Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ایک کے بجائے دو p. 248
ولیم دوم (1859-1941) جرمنی کا بادشاہ تھا۔ اپنے باپ شہنشاہ فریڈرک کے بعد 1888 میں تخت پر بیٹھا۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا۔ اس نے جرمنی کو فوجی اعتبار سے ترقی دینے میں کافی دل چسپی لی۔ مگر اس کا فوجی استحکام اس کی شہنشاہیت کو بچانے میں کامیاب نہ ہوا۔ ملکی حالات کے تحت اس کو تخت چھوڑنا پڑا۔ نومبر 1918میں وہ حکومت چھوڑ کر ہالینڈ چلا گیا اور وہاں خاموشی کے ساتھ زندگی گزار کر مر گیا۔ اس کی جلا وطنی کی موت گویا اس بات کا ایک واقعاتی ثبوت تھی کہ فوجی قوت کے مقابلہ میں حالات کی قوت زیادہ اہم ہے۔ p. 248
جنگ عظم اول سے کچھ پہلے کا واقعہ ہے۔ جرمنی کا مذکورہ بادشاہ ولیم دوم سوئزرلینڈ گیا ہوا تھا وہ وہاں کی منظم فوج کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ اس نے مزاحیہ انداز میں سوئزرلینڈ کے ایک فوجی سے پوچھا اگر جرمنی کی فوج جس کی تعداد تمھاری فوج سے دگنی ہو، تمھارے ملک پر حملہ کر دے تو تم اس وقت کیا کرو گے۔ اعلیٰ تربیت یافتہ فوجی نے سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا p. 248
سر ، ہم کو بس ایک کے بجائے دو فائر کرنے پڑیں گے۔ p. 249
اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں اصل اہمیت تعداد کی نہیں بلکہ محنت اور کارکردگی کی ہے۔ آپ کا حریف اگر تعداد میں زیادہ ہو تو آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ آپ اپنی محنت اور کارکردگی میں اضافہ کر کے کم تعداد کے باوجود زیادہ تعداد پر غالب آسکتے ہیں۔ p. 249
دنیا میں اپنی جگہ بنانے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ جس آسامی کے لیے بی اے کی قابلیت کی شرط ہو اور بی اے والوں نے درخواستیں دے رکھی ہوں ، وہاں آپ بھی بی اے کی ڈگری لے کر پہنچ جائیںاور جب آپ کو نہ لیا جائے تو شکایت کریں کہ کیوں آپ کے مقابلہ میں دوسرے امیدوار کو ترجیح دی گئی، جب کہ دونوں یکساں طور پر گریجویٹ تھے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جہاں لوگ بی اے کی ڈگریاں پیش کر رہے ہوں وہاں آپ ماسٹر ڈگری لے کر پہنچیں ، جہاں لوگ مطابق شرائط قابلیت کی بنیاد پر اپنا حق مانگ رہے ہوں وہاں آپ برتراز شرائط قابلیت دکھا کر اپنا حق تسلیم کرائیں۔ p. 249unverified
یہی دوسرا طریقہ زندگی کا اصلی طریقہ ہے۔ تمام بڑی بڑی ترقیاں اور کامیابیاں انھیں لوگوں کے لیے مقدر ہیں جو برتر قابلیت لے کر زندگی کے میدان میں داخل ہوں۔ جن لوگوں کے پاس صرف کمتر لیاقت یا برابر کی لیاقت کا سرمایہ ہو ان کے لیے صرف ایک ہی انجام مقدر ہے— مقابلہ کی اس دنیا میں دوسروں سے پچھڑجانا اور اس کے بعد بے فائدہ احتجاج میں اپنا وقت ضائع کرتے رہنا۔ p. 249