Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
کہانی بن گئی p. 318
سرونسٹن چرچل جو بعد کو برطانیہ کے وزیر اعظم بنے،افریقہ کے بوئروں کی جنگ (1899)میں برطانوی اخبار مارننگ پوسٹ کے جنگی نامہ نگار تھے۔ اس دوران ایک واقعہ پیش آیا جس کو جنوبی افریقہ کے سابق وزیر اعظم جان کرسچین سمٹس نے چرچل کے عروج کے زمانہ میں سنایا۔ وہ چرچل کی موجودگی میں وائٹ ہائوس(واشنگٹن) کے ڈنر کے موقع پر تقریر کر رہے تھے۔ p. 318
انھوںنےبتایا کہ بوئر وار کے دوران مسٹرچرچل برطانوی سپا ہیوں کے ایک دستہ کے ساتھ بوئروں کے ہاتھوں پکڑے گئے۔ بوئروں نے سپاہی اور اخباری نامہ نگار میں کوئی تمیز نہیں کی۔ انھوں نے سب کو ایک ساتھ جیل میں ڈال دیا۔ p. 318
مسٹرچرچل نےجیل سےاس واقعہ کی رپورٹ مجھے بھیجی اور اپنی فوری رہائی پر زور دیا۔ کیونکہ بین الاقوامی رواج کے مطابق اخباری رپورٹر کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ میں نے اس خط پر کاروائی شروع کی مگر اس سے پہلے کہ اس کیس کا فیصلہ ہو مسٹر چرچل کسی نہ کسی طرح جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ p. 318
اس واقعہ کے کافی عرصہ بعد میری ملاقات مسٹر چرچل سے ہوئی جو اس وقت برطانوی کا بینہ کے رکن تھے۔ میں نے وہ واقعہ یاد دلایا تو مسٹر چرچل بولےآپ نے اچھا کیا کہ میرے خط پر میری درخواست کے باوجود فوری کاروائی نہ کی۔ اگر آپ جلدی میں میری رہائی کا انتظام کر ا دیتے تو میرا نوہزار پونڈ کا نقصان ہو جاتا۔’’وہ کیسے‘‘میں نے حیران ہو کر پوچھا۔’’وہ اس طرح کہ میں نے اپنی جیل سے فرار ہونے کی داستان ایک رسالہ کے لیے لکھ کر نو ہزار پونڈ میں فروخت کیا“۔ p. 319
مسٹرچرچل اگر آسانی سے رہا ہو جاتے تو یہ واقعہ ایک سادہ واقعہ ہوتا وہ کہانی نہ بنتا۔ مگر گرفتاری اور اس کے بعد جیل سے فرار نے اس کو کہانی بنا دیا۔ p. 319
زندگی میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک واقعہ پیش آتا ہے جو بظاہر نا خوش گوار ہوتا ہے۔ آدمی اس کو دیکھ کر بے حوصلہ ہونے لگتا ہے۔ مگر بعد کو جب آخری نتیجہ سامنے آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی اندازہ بالکل غلط تھا۔ نا خوش گوار پہلو میں ایک خوش گوار پہلو چھپا ہوا موجودہ تھا جو واقعہ اپنی ابتدا میں نقصان کا واقعہ نظر آتا تھا وہ اپنی انتہا میں فائدہ کا واقعہ بن جاتا ہے۔ p. 319