Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
بے کچھ سے سب کچھ تک p. 258
جو شخص کم فائدہ پر قناعت کرے گا وہ بڑے فائدہ کا مالک بنے گا— یہ ایک ایسا بے خطا اصول ہے جو اپنے اندر ابدی اہمیت رکھتاہے۔آپ جس معاملہ میں بھی اس کو آزمائیں گے یقینی طور پر آپ کامیاب رہیں گے۔ p. 258
ایک شخص نے بازار میں چھوٹی سی دکان کھولی۔ وہ کپڑا دھونے کا صابن اور کچھ اور چیزیں بیچتا تھا۔ اس کی دکان پر بہت جلد بھیڑ لگنے لگی۔ دن کے کسی وقت بھی اس کی دکان گاہکوں سے خالی نہ رہتی۔ اس کا را ز یہ تھا کہ وہ دور وپے کا صابن پونے دو روپے میں بیچتا تھا۔ آدمی اگر چار صابن خریدے تو عام نرخ کے لحاظ سے اس کا ایک روپیہ بچ جاتا تھا۔ ایک آدمی نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ پونے دو روپیہ اس صابن کی تھوک قیمت ہے۔ دکان دار کو وہ صابن کارخانہ سے پونے دو روپے میں ملتا تھا اور اسی دام پر وہ اس کو گاہکوں کے ہاتھ فروخت کر دیتا تھا۔ p. 258
اس آدمی نے دکان دار سے پوچھا کہ تم دام کے دام صابن بیچتے ہو۔ پھر تم کو اس میں کیا فائدہ ملتا ہے۔ دکان دار نے کہا کہ میری دکان پر اتنا صابن بکتا ہے کہ اس کی 25 پیٹیاں دن بھر میں خالی ہو جاتی ہیں۔ میں ان خالی پیٹیوں کو ایک روپیہ فی پیٹی کے حساب سے 25 روپیہ میں بیچ دیتا ہوں ، اس طرح ہر روز میرے 25 روپے بچ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب آدمی میرے یہاں سے صابن لیتا ہے تو اکثر وہ کچھ نہ کچھ دوسری چیزیں بھی خرید لیتا ہے ، یہ فائدہ اس کے علاو ہ ہے۔ p. 258
یہ دکان دار دھیرے دھیرے ترقی کرتا رہا۔ اس کا نفع پہلے 25 روپے روز تھا۔ پھر50 روپے روز ہوا۔ پھر وہ سو روپے اور دو سو روپے روز تک پہنچا۔ آدمی نے پیسہ بچا کر اپنے بغل کی دکان بھی حاصل کر لی اور دونوں کو ملا کر ایک کافی بڑی دکان بنا لی۔ اب اس کا کاروبار اور بڑھا۔ یہاں تک کہ دس سال میں وہ شہر کا ایک بڑا دکان دار بن گیا۔ p. 259
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے امکانات کس قدر زیادہ ہیں۔ حتیٰ کہ یہاں یہ بھی ممکن ہے کہ آدمی آج’’ بے نفع ‘‘ کی تجارت شروع کرے اور کل وہ زبردست نفع والا تاجر بن جائے۔ آج وہ اپنے آپ کو ’’بے کچھ ‘‘ پر راضی کر لے اور کل وہی وه شخص ہو جو ’’سب کچھ ‘‘ کا مالک بنا ہوا ہو۔ مگر دنیا کے ان بے حساب امکانات کو اپنے حق میں واقعہ بنانے کی لازمی شرط صبر اور عقل مندی ہے۔ جس کے پاس صرف بے صبری اور نادانی کا سرمایہ ہو اس کے لیے دنیا کے بازار میں کچھ نہیں۔ p. 259