Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
پیغمبرانہ اسلوب p. 399
پیغمبروں کی جو سیرت ہمارے علم میں آتی ہے اس کا ایک پہلو بڑا عجیب ہے۔ ہر پیغمبر اپنی ابتدائی زندگی میں لوگوں کا محبوب بنا ہوا تھا۔ مگر جب اس نے پیغمبری کا کام شروع کیا تو انہیں لوگوں کے درمیان وہ انتہائی مبغوض شخص بن گیا۔ لوگ اس کے دشمن ہوگئے۔ خود پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی۔ یہی معاملہ پیش آیا۔ پہلے آپ کی قوم آپ کو الامین کہتی تھی۔ مگر جب آپ نے ا ن کو حق کا پیغام دینا شروع کیا تو وہ لوگ آپ کی ہلاکت کے درپے ہوگئے۔ p. 399
یہ ایک مسلّم بات ہے کہ ہر پیغمبر اپنی سیرت و کردار کے اعتبار سے اعلیٰ ترین مقام پر ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کا خیر خواہ ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کی خدمت کرتا ہے۔ وہ لوگوں کے درمیان بے ضرر بن کر رہتا ہے۔ وہ لوگوں سے کسی چیز کی مانگ نہیں کرتا۔ اس کا اخلاق اتنا اونچا ہوتا ہے کہ لوگوں کی برائی کا جواب بھی وہ بھلائی کے ساتھ دیتا ہے۔ اس کا وجود سراپا نورانیت میں ڈھلا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود جب وہ پیغام رسانی کا کام شروع کرتا ہے تو لوگ نفرت کرنے لگتے ہیں۔ p. 400
پیغمبر کے ساتھ یہ معاملہ معروف طور پر صرف ’’کافروں‘‘ کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ ٹھیک یہی معاملہ خود’’مسلمانوں‘‘ کے درمیان بھی پیش آتا ہے۔ حضرت مسیحؑ جن لوگوں کے درمیان مبعوث ہوئے وہ قدیم زمانہ کے مسلمان تھے۔ مگر انہوں نے حضرت مسیح کے ساتھ بدترین سلوک کیا۔ آپ کو ذلیل کیا۔ آپ پر تھوکا۔ آپ پر مشرکوں کی عدالت میں مقدمہ چلایا۔ حتیٰ کہ آپ کو قتل کر دینا چاہا۔ p. 400
پیغمبروں کی سیرت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے خلاف لوگوں کے غصہ اور دشمنی کا سبب صرف ایک تھا، اور وہ وہی چیز تھی جس کو موجودہ زمانہ میں تنقید کہا جاتا ہے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی قوم شروع میں دور نہیں ہوئی تھی۔ مگر جب آپ نے ان کے معبودوں کا تذکرہ کیا اور ان پر عیب لگایا تو اس کو انہوں نے بہت برا مانا۔ اس کے بعد وہ آپ کے دشمن ہوگئے : حَتَّى ذَكَرَ آلِهَتَهُمْ وَعَابَهَا، فَلَمَّا فَعَلَ ذَلِكَ أَعْظَمُوهُ وَنَاكَرُوهُ، وَأَجْمَعُوا خلافَه وَعَدَاوَتَهُ (سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ238)۔ p. 400original + quote
ابن اسحاق نے جس چیز کو عیب لگانا کہا ہے اور جس کو مکہ کے مشرکین سب و شتم کہتے تھے، وہ آجکل کی زبان میں تنقید تھی۔ ہر نبی کا یہ طریقہ تھا کہ وہ مطلوب کی طرف بلاتے ہوئے غیر مطلوب پر تنقید کرتا تھا۔ یہی تنقیدی اسلوب تھا جس نے لوگوں کو پیغمبروں کا دشمن بنا دیا۔ p. 400original + quote