Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
برتر روش p. 161
قرآن کی تقریباً دو سو آیتیں براہ راست طور پر صبر سے متعلق ہیں۔ اور بقیہ آیتیں بالواسطہ طور پر صبر سے متعلق۔ گویا قرآن کی تمام تعلیمات صبر پر مبنی ہیں۔ یہ کہنا بالکل صحیح ہو گا کہ قرآن صبر کی کتاب ہے۔ p. 162original + quote
صبر کی براہ راست آیتوں کا معاملہ واضح ہے۔ مثلاً وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ (2:45) وَاصْبِرْ عَلى مَا أَصابَكَ (31:17) وَتَواصَوْا بِالصَّبْرِ (103:3) وَدَعْ أَذاهُمْ (33:48) ۔یہ آیتیں وہ ہیں جن میں براہ راست الفاظ میں صبر کا حکم دیا گیا ہے۔ p. 162original + quote
مگر دوسری بیشتر آیتوں کا بھی صبر سے نہایت گہرا تعلق ہے۔ مثلاً قرآن کی پہلی آیت ہے: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ (1:1) ۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ اس کے بندے اس کا شکر اور تعریف کریں۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ موجودہ دنیا میں کوئی بھی آدمی ناخوشگوار تجربات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ قرآن کے مطابق انسان کو کبد (مشقت) میں پیدا کیا گیا ہے۔ ایسی حالت میں کسی کے لئے بھی یہ ممکن نہیں کہ وہ یہاں خوشیوں اور مسرتوں کی زندگی بنا سکے۔ p. 162original + quote
پھر حقیقی معنوں میں کوئی آدمی شکر کرنے والا کیسے بن سکتا ہے۔ اس کا واحد راز صبر ہے۔ یعنی آدمی جب دنیا میں پیش آنے والی مصیبتوں پر صبر کرے گا، اسی وقت اس کے لئے ممکن ہو گا کہ سچا کلمۂ شکر اس کی زبان پر جاری ہو سکے۔ اسی لئے قرآن میں شکر کے ساتھ صبر کو وابستہ کیا گیا ہے (لقمان ،31:31 )۔ p. 162original + quote
صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ مسائل کے مقابلہ میں تسخیری انداز کا برتر حل دریافت کر سکے۔ آدمی جب فریق ثانی کے مقابلہ میں بھڑک جائے تو وہ اس پوزیشن میں نہیں ہوتا کہ وہ سوچ کر کوئی گہرا جواب دے یا کوئی دوررس منصوبہ بنا سکے۔ مگر جب وہ صبر و تحمل سے کام لیتا ہے تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ فوری اقدام کے بجائے سوچا سمجھا ہوا اقدام کرے۔ اور یہ تاریخ کا تجربہ ہے کہ فوری اقدام کرنے والا ہمیشہ ناکام ہوتا ہے اور سوچ سمجھ کر اقدام کرنے والا ہمیشہ کامیاب۔ p. 163
صبر ہر قسم کے مسائل کا برتر حل (سپیریر سولیوشن) ہے۔ p. 163