Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
صبرکی عبادت p. 195
نماز کا وقت ہو اور مسجد سے اذان کی آواز آئے تو ایک مسلمان خوش ہوتا ہے کہ اس کے لئے وقت آ گیا کہ وہ نماز ادا کرے اور عبادت کا ثواب حاصل کرے۔ اسی طرح جب رمضان کا نیا چاند آسمان پر نظر آتا ہے تو مسلمان خوش ہوتے ہیں کہ رمضان کے مہینہ کی آمد نے ان کو موقع دیا کہ وہ روزہ رکھ کر اپنے آپ کو اس کے ثواب کا مستحق بنائیں۔ p. 195
اسی طرح ایک اور عظیم عبادت ہے جس کو شریعت میں صبر کہا گیا ہے۔ قرآن میں ہے کہ صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا۔ (39:10)۔حدیث میں ہے کہ صبر سے زیادہ بہتر عطیہ کبھی کسی کو نہیں دیا گیا (لَنْ تُعْطَوْا عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ)صحیح البخاری، حدیث نمبر 6470۔ صبر ایک عبادت ہے، بلکہ تمام عبادتوں میں سب سے بڑی عبادت۔ p. 195original + quote
عصر کی نماز کا ثواب بہت زیادہ ہے، مگر آپ عصر کی نماز دوپہر کے وقت نہیں پڑھ سکتے۔ اسی طرح رمضان کے روزہ کے لئے غیر معمولی ثواب کی خوش خبری دی گئی ہے۔ مگر یہ ثواب محرم کے مہینہ میں روزہ رکھ کر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ یہی معاملہ صبر کی عبادت کا بھی ہے۔ صبر کی عبادت صبر کے حالات میں انجام دی جا سکتی ہے، غیر صابرانہ حالات میں صبر کی عبادت کی انجام دہی ممکن نہیں۔ p. 195
صبر کا موقع کب پیش آتا ہے۔ صبر کا موقع اس وقت پیش آتا ہے جبکہ آپ کے ساتھ اشتعال انگیزی کی جائے۔ آپ کے ساتھ برا برتاؤ کیا جائے۔ جب کوئی شخص ایسی بات کہے جس سے آپ کی انا پر چوٹ لگتی ہو۔ صبر پر عمل کرنے کا موقع ہمیشہ مخالفانہ حالات میں ہوتا ہے نہ کہ موافقانہ حالات میں۔ p. 196
صبر کے حالات پیش آنے پر اکثر لوگ بھڑک اٹھتے ہیں۔ وہ منفی نفسیات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ شعوری طور پر جانیں کہ یہ تو ان کے لئے صبر کی عبادت کا موقع ہے تو وہ صبر کے وقت کا اسی طرح استقبال کریں جس طرح وہ نماز اور روزہ کے وقت کا استقبال کرتے ہیں۔ p. 196
صبر کا موقع عبادت کا موقع ہے۔ ایسا موقع پیش آنے پر آدمی کو یقین کرنا چاہئے کہ وہ وقت آ گیا جب کہ عبادتِ عظیم کا ثبوت دے کر وہ ثوابِ عظیم کا مستحق بن جائے۔ p. 196