← back to tawakkul · Deen-e-Insaniayat

عورت، مرد

Deen-e-Insaniayat — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (233 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. دینِ انسانیت
  3. بسم اللہ الرحمن الرحیم
  4. ایمان و اسلام کے واقعات
  5. حُریتِ فِکر
  6. اظہار خیال کی آزادی
  7. خدا کا تخلیقی نقشہ
  8. تواصی بالحق
  9. اختلاف میں رحمت
  10. نصیحت ، تعییب
  11. افکار کا ٹکراؤ
  12. فطرت کا نظام
  13. دربار الٰہی میں
  14. پیغمبر کی مثال
  15. ابوبکر صدیقؓ کی مثال
  16. عمر فاروقؓ کی مثال
  17. عثمان غنی ؓ کی مثال
  18. علی مرتضیٰ ؓ کی مثال
  19. ایک واقعہ
  20. ظاہر داری نہیں
  21. سوال و جواب
  22. حد بندی
  23. اختلاف کے باوجود
  24. صحت مند نتائج
  25. حق کا اعتراف
  26. حق کی برتری
  27. اضافۂ ایمان
  28. بے جا غلو
  29. جارحیت نہیں
  30. مشترک ذمہ داری
  31. آزادی کی حد
  32. اختلافات کی توجیہ
  33. روشنی کی طرف
  34. حکیمانہ قول
  35. فرقہ بندی
  36. اختلاف رائے
  37. تمہید
  38. خدا اور انسان
  39. عبادت اور خدمت
  40. والدین کے ساتھ
  41. عمل صالح
  42. صبر کی تعلیم
  43. روحانی ترقی
  44. اعلیٰ اخلاق
  45. اچھا گمان
  46. تواضع
  47. نرمی کا انداز
  48. قناعت
  49. ایثار
  50. مہربانی کا سلوک
  51. عدل و انصاف
  52. قصد و اعتدال
  53. نفع بخشی
  54. سچائی
  55. حق رسانی
  56. غصہ نہیں
  57. امانت اور عہد
  58. پاکی اور صفائی
  59. حق کی ادائیگی
  60. تیسیر پسندی
  61. مشرک کا حکم
  62. مجرم کے ساتھ بھی
  63. دو طریقے
  64. دعوہ کلچر
  65. ایک دُعا
  66. محنت کی کمائی
  67. مالی تعاون
  68. انسانیت عامہ
  69. عالمی اخوت
  70. وسیع تر آدمیت
  71. عمومی عزت
  72. آفاقی انسان
  73. احترام انسانیت
  74. سب پر سلامتی
  75. خدمت عام
  76. رحمت ، سیف
  77. جنگ کا حکم
  78. بین اقوامی رواج
  79. فرشتہ کی مدد
  80. اِذن اللہ
  81. دعا بھی عمل
  82. رحمت کلچر
  83. آفاقیت نہ کہ محدودیت
  84. حقیقتِ اسلام
  85. صبر و توکل
  86. حُسن اخلاق
  87. اسلامی طریقہ
  88. رسول خدا کا اسوہ
  89. عافیت کی زندگی
  90. غیر اثر پذیر
  91. صبر کی اہمیت
  92. ایک آیت
  93. غلط فہمی
  94. مطلوب عمل
  95. کلام کی شرط
  96. بلند کرداری
  97. قرآنی اصول
  98. بے حساب اجر
  99. قلبی عمل
  100. اعتماد و توکل
  101. برتر روش
  102. اعتدال کا طریقہ
  103. بہتر انسان
  104. ایک اسلامی حکم
  105. شکایت کے باوجود
  106. عبادت اور اخلاق
  107. معیار کو بلند کرنا
  108. ترک تعلق
  109. چپ رہنا
  110. صبر ضروری
  111. اجتماعی آداب
  112. درس حدیث
  113. پیغمبر کا طریقہ
  114. اخلاق کا کرشمہ
  115. آگ کا ٹکڑا
  116. والدین کی ذمہ داری
  117. قرآنی طریقہ
