Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
پیغامِ حیات p. 333
زندگی ایک امتحان ہے۔ یہ اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اور اسی حقیقت کو سمجھنے میں ہماری تمام کامیابیوں کا راز چھپا ہوا ہے ، خواہ وہ دنیا کی کامیابی ہو یا آخرت کی کامیابی۔ p. 333
آخرت کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو دنیا میں جو کچھ ملا ہوا ہے وہ بطور آزمائش ہے،نہ کہ بطور استحقاق۔ آدمی کو چاہیے کہ اس کو وہ اپنی ذاتی چیز نہ سمجھے بلکہ اس کو خدا کی چیز سمجھے۔ یہ چیزیں صرف اس وقت تک آدمی کے قبضہ میں ہیں جب تک اس کی مدت امتحان پوری نہ ہو۔ مدت پوری ہوتے ہی سب کچھ اس سے چھین لیا جائے گا۔ اس کے بعد آدمی کے پاس جو کچھ بچے گا وہ صرف اس کے اپنے اعمال ہوں گے،نہ کہ وہ سازو سامان جن کے درمیان آج وہ اپنے آپ کو پاتا ہے۔ p. 333
دنیا کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میںجس طرح ایک شخص کو آزادی حاصل ہے اسی طرح یہاں دوسرے شخص کو بھی پوری آزادی حاصل ہے۔ اس صورت حال کی وجہ سے یہ دنیا اس چیز کا ایک میدان بن گئی ہے جس کو مقابلہ (competitioin)کہا جاتا ہے۔ یہاں ہر آدمی آزاد ہے، اس لیے یہاں ہر ایک شخص اور دوسرے شخص یا ہر ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان کھلا مقابلہ جاری ہے۔ p. 334
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں ہر کامیابی دوسروں کے بالمقابل اپنے ا ٓپ کو کامیاب بنانے کا نام ہے۔ یہاں وہی شخص جیتتا ہے جو زندگی کی دوڑمیں دوسروں سے بازی لے جائے۔ یہاں اسی شخص کو ملتا ہے جو دوسروں سے آگے بڑھ کر لے لینے کا حوصلہ کر سکے۔ p. 334
جن لوگوں کے پاس غیر اللہ کے سہارے ہوں وہ آخرت کی دنیا میں اپنے آپ کو بے قیمت پائیں گے۔ اسی طرح جو لوگ صرف تعصب اور امتیاز کی اصطلاحوں میں سوچنا جانتے ہوں وہ موجودہ دنیا میں بے جگہ ہو کر رہ جائیں گے ، وہ مقابلہ کی اس دنیامیں اپنے لیے کوئی حقیقی مقام حاصل نہیں کر سکتے۔ p. 334