سے کئی آدمیوں کا مل کر کاروبار کرنا۔ p. 284
یہ وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانہ میں کو آپریٹو سسٹم کہاجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کو آپریٹو نظام سودی نظام کا اسلامی بدل ہے۔ مگر کو آپریٹونظام کے تحت اقتصادی عمل جاری کرنے کے لیے ایک لازمی شرط ہے اور وہ ہے اتحاد کا مزاج۔ چلیا برادری میں یہ مزاج پوری طرح پایا جاتا ہے اس لیے ان کے درمیان تجارتی مشارکت کامیاب ہے۔ عام مسلمانوں میں یہ مزاج موجود نہیں۔ اس لیے ان کے یہاں تجارتی مشارکت بھی نہیں پائی جاتی۔ p. 284
اتحادو اتفاق ایک ایسی چیز ہے جو ہر اعتبار سے مفید ہے ، دین کے اعتبار سے بھی اور دنیا کے اعتبار سے بھی۔ مگر یہی وہ سب سے قیمتی چیز ہے جو آج مسلمانوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ p. 285
زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت قومی مزاج کی ہوتی ہے۔ قوم کے اندر اگر تعمیری مزاج ہو تو اس کا ہر معاملہ اپنے آپ درست ہوتا چلا جائے گا۔ اس کے اندر وہی قیادت ابھرے گی جو واقعۃً صحیح قیادت ہو۔ غیر صالح قیادت اس کے اندر اپنی زمین نہ پا سکے گی۔ اس کے افراد کسی مفید کام کے لیے نہایت آسانی سے متحد ہو جائیں گے۔ دوسری قوموں سے اس کا غیر ضروری ٹکرائواپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ p. 285
قومی مزاج کے صالح ہونے پر ہی قوم کی تمام ترقیوں کا انحصار ہے۔ اور اگر قوم کا مزاج بگڑا ہوا ہو تو ایسی قوم کو کوئی چیز بربادی سے نہیں بچا سکتی۔ اگر آپ کو قوم کی اصلاح کرنی ہو تو اس کے مزاج کی اصلاح کر دیجئے۔ اس کے بعد تمام چیزوں کی اصلاح اپنے آپ ہو جائے گی۔ p. 285