← back to tawakkul · Deen-e-Insaniayat

حق رسانی

Deen-e-Insaniayat — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (233 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. دینِ انسانیت
  3. بسم اللہ الرحمن الرحیم
  4. ایمان و اسلام کے واقعات
  5. حُریتِ فِکر
  6. اظہار خیال کی آزادی
  7. خدا کا تخلیقی نقشہ
  8. تواصی بالحق
  9. اختلاف میں رحمت
  10. نصیحت ، تعییب
  11. افکار کا ٹکراؤ
  12. فطرت کا نظام
  13. دربار الٰہی میں
  14. پیغمبر کی مثال
  15. ابوبکر صدیقؓ کی مثال
  16. عمر فاروقؓ کی مثال
  17. عثمان غنی ؓ کی مثال
  18. علی مرتضیٰ ؓ کی مثال
  19. ایک واقعہ
  20. ظاہر داری نہیں
  21. سوال و جواب
  22. حد بندی
  23. اختلاف کے باوجود
  24. صحت مند نتائج
  25. حق کا اعتراف
  26. حق کی برتری
  27. اضافۂ ایمان
  28. بے جا غلو
  29. جارحیت نہیں
  30. مشترک ذمہ داری
  31. آزادی کی حد
  32. اختلافات کی توجیہ
  33. روشنی کی طرف
  34. حکیمانہ قول
  35. فرقہ بندی
  36. اختلاف رائے
  37. تمہید
  38. خدا اور انسان
  39. عبادت اور خدمت
  40. والدین کے ساتھ
  41. عمل صالح
  42. صبر کی تعلیم
  43. روحانی ترقی
  44. اعلیٰ اخلاق
  45. اچھا گمان
  46. تواضع
  47. نرمی کا انداز
  48. قناعت
  49. ایثار
  50. مہربانی کا سلوک
  51. عدل و انصاف
  52. قصد و اعتدال
  53. نفع بخشی
  54. سچائی
  55. حق رسانی
  56. غصہ نہیں
  57. امانت اور عہد
  58. پاکی اور صفائی
  59. حق کی ادائیگی
  60. تیسیر پسندی
  61. مشرک کا حکم
  62. مجرم کے ساتھ بھی
  63. دو طریقے
  64. دعوہ کلچر
  65. ایک دُعا
  66. محنت کی کمائی
  67. مالی تعاون
  68. انسانیت عامہ
  69. عالمی اخوت
  70. وسیع تر آدمیت
  71. عمومی عزت
  72. آفاقی انسان
  73. احترام انسانیت
  74. سب پر سلامتی
  75. خدمت عام
  76. رحمت ، سیف
  77. جنگ کا حکم
  78. بین اقوامی رواج
  79. فرشتہ کی مدد
  80. اِذن اللہ
  81. دعا بھی عمل
  82. رحمت کلچر
  83. آفاقیت نہ کہ محدودیت
  84. حقیقتِ اسلام
  85. صبر و توکل
  86. حُسن اخلاق
  87. اسلامی طریقہ
  88. رسول خدا کا اسوہ
  89. عافیت کی زندگی
  90. غیر اثر پذیر
  91. صبر کی اہمیت
  92. ایک آیت
  93. غلط فہمی
  94. مطلوب عمل
  95. کلام کی شرط
  96. بلند کرداری
  97. قرآنی اصول
  98. بے حساب اجر
  99. قلبی عمل
  100. اعتماد و توکل
  101. برتر روش
  102. اعتدال کا طریقہ
  103. بہتر انسان
  104. ایک اسلامی حکم
  105. شکایت کے باوجود
  106. عبادت اور اخلاق
  107. معیار کو بلند کرنا
  108. ترک تعلق
  109. چپ رہنا
  110. صبر ضروری
  111. اجتماعی آداب
  112. درس حدیث
  113. پیغمبر کا طریقہ
  114. اخلاق کا کرشمہ
  115. آگ کا ٹکڑا
  116. والدین کی ذمہ داری
  117. قرآنی طریقہ
  118. چپ رہیے
  119. قیامت میں ادائیگی
  120. دعا اور اعتراف
  121. خیر کثیر
  122. صبرکی عبادت
  123. برا گمان
  124. دفع احسن
  125. تکبیر، تواضع
  126. جنت میں مکان
  127. سکون کا راز
  128. ان شاء اللہ
  129. تنگی میں آسانی
  130. حیاتِ مومن
  131. صفت مومن
  132. مثبت طریقہ
  133. قول سدید
  134. قابل پیشین گوئی کردار
  135. خیر پسند
  136. اچھا مسلمان
  137. جامع اصول
  138. بے مسئلہ
  139. پڑوسی کے ساتھ
  140. حدیث کا مطالعہ
  141. اعتراف
  142. ناشکری نہیں
  143. جنت کے کنارے
  144. ذکر و فکر
  145. ایک انسانی کردار
  146. زاویہ نظر کا فرق
  147. نصرت کا قانون
  148. اثر قبول نہ کرنا
  149. مخلص، منافق
  150. پاکیزہ روش
  151. مومن کا طریقہ
  152. پہچان کا فرق
  153. فکری انقلاب
  154. کھجور کی چپل پہننے والے
  155. عزت کیسے ملتی ہے
  156. خاموش تدبیر
  157. زبان کی طاقت
  158. حاضر جوابی
  159. اعلیٰ کردار کی ایک مثال
  160. حوصلہ مندی
  161. کامیاب مقابلہ
  162. مثبت اثر
  163. صرف الفاظ سے
  164. اِس پل پریا اُس پل پر
  165. کتے سے بھی زیادہ برا
  166. غریبی کا مطلب بے وقوفی نہیں
  167. غم آدمی کو گہرا بنا دیتا ہے
  168. تنقید کو سن کر
  169. نقطۂ انقلاب
  170. برائی کی قسمیں
  171. صبر و ہمدردی
  172. سچی ہوشیاری
  173. اعلیٰ ظرفی
  174. مومنانہ طریقہ
  175. چھوٹا واقعہ بڑا سبق
  176. دو انسان
  177. دو گواہ
  178. کرنے کا کام
  179. مسافر کی زندگی
  180. حدیث دعا
  181. بعضکم من بعض
  182. خاتون جنت
  183. عورت، مرد
  184. تقسیم کار
  185. بہترین خزانہ
  186. اخلاق نسواں
  187. روزمرہ کی زندگی
  188. حسن معاشرت
  189. مومن کا گھر
  190. تربیت اولاد
  191. صلح بہتر ہے
  192. انتظار کیجئے
  193. پیغمبرانہ نصیحت
  194. جنت کا استحقاق
  195. سب سے زیادہ
  196. غیبت نہیں
  197. حضرت خدیجہؓ
  198. حضرت عائشہؓ
  199. ایمان کی طاقت
  200. ایک گواہی
  201. تین مرحلے
  202. نکاح و طلاق
  203. نکاح سے پہلے
  204. نکاح کے بعد
  205. رحمۃ للعالمینؐ
  206. مطالعہ سیرت
  207. دلیل نبوت
  208. سیرت کی رہنمائی
  209. ممکن سے آغاز
  210. عسر میں یسر
  211. ہجرت مقام عمل کی تبدیلی
  212. فطرت پر اعتماد
  213. دشمن کو استعمال کرنا
  214. امن کی طاقت
  215. تھرڈ آپشن
  216. میدان عمل کی تبدیلی
  217. تدریج کا اصول
  218. آئیڈیلزم کے بجائے پریگمیٹزم
  219. بصیرت کی ضرورت
  220. حدیبیہ منہاج
  221. جنگ پر بیعت نہیں
  222. تکمیل دین
  223. آخری بات
  224. پیغمبر اسلام کا اسوہ
  225. پیغمبرانہ طریقہ
  226. پیغمبرانہ اسلوب
  227. اسوۂ حسنہ
  228. ہجرت رسولؐ
  229. قائد اتحاد
  230. سنجیدگی شرط ہے
  231. ایک شہادت
  232. مذہب امن
  233. اسلام مذہبِ امن

