Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
جامع اصول p. 217
دین انسانیت کانہایت سادہ اصول یہ ہے کہ___ دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کا یہ حال نہ ہو جائے کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو وہ خود اپنے لیے پسند کرتا ہے (لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ) صحيح البخاري،حدیث نمبر13۔یعنی اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے پڑوسی (یا اپنے بھائی) کے لیے وہی پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ p. 217original + quote
کوئی آدمی خواہ پڑھا لکھا ہو یا بے پڑھا لکھا ہو، ایک طبقہ سے تعلق رکھتا ہو یا دوسرے طبقہ سے، حتی کہ معذور ہو یا غیر معذور، ہر حال میں وہ یقینی طور پر یہ جانتا ہے کہ کیا چیز مجھے پسند آتی ہے اور کیا چیز مجھے پسند نہیں آتی۔ اب ہر آدمی سادہ طور پر اپنے لیے یہ اصول بنا لے کہ جو سلوک اس کو پسند آتا ہے وہی سلوک وہ دوسروں کے ساتھ کرے۔ اور جو سلوک اس کو پسند نہیں آتا اس سے وہ خود بھی پرہیز کرنے لگے۔ p. 217
یہ ایک ایسا جامع اصول ہے جو عورت اور مرد، فرد اور قوم، ملکی اور غیر ملکی ہر ایک کے لیے کارآمد ہے۔ لوگ اگر اس اصول کو اختیار کر لیں تو خاندانی زندگی بھی بہتر ہو جائے اور سماجی زندگی بھی۔ قومی زندگی بھی خوش اسلوبی کے ساتھ چلنے لگے اور بین الاقوامی زندگی بھی۔ یہ گویا انسانی اخلاقیات کے لیے ایک شاہ کلید ہے۔ یہ ایک ہی کنجی تمام تالوں کو کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ p. 217
جو آدمی اپنے اور غیر میں فرق نہ کرے وہ ایک بااصول انسان ہو گا۔ اس کے اندر ایک بے تضاد شخصیت پرورش پائے گی۔ اس کی یہ صفت اس کو کامل انسان بنا دے گی۔ p. 217