  118. چپ رہیے
  119. قیامت میں ادائیگی
  120. دعا اور اعتراف
  121. خیر کثیر
  122. صبرکی عبادت
  123. برا گمان
  124. دفع احسن
  125. تکبیر، تواضع
  126. جنت میں مکان
  127. سکون کا راز
  128. ان شاء اللہ
  129. تنگی میں آسانی
  130. حیاتِ مومن
  131. صفت مومن
  132. مثبت طریقہ
  133. قول سدید
  134. قابل پیشین گوئی کردار
  135. خیر پسند
  136. اچھا مسلمان
  137. جامع اصول
  138. بے مسئلہ
  139. پڑوسی کے ساتھ
  140. حدیث کا مطالعہ
  141. اعتراف
  142. ناشکری نہیں
  143. جنت کے کنارے
  144. ذکر و فکر
  145. ایک انسانی کردار
  146. زاویہ نظر کا فرق
  147. نصرت کا قانون
  148. اثر قبول نہ کرنا
  149. مخلص، منافق
  150. پاکیزہ روش
  151. مومن کا طریقہ
  152. پہچان کا فرق
  153. فکری انقلاب
  154. کھجور کی چپل پہننے والے
  155. عزت کیسے ملتی ہے
  156. خاموش تدبیر
  157. زبان کی طاقت
  158. حاضر جوابی
  159. اعلیٰ کردار کی ایک مثال
  160. حوصلہ مندی
  161. کامیاب مقابلہ
  162. مثبت اثر
  163. صرف الفاظ سے
  164. اِس پل پریا اُس پل پر
  165. کتے سے بھی زیادہ برا
  166. غریبی کا مطلب بے وقوفی نہیں
  167. غم آدمی کو گہرا بنا دیتا ہے
  168. تنقید کو سن کر
  169. نقطۂ انقلاب
  170. برائی کی قسمیں
  171. صبر و ہمدردی
  172. سچی ہوشیاری
  173. اعلیٰ ظرفی
  174. مومنانہ طریقہ
  175. چھوٹا واقعہ بڑا سبق
  176. دو انسان
  177. دو گواہ
  178. کرنے کا کام
  179. مسافر کی زندگی
  180. حدیث دعا
  181. بعضکم من بعض
  182. خاتون جنت
  183. عورت، مرد
  184. تقسیم کار
  185. بہترین خزانہ
  186. اخلاق نسواں
  187. روزمرہ کی زندگی
  188. حسن معاشرت
  189. مومن کا گھر
  190. تربیت اولاد
  191. صلح بہتر ہے
  192. انتظار کیجئے
  193. پیغمبرانہ نصیحت
  194. جنت کا استحقاق
  195. سب سے زیادہ
  196. غیبت نہیں
  197. حضرت خدیجہؓ
  198. حضرت عائشہؓ
  199. ایمان کی طاقت
  200. ایک گواہی
  201. تین مرحلے
  202. نکاح و طلاق
  203. نکاح سے پہلے
  204. نکاح کے بعد
  205. رحمۃ للعالمینؐ
  206. مطالعہ سیرت
  207. دلیل نبوت
  208. سیرت کی رہنمائی
  209. ممکن سے آغاز
  210. عسر میں یسر
  211. ہجرت مقام عمل کی تبدیلی
  212. فطرت پر اعتماد
  213. دشمن کو استعمال کرنا
  214. امن کی طاقت
  215. تھرڈ آپشن
  216. میدان عمل کی تبدیلی
  217. تدریج کا اصول
  218. آئیڈیلزم کے بجائے پریگمیٹزم
  219. بصیرت کی ضرورت
  220. حدیبیہ منہاج
  221. جنگ پر بیعت نہیں
  222. تکمیل دین
  223. آخری بات
  224. پیغمبر اسلام کا اسوہ
  225. پیغمبرانہ طریقہ
  226. پیغمبرانہ اسلوب
  227. اسوۂ حسنہ
  228. ہجرت رسولؐ
  229. قائد اتحاد
  230. سنجیدگی شرط ہے
  231. ایک شہادت
  232. مذہب امن
  233. اسلام مذہبِ امن

