Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
عمر فاروقؓ کی مثال p. 26
حضرت عمر فاروقؓ جب خلیفہ تھے، وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ میں تمہاری ہی طرح ہوں اور تم لوگوں میں سے صرف ایک ہوں۔ اس لیے تم میرے خلاف جو بات بھی محسوس کروں اسے آزادانہ طور پر کہہ سکتے ہو۔ اس معاملہ میں تمہارے اوپر کوئی پابندی نہیں۔ p. 26
ایک بار مدینہ کی مسجد کے منبر پر کھڑے ہو کر حضرت عمر لوگوں کے سامنے خطبہ دے رہے تھے، اس دوران انھوں نے کہا کہ میرے اندر اگر تم کوئی ٹیڑھ دیکھو تو اس وقت تم کیا کرو گے۔ ایک لمحہ خاموشی طاری رہی۔ اس کے بعد ایک شخص کھڑا ہوا۔ اس نے کہا کہ خدا کی قسم، اگر ہم نے آپ کے اندر کوئی ٹیڑھ دیکھا تو اس کو ہم اپنی تلواروں سے سیدھا کر دیں گے (لَوْ مِلْتَ عَدَلْنَاكَ) p. 26unverified
اس کے بعد مسجد میں جو واقعہ پیش آیا وہ راوی کے الفاظ میں یہ تھا کہ حضرت عمر خوش ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے مسلمانوں میں ایسے افراد بنائے جو عمر کی ٹیڑھ کو اپنی تلوار سے سیدھا کر دیں گے (الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَنِي فِي قَوْمٍ إِذَا مِلْتُ عَدَلُونِي)(الزہد و الرقائق لابن المبارک، اثر نمبر512 ) p. 26original + quote
اسلام کے دوسرے خلیفۂ راشد کی یہ مثال بتاتی ہے کہ تنقید و اختلاف کوئی مبغوض چیز نہیں، بلکہ وہ انتہائی محبوب چیز ہے۔ حتی کہ ایک عام آدمی اگر خلیفۂ وقت کے خلاف غیر مودبانہ انداز میں بولے تب بھی اس کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ p. 27
اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ تنقید کے وقت ناقد کو نہ دیکھو، بلکہ اپنے آپ کو دیکھو۔ ناقد اگر تمہاری کسی غلطی کی نشاندہی کر رہا ہے تو وہ عین تمہاری بھلائی کا کام کر رہا ہے۔ ایسے اچھے کام کو صرف اس لیے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے اپنی بات کہنے کے لیے نامناسب اسلوب اختیار کیا تھا۔ p. 27
خلیفۂ دوم کے اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ معاشرہ میں جو بڑے لوگ ہوں انھیں چاہیے کہ وہ آزادانہ اظہار خیال کی حوصلہ افزائی کریں۔ حتی کہ خود اپنے آپ کو کھلی تنقید کے لیے پیش کریں۔ اور یہ پیش کرنا حقیقی طور پر ہو نہ کہ مصنوعی طور پر۔ p. 27