Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مزاج کی اہمیت p. 292
ٹوائیٹاموٹرکمپنی جاپان کی ایک کار بنانے والی کمپنی ہے۔ پچھلے تقریباً 30 سال میں کام کا ایک دن ضائع کیے بغیر اس نے اپنا پیداواری عمل جاری رکھا ہے۔ یہ صرف ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جاپان میں صنعتی ترقی کی اتنی تیز رفتاری کی وجہ کیا ہے۔ امریکا کی جنرل موٹر ز کارپوریشن اور فورڈموٹرکمپنی دنیا کی سب سے بڑی موٹرسازکمپنیاں سمجھی جاتی ہیں۔ مگر امریکا کی ان کمپنیوں میں سالانہ پیداوار کا اوسط فی مزدور گیارہ کاریں ہیں۔ جب کہ جاپان کی مذکورہ موٹرکمپنی میں سالانہ پیدا وار کا اوسط فی مزدور 33 کاریں ہیں۔ p. 293
جاپان کی اس غیرمعمولی صنعتی ترقی کا راز اس کے مزدور ہیں۔ جاپانی مزدور کا تعمیری مزاج جاپان کی سب سے بڑی دولت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جاپان میں اگرچہ کوئلہ ، لوہا ، پٹرول اور دوسری دھاتیں یا تو بالکل پیدا نہیں ہوتیںیا بہت کم پیدا ہوتی ہیں اس کے باوجو د جاپان کی صنعتی ترقی کی رفتار دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ جاپانی مزدور کے مزاج میں وہ کون سی بات ہے جو جاپان کے لیے سب سے بڑی دولت بن گئی ہے۔ ایک مبصر کے الفاظ میں وہ حسب ذیل ہے p. 293
A national spirit of compromise and co-operation and a willingness to endure short-term setbacks for the long-term good of the nation, company or a family. p. 293
جاپانیوں کی یہ قومی سیرت کہ وہ ہمیشہ مصالحت اور تعاون کے لیے تیار رہتے ہیں۔ قوم یاکمپنی یا خاندان کے وسیع تر مفاد کی خاطر وہ وقتی نقصان کو سہنے کے لیے راضی ہو جاتے ہیں۔ (ہندوستان ٹائمس 25 اگست 1981) p. 293other source
کسی قوم کی تعمیر میں سب سے اہم چیز اس کے افراد کا مزاج ہے۔ افراد کا مزاج اگر بگڑا ہوا ہے تو قوم کو تباہ ہونے سے کوئی چیز نہیں بچا سکتی اور اگر افراد کا مزاج درست ہے تو ایسی قوم ضرور کامیاب ہو کر رہتی ہے خواہ اس کے دشمنوں کی تعداد کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔ p. 293
قوم کی تعمیر میں افرادکا درجہ وہی ہے جو کسی عمارت میں اینٹوں کا ہے۔ کچی اینٹوں سے بنی ہوئی عمارت ایک بے اعتبار عمارت ہوتی ہے۔ کوئی بھی حادثہ اسے گرا سکتا ہے۔ اس کے برعکس جو عمارت پختہ اینٹوں سے بنی ہوئی ہو اس پر پورا بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ سیلاب اور طوفان کے علی الر غم زمین پر کھڑی رہتی ہے۔ ہر آندھی جو آتی ہے وہ اس سے ٹکرا کر واپس چلی جاتی ہے ، وہ اس کا کچھ بگاڑنے میںکامیاب نہیں ہوتی۔ p. 294
اپنے لیے کچھ دوسروں کے لیے کچھ p. 294
سر رچرڈ ڈابسن ( Sir Richard Dobson) انگلستان کے ایک کامیاب صنعت کار ہیں وہ 31سال تک برٹشامیریکن ٹوبیکو(British American Tobacco)کے اعلیٰ ذمہ دار رہے ہیں۔ وہ ایک سال تک برٹش لیلینڈ (British Leyland) کے چیئرمین رہے ہیں۔ یہ فرم دومنزلہ بس بنانے کے لیے بہت مشہور ہے۔ p. 294
سر رچرڈ ڈابسن آج کل لندن کے ایک خاص علاقہ ،رچمنڈ(Richmond) میں مارچ منٹ روڈ (Marchmont Road) پر رہتے ہیں۔ یہ لندن کی ایک نہایت پرسکون سڑک ہے اور صرف کروڑ پتی قسم کے لوگ یہاں رہتے ہیں۔ p. 294
حال میں ایسا ہواکہ رچمنڈ علاقہ کی ایک سڑک خراب ہو گئی۔ اور اس پر ازسرنو تعمیرکا کام چھیڑنا پڑا۔ اس سڑک پر لندن کی بس نمبر 65 چلتی تھی۔ چونکہ یہ سڑک تعمیری کام کی وجہ سے نا قابل استعمال ہو رہی تھی اس لیے عارضی طور پر اس کا روٹ بدل دیا گیا اور کچھ دنوں کے لیے اس کو مارچ منٹ روڈ سے لے جایا جانے لگا۔ p. 294
سر رچرڈ ڈابسن اگرچہ ایک بہت بڑے مکان میں رہتے ہیں تاہم اپنے مکان کے سامنے کی سڑک سے دھواں نکالنے والی بس کا گزرنا انھیں پسند نہیں آیا۔ گارجین (14 اگست 1983)نے نقل کیا ہے کہ انھوں نے لندن کے اخبار میں اپنا ایک احتجاجی خط چھپوایا جس میں انھوں نے تحریر کیا تھا کہ تنہا بس کے ڈیزل ایندھن کی بو ہی توہین آمیز اور صحت کے لیے خطرناک ہے p. 295original + quote
The smell of the diesel fuel alone is an affront and a health hazard. p. 295
سر رچرڈ ڈابسن سگریٹ اور بس کے تاجر ہیں۔ یہ دونوں چیزیں وہ ہیں جو دھواں نکال کر فضا خراب کرتی ہیں۔ وہ ساری زندگی دھویں کا کاروبار کرتے رہے۔ یہ دھواں جب تک دوسروں کے گھر میں پہنچ رہا تھا انھیں اس کی خرابی کا احساس نہیں ہوا۔ مگر ایک بار جب اتفاق سے وہ ان کے اپنے گھر کے اندر پہنچ گیا تو وہ چیخ اٹھے۔ p. 295
ہر آدمی اپنےلیے کچھ چاہتا ہے اور دوسرے کے لیے کچھ ، اور بلاشبہ یہ انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ p. 295