عورت، مرد p. 282

اسلام کے مطابق، عورت اور مرد یکساں درجہ میں عزت اور تکریم کے مستحق ہیں۔ قرآن(3:195)میں فرمایا کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ تم آپس میں ایک دوسرے کا جزء ہو(You are members, one of another)حدیث میں ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مرد کی طہارت کا مسئلہ دریافت کیا گیا۔ آپ نے مسئلہ بیان کیا تو ایک عورت نے پوچھافلمرأۃ تری ذلک اَعَلَیہاغسل۔ یعنی عورت کے ساتھ بھی ایسا ہی پیش آئے تو کیا اس پر غسل ہے۔ آپ نے جواب دیا:نَعَمْ. ‌إِنَّمَا ‌النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ (سنن ابی داؤد،حدیث نمبر 236)۔ یعنی، عورتیں مردوں کا نصفِ ثانی ہیں۔ p. 282original + quote

شقیق یا شقیقہ کے معنی ہیں دو برابر کے حصوں میں پھٹی ہوئی چیز کا آدھا حصہ۔ اسی لیے بھائی کو شقیق اور بہن کو شقیقہ کہتے ہیں۔ اس حدیث کا صحیح ترجمہ یہی ہے کہ عورتیں مردوں کا دوسرا نصف ہیں۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ عورت مرد کی شریک حیات ہے، اور اسی طر ح مرد عورت کاشریک حیات۔ دونوں یکساں طور پر ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔ p. 282

کسی ایک فرد کے اندر تمام مطلوب صفات نہیں ہوسکتیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے صفات انسانی کو دو ہستیوں میں بانٹ دیا ہے۔ عورت کے اندر نرمی والی صفات رکھ دیں تاکہ وہ مرد کے لیے سکون کاباعث ہو(الروم،30:21) اور دوسری طرف مرد کے اندر قوامیت والی صفات رکھ دیں تاکہ عورت اس سے اعتماد حاصل کر سکے(النساء،4:34)۔ p. 282original + quote

صفات کے اس فرق کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اکثر حالات میں دونوں کا میدان کار الگ الگ ہو جاتا ہے۔ اس علیحدگی کا مزید فائدہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے بہترین مشیر بن جاتے ہیں۔ اپنے دائرہ کار کے اعتبار سے ان میں کا ایک جن باتوں کے درمیان گھرا ہوا ہوتا ہے، دوسرا اس سے غیر متعلق رہ کر آزادانہ طور پر سوچنے کے قابل ہو جاتاہے۔ اس طرح دونوں کے لیے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ جب ان میں کا ایک متاثر ذہن کے تحت سوچے تو ان میں کا دوسرا غیر متاثرہ ذہن کے تحت اس کی رہنمائی کر سکے۔ p. 283

خاتون جنت p. 283

قرآن میں وہ تمام بنیادی صفات بتائی گئی ہیں جو جنتی خاتون میں ہونا ضروری ہیں۔ یہ صفتیں کسی عورت کو مغفرت اور اجر عظیم کا مستحق بناتی ہیں۔ وہ اس کے لیے آخرت کے عذاب سے نجات کو یقینی بنانے والی ہیں۔ سورہ الاحزاب35، اور التحریم5 کے مطابق وہ صفات حسب ذیل ہیں p. 283original + quote

ایمان، اسلام، قنوت، صدق، صبر، خشوع، صدقہ، صوم، حفظ فروج، ذکر اللہ، توبہ، عبادت، سیاحت۔ p. 283

1۔ ایمان سے مراد معرفت رب ہے۔ یعنی اپنے خالق و مالک کو اس طرح شعوری طور پر دریافت کرنا کہ وہ آپ کی سوچ پر چھا جائے۔ وہ آپ کے دل کے اندر سما جائے۔ آپ کی پوری شخصیت خدا کے نور سے نہا اٹھے۔ p. 284

