Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
الٹی چھلانگ p. 102
ایک واقعہ انگریزی اخبار میں ان الفاظ میں آیا ہے۔ p. 102
In a daring escape from the Sydney, Australia, jail, a prisoner climbed underneath the hood of a truck. At the truck's next stop, he clambered out and found himself in the yard of another prison 6.5 kilometers from the first (UPI). p. 102
آسٹریلیا کی سڈنی جیل کے ایک قیدی نے جیل سے بھاگنے کے لیے ایک جرأت مندانہ اقدام کیا۔ وہ کسی نہ کسی طرح ایک ٹرک کے اندر داخل ہو گیا اور اس کے اندر چھپ کر بیٹھ گیا۔ ٹرک روانہ ہو کر اگلے مقام پر رکا۔ وہ بمشکل ٹرک سے باہر آیا۔ اس نے پایا کہ وہ دوبارہ ایک جیل میں ہے۔ یہ دوسرا جیل اس کی پہلی جیل سے تقریباً چھ کلو میٹر دور تھا۔ p. 103
جیل کا مذکورہ قیدی جیل کی زندگی سےگھبرایا ہوا تھا۔ اس کے دماغ پر صرف ایک چیز سوار تھی۔ یہ کہ وہ کسی نہ کسی طرح جیل کی بند دنیا سے باہر پہنچ جائے۔ اس ذہنی کیفیت کے ساتھ جب اس کو ایک ٹرک نظر آیا تو اس نے یقین کر لیا کہ وہ ضرور جیل کے باہر کہیں جا رہا ہے۔ مگر وہ ٹرک ایک جیل سے دوسری جیل میں جا رہا تھا۔ آدمی اس ٹرک میں سوا ر ہو کر اپنی جیل سے نکلا۔ مگر ا س کے بعد صرف یہ ہوا کہ وہ ایک اور جیل میں پہنچ گیا۔ p. 103
یہ ایک دل چسپ مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات اقدام صر ف الٹی چھلانگ کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ آدمی ناکام ہو کر دوبارہ اپنے سابقہ مقام پر واپس آجائے۔ p. 103
زندگی کا سفر دو چیزوں کے ملنے سے طے ہوتا ہے۔ ایک ’’ مسافر ‘‘ اور دوسرا ’’ ٹرک ‘‘۔ کسی مسافر کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ محض ذاتی چھلانگ کے ذریعہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جائے۔ اس کو لازماً اپنے سے باہر ایک سواری درکار ہوتی ہے۔ اگر آدمی محض اپنے ذاتی جوش کے تحت کود کر ایک سواری میں داخل ہو جائے۔ اور یہ تحقیق نہ کرے کہ وہ سواری کہا ں جا رہی ہے۔ تو عین ممکن ہے کہ اس کا انجام وہی ہو جو مذکورہ مثال میں آسٹریلیا کے قیدی کا ہوا۔ یعنی وہ ایک ’’ قید خانہ ‘‘ سے نکل کر دوسرے ’’قید خانہ ‘‘ میں پہنچ جائے۔ p. 103