حق رسانی p. 92

ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمانؓ اور حضرت ابو الدرداءؓ کے درمیان مواخاۃ قائم فرمائی تھی۔ حضرت سلمان اور حضرت ابوالدرداء کا جب ساتھ ہوا تو حضرت سلمان نے دیکھا کہ ابو الدرداء دن کو روزہ رکھتے ہیں اور رات کو کثرت سے نمازیں پڑھتے ہیں۔ دوسری انسانی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے ان کے پاس زیادہ وقت باقی نہیں رہتا۔ p. 92original + quote

حضرت سلمان نے حضرت ابوالدرداء کو اس سے منع کیا۔ انھوں نے کہا کہ خدا کے حقوق کے ساتھ انسانوں کے حقوق بھی تمہارے اوپر ہیں۔ تم کو چاہیے کہ تم ہر حق دار کا حق ادا کرو ( ‌فَأَعْطِ ‌كُلَّ ‌ذِي حَقٍّ حَقَّهُ) ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ سلمان نے ٹھیک کہا (صدقَ سلمان) صحيح البخاري حدیث نمبر 1968۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ سلمان فقیہہ ہیں (علل الدارقطني، جلد8، صفحہ 128)۔ سلمان کو علم میں حصہ ملا ہے (حلیۃ الاولیا للاصفہانی، جلد1، صفحہ188 ) p. 93quoted source

حق داروں کو ان کا حق پہنچانے کا یہ معاملہ اسلام میں اتنا سنگین ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ اگر تم نے دنیا میں حق دار کو اس کا حق نہ دیا تو قیامت کے دن تمہیں ان کا حق ادا کرنا ہو گا۔ لَتُؤَدَُّنَّ ‌الْحُقُوقَُ ‌إِلَى ‌أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2582) یعنی موجودہ امتحان کی دنیا میں جو آدمی حقوق کی ادائیگی میں ناکام رہے گا وہ آنے والے فیصلہ کے دن شدید تر انداز میں اس کا بھگتان ادا کرنے پر مجبور ہو گا۔ p. 93original + quote

حقوق کی ادائیگی کا یہ معاملہ کسی ایک چیز سے متعلق نہیں ہے بلکہ تمام چیزوں سے متعلق ہے۔ مثلاً گھر کا حق یہ ہے کہ آپ اپنے بیوی بچوں کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔ پڑوسی کا حق یہ ہے کہ آپ ان کے لیے کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہ پیدا کریں۔ راستہ کا حق یہ ہے کہ آپ کوئی ایسا فعل نہ کریں جس سے دوسرے راستہ چلنے والوں کو تکلیف پہنچے۔ سماج کا حق یہ ہے کہ آپ تمام لوگوں کے ساتھ خیرخواہی کا معاملہ کریں۔ قوم کا حق یہ ہے کہ آپ اس کی صلاح و فلاح کو اپنی ذمہ داری سمجھیں اور کبھی اس سے غافل نہ ہوں۔ p. 93

حقوق کی ادائیگی ایک مکمل نظریہ ہے اور اس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ p. 93