2۔ اسلام کے معنی اطاعت کے ہیں۔ اس سے مراد اپنے آپ کو اللہ کے تابع بنانا ہے۔ یعنی آپ کا نفس اللہ کی اطاعت پر پوری طرح قائم ہو جائے۔ آپ اللہ کی پیروی میںاپنی زندگی گزارنے لگیں۔ آپ کی مرضی کا ہر قولی یا عملی اظہار عین اس کے مطابق ہو جس کا اللہ نے حکم فرمایا ہے۔ p. 284

3۔ قنوت کا مطلب مخلصانہ فرماں برداری ہے۔ اس سے مراد یہ کہ ذہن کی پوری یکسوئی اور دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس طریقہ کو اختیار کر لیا جائے جو خدا و رسولؐ نے بتایا ہے۔ تعمیل حکم میں جب قلب کا جھکاؤ اور خضوع شامل ہو جائے تو اسی کو قنوت کہا جاتا ہے۔ p. 284

4۔ صدق کے معنی سچائی کے ہیں۔ اس سے مراد قول اور عمل کی مطابقت ہے، یعنی وہی کہنا جو آپ کو کرنا ہے اور وہی کرنا جو آپ نے اپنی زبان سے کہا ہے۔ لوگوں کے درمیان آپ ایک صاحب کردار خاتون کی حیثیت سے زندگی گزاریں۔ p. 284

5۔ صبر ایک بہادرانہ صفت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کے احکام پر چلنے کے لیے اگر تکلیف اٹھانا پڑے تب بھی اس سے نہ ہٹنا۔ نفس اور شیطان کا مقابلہ کرتے ہوئے دینی تقاضوں پر جمے رہنا۔ مخالفانہ محرکات کے باوجود خدائی راستہ کو نہ چھوڑنا۔ p. 285

6۔ خشوع سے مراد تواضع اور خاکساری ہے۔ خدا کی بڑائی اور اس کے کامل اختیار کے تصور سے کسی کے اندر جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اسی کو خشوع کہا جاتا ہے۔ یہ احساس مومن اور مومنہ کو خدا کے آگے بالکل جھکا دیتا ہے۔ خدا کے خوف سے ان کے دل لرز اٹھتے ہیں اور ان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ p. 285

7۔ صدقہ کا مطلب خیرات ہے۔ یعنی آپ اپنے مال میں سے دوسرے ضرورت مندوں کا حق نکالیں۔ جس طرح اپنی ضرورت کا احساس آپ کو اپنے اوپر خرچ کرنے کے لیے مجبور کرتا ہے اسی طرح دوسرے حاجت مندوں کی امداد سے بھی بے پروا نہ رہیں۔ p. 285

8۔ صوم کا مطلب اللہ کے لیے روزہ رکھنا ہے۔ روزہ شکر کی تربیت ہے۔ روزہ رکھنا گویا اپنے آپ کواس حالت کی طرف لے جانا ہے جبکہ آپ خدا کے مقابلہ میں اپنی محتاجی کا تجربہ کریں۔ اور پھر آپکے اندر اس رزق کے اوپر خدا کے شکر کا جذبہ بیدار ہو جو اس نے اپنے خزانہ رحمت سے آپ کو عطا کیا ہے۔ p. 285

9۔ حفظ فروج کا لفظی مطلب شرمگاہوں کی حفاظت ہے۔ یعنی دنیا کی زندگی میں عفت اور پاک دامنی کا طریقہ اختیار کرنا اور بے حیائی والے اعمال سے بچنا۔ حیا کا فطری پردہ جو خدا نے پیدا کیا ہے اس کا پورا لحاظ رکھنا۔ p. 285

