Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
سبب اپنے اندر p. 325
نئی دہلی میں پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں یہ قصہ سنایا گیا کہ صدر جمہوریہ ہندمسٹر گیانی ذیل سنگھ اپنے آپریشن کے لیے امریکا گئے۔ وہاں وہ ٹکساس کے ہسپتال میں تھے جس میں ان کے پیش رو سنجیواریڈی بھی زیر علاج رہ چکے تھے۔ جب وہ آپریشن تھیٹر میں لے جائے گئے تو چیف سر جن نے موصوف سے پوچھا — کیا آپ تیار ہیں p. 325
Are you ready. p. 325
گیانی ذیل سنگھ نے اس کے جواب میں کہا p. 325
No, I am not Reddy. I am Zail Singh. p. 325
میں ریڈی نہیں ہو ں۔ میں ذیل سنگھ ہوں ( ہندوستان ٹائمس،4 دسمبر 1982) p. 326
عین ممکن ہے کہ یہ کوئی واقعہ نہ ہو بلکہ محض ایک لطیفہ ہو۔ مگر سوال یہ ہے کہ کسی شخص کو ایسا لطیفہ بنانے کی جرأت کیسے ہوئی۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ گیانی ذیل سنگھ کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ انگریزی زبان کم جانتے ہیں۔ٹکساس کے آپریشن ٹیبل پراگر رادھا کرشنن یا جواہر لال نہرو ہوتے تو کسی لطیفہ گو کو ایسا لطیفہ گھڑنے کی جرأت نہ ہوتی۔ p. 326
باہر کی دنیا آپ کو اتنا ہی جانتی ہے جتنا آپ نے اس کو بتایا ہے اور آپ کی جو تصویر اس کے ذہن میں ہے اسی کے مطابق وہ آپ کے ساتھ سلوک کرتی ہے۔ اگر دوسروں سے آپ کو برے سلوک کا تجربہ ہو تو دوسروں کو برا سمجھنے کے بجائے خود اپنے اندر اس کے اسباب تلاش کیجئے۔ کیونکہ اپنی کمی کو دور کر کے آپ زیادہ بہتر طور پر دوسروں کے برے سلوک سے بچ سکتے ہیں۔ p. 326
یونان کے ایک آرٹسٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے ایک آدمی کی تصویر بنائی جس کے ہاتھ میں انگور کا خوشہ تھا۔ اس نے تصویر کو بازار میں رکھ دیا۔ اس کے دوست نے اس کے بعد اسے مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ تم نے انگور کی تصویر اتنی کامیاب بنائی ہے کہ چڑیاں اس کو واقعی سمجھ کر اس پر چونچ مارتی ہیں۔ آرٹسٹ نے کہا آدمی کی تصویر بنانے میں مجھ سے غلطی ہو گئی۔ ورنہ چڑیاں اس قسم کی جرأت ہی نہ کرتیں۔ p. 326
اب آرٹسٹ نے دوسری تصویر بنائی۔ اس تصویر میں بھی ایک آدمی انگور کا خوشہ لیے ہوئے تھا۔ انگور کا خوشہ دوبارہ اس قدر مطابق فطرت تھا کہ چڑیاں اس کو دیکھ کر اس کے پاس آتیں۔ مگر اب انھیں چونچ مارنے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔ کیونکہ جو آدمی انگور کا خوشہ لیے ہوئے تھا اس کی آنکھیں اس قدر غضب ناک تھیں کہ ان کو دیکھتے ہی چڑیاں واپس لوٹ جاتیں۔ p. 326