Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
تحقیق کیجئے p. 111
ایک ہندوستانی حجاز گیا۔ ایک روز مدینہ میں اس کی ملاقات ایک عرب سے ہوئی۔ بظاہر وہ ایک بدو دکھائی دیتا تھا اور اس کا ایک ہاتھ کٹا ہوا تھا۔ وہاں چونکہ چور کے ہاتھ کاٹ دئے جاتے ہیں، ہندوستانی نے خیال کیا کہ یہ کوئی چور ہے۔ اس نے چوری کی تھی جس کی وجہ سے اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ ہندوستانی کو اولاً اس سے ملنے میں کچھ کراہت محسوس ہوئی۔ پھر جبر کرکے اس کی طرف بڑھا اور اپنے عرب بھائی سے مصافحہ اور معانقہ کیا۔ p. 111
گفتگو چلی تو اس نے بتایا کہ وہ مدینہ کے قریب ایک بستی ’’یُتمہ‘‘کا رہنے والا ہے۔ اس کے پاس کافی زمینیں ہیں جہاں 23مکائن(ٹیوب ویل) لگے ہوئے ہیں۔ اس کے کھیتوں کی پیداوار بہت بڑی مقدار میں روزانہ مدینہ کے بازار میں آتی ہے۔ p. 111
پھر اس کے ہاتھ کٹنے کا ذکر ہوا تو اس نے بتایا کہ 1948ء میں فلسطین کے معاملہ میں عربوں اور یہودیوں میں جو لڑائی ہوئی وہ اس میں شریک تھا۔ اس کے بازو میں چھ گولیاں لگیں۔ اس کے بعد وہ عرصہ تک اسپتال میں رہا۔ وہاں ڈاکٹروں نے ناگزیر سمجھ کر اس کا ایک ہاتھ کاٹ دیا۔ تاکہ پورے بازو کو متاثر ہونے سے بچایا جاسکے۔ p. 111
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ناقص معلومات کی وجہ سے کس طرح ایک بات کسی کے ذہن میں کچھ سے کچھ ہوجاتی ہے۔ مذکورہ عرب کو ایک ہندوستانی نے ناواقفیت کی بنا پر چور سمجھ لیا حالانکہ وہ ایک مجاہد اور ایک تاجر آدمی تھا۔ وہ دوسروں کو دینے والا تھا،نہ کہ ان سے لینے والا۔ وہ سماج کا ایک کار آمد فرد تھا،نہ کہ سماج کارہزن۔ p. 111
ہر آدمی کے اوپر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کے بارے میں رائے قائم کرنے میں کبھی جلدی نہ کرے۔ جب بھی اس کے سامنے کوئی بات آئے تو وہ اس کی پوری تحقیق کرے۔ تحقیق سے پہلے ہرگز اس کے بارے میں اپنی زبان نہ کھولے۔ p. 112
اگر کسی شخص کے پاس تحقیق کرنے کا وقت یا سامان نہیں ہے تو اس کےلیے دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ مذکورہ معاملہ میں چپ رہے، نہ یہ کہ ناقص معلومات کے تحت اس کے بارے میں بولنے لگے۔ اس دنیا میں چپ رہنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا بولنا۔ p. 112