10۔ ذکر اللہ کا مطلب اللہ کی یاد ہے۔ خدا کو بہت زیادہ یاد کرنا خدا کی معرفت کا لازمی نتیجہ ہے۔ جو کوئی خدا کو حقیقی طور پر پا لیتا ہے اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ ہر موقع پر اس کو خدا کی یاد آتی ہے۔ اس کی روح خدا کے تصور سے اس طرح سرشار ہو جاتی ہے کہ بار بار اس کو خدا کی یاد آتی رہے۔ p. 286

11۔ توبہ کے لفظی معنی ہیں پلٹنا۔ یعنی غلطی کرنے کے بعد پھر صحیح روش کی طرف لوٹ آنا۔ یہ کسی مومنہ کی خاص صفت ہے۔ امتحان کی اس دنیا میں ہر ایک سے بار بار غلطیاں ہوتی ہیں۔ ایسے موقع پر یہ ہونا چاہیے کہ نفس کے غلبہ سے جب وقتی طور پر کسی سے غلطی ہو جائے تو اس کے بعد خدا کی پکڑ کا احساس اس پر طاری ہو اور وہ فوراً پلٹ کر خدا سے معافی مانگنے لگے۔ p. 286

12۔ عبادت سے مراد پرستش ہے۔ یعنی وہ خاشعانہ عمل جو خدا کی عظمت اور برتری کو مان کر اس کے سامنے کیا جائے۔ اس قسم کی پرستش اللہ کے سوا کسی اور کے لیے جائز نہیں۔ جنتی خاتون کی پہچان یہ ہے کہ وہ صرف ایک خدا کی پرستار بن گئی ہو۔ p. 286

13۔ سیاحت سے مراد روزہ جیسے ریاضتی اعمال ہیں۔ اس کی روح زہد ہے۔ کسی مومنہ پر جب آخرت کی فکر اتنی زیادہ غالب آ جائے کہ وہ دنیا سے بے رغبت ہو جائے اور دنیا کی چیزوں میں اس کا شوق باقی نہ رہے تو اس وقت اس کی جو زاہدانہ زندگی بنتی ہے اسی کو یہاں سیاحت کہا گیا ہے۔ p. 286

فطرت کا نظام p. 287

قرآن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ہر چیز کو جوڑے جوڑے کی صورت میں بنایا ہے(وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ) 51:49۔ p. 287Qur'an

اسی اصول فطرت کے مطابق انسان کو بھی دو حصوں کی صورت میں تخلیق کیا گیا ہے، اس کا ایک حصہ مرد ہے اور اس کا دوسرا حصہ عورت۔ یہ خود خالق فطرت کا تخلیقی منصوبہ ہے۔ ہر مرد اور عورت پر لازم ہے کہ وہ اس منصوبہ کو تسلیم کرے۔ اس کو رد کرکے زندگی کا کوئی اور نقشہ بنانا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ اس فطری منصوبہ کو ماننے ہی کا نام کامیابی ہے اور اس کو نہ ماننے کا نام ناکامی۔ p. 287

زوجین کی اس تقسیم کا تقاضا ہے کہ اس کا ہر فریق اپنی حیثیت کو اور اپنے کارمنصبی کو جانے۔ مرد کو یہ جاننا ہے کہ اس کے حقوق اور اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔ اسی طرح عورت کو یہ جاننا ہے کہ اس کے حدود کار کیا ہیں۔ زندگی کے نظام میں خالق فطرت نے اس کو کیا درجہ عطا فرمایا ہے۔ p. 287

ایک لفظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ مرد باہر کا منتظم کار ہے اور عورت گھر کی سردار ہے۔ اصولی تقسیم کے مطابق، مرد کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ باہر کے معاملات کو سنبھالے، اور عورت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ گھر کے امور کو سنوارے اور ان کو درست کرے۔ p. 288

تاہم اس تقسیم کار کو خوش اسلوبی کے ساتھ چلانے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی نزاکتوں کو سمجھیں، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کامل تعاون کریں۔ p. 288

