Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
سب سے زیادہ خطرناک p. 103
شیر کے ڈرائونے چہرے کو دیکھ کر مشکل سے کوئی آدمی یقین کرے گا کہ اس پھاڑ کھانے والے درندہ سے بھی زیادہ خطرناک دشمن کوئی انسان کے لیے ہو سکتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کا سب سے زیادہ خطرناک دشمن شیر یا بھیڑ یا نہیں۔ اس کے سب سے خطرناک دشمن وہ بیکٹیریا ہیں جو اتنے چھوٹے ہیں کہ خالی آنکھ سے نظرنہیں آتے۔ یہ بیکٹریا اتنی تیزی سے اپنی نسل بڑھاتے ہیں کہ موافق حالات میں صرف دس گھنٹوں کے اندر ایک کیڑا اپنی نسل کے دس ہزار جان دار پیداکر لیتا ہے۔ شیر یا بھیڑیا کہیں کسی ایک آدمی کو پھاڑتے ہوں گے مگر بیکٹریا کی زد میں ہر آدمی ہر وقت ہوتا ہے۔ p. 104
بیکٹیریا کی ہزارو ں قسمیں ہیں۔ ہماری خوش قسمتی سے ان کی 99 فی صد تعدا د یا تو بے ضرر ہے یا ہمارے لیے مفید ہے۔ مگر ایک فی صد تعداد جو مضر ہے وہ بھی اتنی خطرناک ہے کہ آن کی آن میں آدمی کی جان لے سکتی ہے۔ میڈیکل سائنس کے مطابق تمام مہلک بیماریا ں انھیں بیکٹریا کی پیدا کردہ ہوتی ہیں۔ بیکٹریا انتہائی چھوٹے ہونے کی وجہ سے ایسے راستوں سے انسان کے اندر داخل ہو جاتے ہیں جن کا روکنا عام طور پر آدمی کے بس میں نہیں ہوتا۔ p. 104
لوگ عام طور پر بڑے بڑے حادثات کو جانتے ہیں اور ان کو اپنی تباہی کا سبب سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ’’ چھوٹے چھوٹے دشمن ‘‘ ہم کو اس سے کہیں زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں جتنا کہ بڑے بڑے دشمن۔ اور ہماری سب سے زیادہ خطرناک دشمن خود ہماری اپنی چھوٹی چھوٹی کوتاہیاں ہیں جو ہم کو محسوس نہیں ہوتیں مگر وہ ہماری زندگی کو برباد کر کے رکھ دیتی ہیں۔ p. 104
مثلاً ہر شخص کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے روزانہ اوقات کا ایک حصہ بغیر استعمال کیے ہوئے گزار دیتا ہے۔ ہر شخص روزانہ غیر ضروری مدوں میں کچھ نہ کچھ رقم خرچ کر تا رہتا ہے یہ وقت اور یہ سرمایہ ایک دن کے لحاظ سے تو بہت تھوڑا نظر آتا ہے ، چند گھنٹے یا چند روپے۔ لیکن اگر پورے سال اور آدمی کی پوری عمر کو ملا کر دیکھئے تو معلوم ہو گا کہ ہر شخص اپنی تقریباً نصف عمر اور اپنی نصف کمائی کو بے نتیجہ چیزوں میں برباد کر رہا ہے۔ اس بربادی کو اگر پوری قوم پر پھیلائیے تو یہ نقصان اتنا زیادہ بڑھ جائے گا کہ اس کا شمار بھی نا ممکن ہو۔ p. 104