Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
تیسیر پسندی p. 99
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی کا ایک واقعہ ہے۔ ایک دن آپ مدینہ کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، کچھ اور صحابہ بھی وہاں موجود تھے۔ اسی دوران ایک اعرابی آیا۔ وہ مسجد کے اندر پیشاب کرنے لگا۔ لوگ اس کو مارنے کے لیے دوڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو منع کر دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو۔ پھر جب وہ پیشاب کر چکا تو آپ نے فرمایا کہ ایک ڈول پانی لاؤ اور وہاں پانی بہا کر اسے صاف کرو۔ p. 99original + quote
آخر میں اس کی وجہ بتاتے ہوئے آپ نے فرمایا: فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ ۔ یعنی تم آسانی پیدا کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، تم مشکل پیدا کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے (صحيح البخاري،حدیث نمبر 6128)۔ p. 100original + quote
اس سے اسلام کا ایک مستقل اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اجتماعی زندگی میں جب کسی کی طرف سے کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آئے تو اہل ایمان کی ساری توجہ پیدا شدہ مسئلہ کو حل کرنے پر لگنا چاہیے نہ کہ مسئلہ پیدا کرنے والے کو سزا دینے پر۔ ایسے موقع پر اہل ایمان کے اندر اصلاح کا جذبہ ابھرنا چاہیے نہ کہ انتقام لینے کا جذبہ۔ ایسی صورت حال میں وہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو مسئلہ کو گھٹانے والا ہو نہ کہ مسئلہ کو اور زیادہ بڑھا دینے والا۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے کہیں آگ لگ جائے تو فطرت کا تقاضا ہے کہ اس کو فوراً بجھایا جائے نہ کہ اس کو اور زیادہ بھڑکانے کی کوشش کی جائے۔ p. 100
ہر نزاعی معاملہ میں ایک تیسیر کی صورت ہوتی ہے اور دوسری تعسیر کی صورت۔ ایک صورت اختیار کرنے میں پیش آمدہ مسئلہ دبتا ہے۔ اور دوسری صورت اختیار کرنے میں پیش آمدہ مسئلہ اور زیادہ شدت کے ساتھ ابھر آتا ہے۔ پہلی صورت تیسیر کی ہے، اور دوسری صورت تعسیر کی۔ اسلام ہمیشہ تیسیر کی صورت کو پسند کرتا ہے۔ تعسیر کی صورت کسی بھی حال میں اسلام میں پسندیدہ نہیں ۔ p. 100
یہ اسلام کا ایک مستقل اصول ہے۔ اس کا تعلق ذاتی زندگی سے بھی ہے اور اجتماعی زندگی سے بھی۔ اس کو گھر کے اندر کے معاملات میں بھی اختیار کرنا ہے اور گھر کے باہر کے معاملات میں بھی۔ وہ ایک مکمل اصول ہے اور ایک مکمل نظام حیات۔ p. 100