Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
لگاتار عمل p. 163
کمیونسٹ چین کے سابق چیئرمین مائوزے تنگ (1893-1976)نے ایک دلچسپ چینی کہانی لکھی ہے۔ p. 163
پرانے زمانے میں چین کے شمالی علاقہ میں ایک بوڑھا آدمی رہتا تھا۔ اس کے مکان کی سمت جنوب کی طرف تھی۔ اس بوڑھے آدمی کی مشکل یہ تھی کہ اس کے دروازے کے سامنے دو اونچے اونچے پہاڑ کھڑے ہوئے تھے۔ ان پہاڑوں کی وجہ سے سورج کی کرنیں اس کے گھر میں کبھی نہ پہنچتی تھیں۔ ایک دن اس بوڑھے آدمی نے اپنے جوان بیٹوں کو بلایا اور ان سے کہا کہ آئو ہم اس پہاڑ کو کھود کر یہاں سے ہٹا دیں تا کہ سورج کی کرنیں ہمارے گھر میں بلا روک ٹوک داخل ہو سکیں۔ بوڑھے آدمی کے پڑوسی کو اس کا یہ منصوبہ معلوم ہوا تو وہ اس پر ہنسا۔ اس نے اس بوڑھے آدمی سے کہامیںیہ جانتا تھا کہ تم ایک بے وقوف آدمی ہو لیکن مجھے یہ گمان نہ تھا کہ تم اتنا زیادہ بے عقل ہو گے۔ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ تم اپنی کھدائی کے ذریعےان اونچے پہاڑوں کو یہاں سےہٹا دو۔ p. 163
بوڑھے آدمی نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا تمہارا کہنادرست ہے۔ لیکن اگر میں مر گیا تو اس کے بعد میرے بیٹے اس کو کھودیں گے۔ ان کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے ، اور پھر ان کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے۔ اس طرح کھدائی کا یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔ تم جانتے ہو کہ پہاڑ آئندہ اور زیادہ بڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ہر مزید کھدائی ان کے حجم کو کم کرتی رہے گی۔ اس طرح آج کے دن نہیں تو کسی اگلے دن یہ مصیبت ہمارے گھر کے سامنے سے دور ہو چکی ہو گی۔ p. 163
یہ کہانی بہت خوبصورتی کے ساتھ بتا رہی ہے کہ بڑی کامیابی کے لیے ہمیشہ بڑا منصوبہ درکار ہوتا ہے۔ اگر آپ اس دنیا میں کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیںتو آپ کو بڑے منصوبہ کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے اور ان تمام تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے جو ایک بڑے منصوبہ کو مسلسل چلانے کے لیے ضروری ہیں۔ p. 164
یہ ایک حقیقت ہے کہ مسائل کے مقابلہ میں ان کے حل کی طاقت زیادہ ہوتی ہے۔ مسائل ہمیشہ محدود ہوتے ہیں اور حل ہمیشہ لا محدود۔ اگر آپ حل کی اسکیم کو نسل در نسل چلا سکیں تو آپ ہر پہاڑکو کاٹ سکتے ہیں اور ہر دریا کو عبور کر سکتےہیں۔ جو شخص لگاتار عمل کرنے کے لیے تیار ہو اس کے لیے کوئی پہاڑ پہاڑ نہیں اور کوئی دریا دریا نہیں۔ p. 164
یہ وقت کا سوال ہے نہ کہ قیمت کا p. 164
آکسفورڈ یونیورسٹی 1163 ء میں قائم ہوئی۔ اس کے ہرے ہرے لان ساری دنیا میں مشہور ہیں۔ ایک امریکن کروڑ پتی نے اس کے لان دیکھے تو وہ ان کو بہت پسند آگئے۔ انھوں نے چاہا کہ ایسا ہی لان ان کی کوٹھی میں بھی ہو۔ ’’ ایسا لان کتنے ڈالرمیں تیار ہو جائے گا ‘‘ انھوں نے آکسفورڈ کے مالی سے پوچھا۔ p. 164
’’ مفت میں ‘‘ مالی نے سنجیدگی کے سا تھ جوا ب دیا۔ p. 164
’’ وہ کیسے ‘‘ p. 165
’’ اس طرح کہ آپ اپنی زمین کو ہموار کر کے اس پر گھاس جماد یجئے۔ جب گھاس بڑھے تو اس کو کاٹ کر اوپر سے رولر پھیر دیجئے۔ اسی طرح پانچ سو برس تک کرتے رہیے۔ جب پانچ سو سال پورے ہوں گے تو ایسا ہی لان آپ کے یہاں تیار ہو جائے گا۔ یہ وقت کا سوال ہے،نہ کہ قیمت کا ‘‘۔ p. 165
شام کے وقت سورج آپ کے ا وپر غروب ہو جائے اور آپ دوبارہ صبح کا منظر دیکھنا چاہیں تو آپ کو پوری رات تک انتظار کرنا ہو گا۔ رات کا وقفہ گزارے بغیر آپ دوبارہ صبح کے ماحول میں آنکھ نہیں کھول سکتے۔ آپ کے پاس ایک بیج ہے اور آپ اس کو درخت کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں کہ 25 سال تک انتظار کریں۔ اس سے پہلے آپ کا بیج ایک سر سبز وشاداب درخت کی صورت میں کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح قدرت کے تمام واقعات کے ظہور کے لیے ایک ’’ وقت ‘‘ مقرر ہے۔ کوئی واقعہ اپنے مقررہ وقت سے پہلے ظہور میں نہیں آتا۔ p. 165
وقت سے مراد وہ مدت ہے جس میں ایک طریق عمل جاری ہو کر اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے۔ قدرت کے پورے نظام میں یہی اصول کار فرما ہے۔ انسان کے سوا بقیہ کائنات میں یہ اصول براہ راست خدائی انتظام کے تحت قائم ہے اور انسان کو اپنے ارادہ کے تحت اس کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ کائنات اپنے پورے نظام کے ساتھ انسان کو یہ عملی سبق دے رہی ہے کہ واقعات کے ظہور کے لیے وہ کون سی حقیقی تدبیر ہے جس کو اختیار کر کے آدمی اس دنیا میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ p. 165
شخصی زندگی کی تعمیر کا معاملہ ہو یا قومی زندگی کی تعمیر کا ، دونوں معاملات میں انسان کے لیے واحد صورت یہ ہے کہ وہ ’’ آغاز ‘‘ سے اپنا سفر جاری کرے اور مطلوبہ مدت سے پہلے نتیجہ دیکھنے کی تمنا نہ کرے۔ ورنہ اس کا انجام اس مسافر کا ہو گا جو ایک دوڑتی ہوئی ٹرین میں بیٹھا ہو اور اسٹیشن کے آنے سے پہلے اسٹیشن پر اترنا چاہے۔ ایسا مسافر اگر وقت سے پہلے اپنے ڈبہ کا دروازہ کھول کر اتر پڑے تو اس کے بعد وہ جہاں پہنچے گا وہ قبر ہو گی،نہ کہ اس کی مطلوبہ منزل— ہر کامیابی سب سے زیادہ جو چیز مانگتی ہے وہ وقت ہے۔ مگر کامیابی کی یہی وہ قیمت ہے جو آدمی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ p. 165