مثلاً مرد جو ماہانہ رقم کماتا ہے، عورت اگر گھر کے اخراجات کا بجٹ اس سے زیادہ بنائے تو گھر کے نظام کا خوش اسلوبی کے ساتھ چلنا ناممکن ہو جائے گا۔ اسی طرح مرد اپنے جن رشتہ داروں کو عزیز رکھتا ہے، عورت ان کے ساتھ رقابت قائم کر لے۔ مرد جن لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہتا ہے، عورت ان کو اپنا دشمن سمجھ لے۔ مرد سماج کے اندر جن تعلقات کو نبھانا چاہتا ہے، عورت ان کو توڑنے کے درپے ہو جائے۔ مرد وسیع تر مفاد کی خاطر جن لوگوں کو دوست رکھنا چاہتا ہے، عورت ان سے قطع تعلق کی وکیل بن جائے۔ p. 288

اس قسم کی تمام باتیں فطرت کے نظام میں خلل ڈالنے کے ہم معنی ہیں۔ جب بھی کوئی عورت ایسا کرے گی تو وہ صرف ایک مرد سے عدم موافقت کرنے والی نہیں ہوگی بلکہ وہ خود نظام فطرت سے عدم موافقت کی مجرم قرار پائے گی۔ p. 288

عورت پر لازم ہے کہ وہ صرف اپنے جذبات کو رہنما نہ بنائے بلکہ خالق فطرت کے منصوبہ پر نظر رکھے۔ وہ اس حقیقت کا اعتراف کرے کہ وہ انسانیت کے وجود کا نصف ہے نہ کہ کل۔ اس کو اپنے جذبات کے ساتھ نظام فطرت کو بھی دیکھنا ہے، اور جہاں اس کے ذاتی احساسات اور فطرت میں ٹکراؤ ہو وہاں اپنے احساسات کو دبانا ہے اور فطرت کے نظام کو خوش دلی کے ساتھ اختیار کر لینا ہے۔ p. 288

کائنات کا نظام اسی موافقت باہمی کے اصول پر چل رہا ہے۔ کائنات کا ہر جزء پورے جذبہ اطاعت کے ساتھ دوسرے اجزاء کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر اپنا وظیفہ ادا کر رہا ہے۔ یہی معاملہ گھر کے نظام میں بھی مطلوب ہے۔ یہاں بھی عورت کو گھر کے مجموعی نظام سے ہم آہنگی اختیار کرتے ہوئے اپنی زندگی کا نقشہ بنانا ہے، اسی ہم آہنگی میں اس کے لیے ہر قسم کی سعادت اور ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔ p. 289

گھر کے نظام کو خوش اسلوبی کے ساتھ چلانے کے لیے عورت کو اپنے ساتھ دوسروں کے جذبات کی رعایت کرنا ہے۔ اس کو اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ ہونا ہے۔ اس کو اپنے خونی رشتوں کے احترام کے ساتھ اپنے غیر خونی رشتوں کا بھی پورا لحاظ رکھنا ہے۔ اور یہ سب کچھ یہ سمجھ کر کرنا ہے کہ وہ کسی مرد یا کسی عورت کے سامنے نہیں جھک رہی ہے بلکہ خالق فطرت کے آگے جھک رہی ہے، کیوں کہ خالق فطرت کی مرضی یہی ہے۔ p. 289

زوجین کے اصول کا ابتدائی مطلب یہ ہے کہ مرد کے ساتھ عورت ہے اور عورت کے ساتھ مرد۔ مگر وسیع تر معنی میں وہ پوری زندگی کو سموئے ہوئے ہے۔ وسیع تر انطباق کے اعتبار سے اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر مرد اور عورت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ زندگی عالمی انسانی اشتراک کا ایک نظام ہے۔ کوئی مرد یا کوئی عورت اس عمومی زنجیر کی صرف ایک کڑی ہے۔ ایک کڑی کے ٹوٹنے سے پوری زنجیر ٹوٹ جاتی ہے۔ اس لیے ہر کڑی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سالمیت کو آخری حد تک باقی رکھے تاکہ فطرت کا قائم کردہ نظام حیات شکست و ریخت کا شکار نہ ہونے پائے۔ p. 289