Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مومنانہ طریقہ p. 267
مولانا شبلی نعمانی(1857-1914) کی آخر زندگی میں یہ حادثہ پیش آیا کہ گھر میں بھری ہوئی بندوق چل گئی جس کی وجہ سے ان کا ایک پاؤں شدید طور پر زخمی ہوا اور بالآخر اس کو ڈاکٹروں نے کاٹ دیا۔ اس حادثہ پر شاعروں نے طرح طرح کے مضامین باندھے۔ کسی نے کہا’’ہمت کا قدم زمیں پہ گاڑ دیا‘‘ کسی نے لکھا’’سیرت نگار نبوی نے حوروں کی پابوسی کے لیے پہلے ہی سے قدم بھیج دیا’’وغیرہ۔ مگر خود مولانا شبلی کے جذبات دوسرے تھے۔ انہوں نے اپنے اس حادثہ پر یہ شعر کہا p. 267original + quote
شبلی نامہ سیہ رابجز اے عملش پابریدندوصداخاست کہ سرمی باید p. 267
یعنی شبلی کے سیاہ اعمال کی وجہ سے اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا تو اوپر سے آواز آئی کہ پاؤں نہیں سر کی ضرورت ہے۔ p. 268
یہی مومن کا طریقہ ہے۔ مومن کبھی دوسروں کی تعریف سے غلط فہمی میں نہیں پڑتا۔ عین اس وقت جب کہ لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں، اس کی اندرونی نفسیات اس کو اپنی بے حقیقی یاد دلاتی ہے جب اس کے نام پر استقبالیہ پیش کیا جاتا ہے تو وہ برعکس طور پر اپنے ذاتی احتساب میں مشغول ہو جاتا ہے۔ p. 268
دوسروں کی تعریف سے اپنی شخصیت کے قد کو ناپنا انتہائی سطحیت کی بات ہے، اور مومن سب سے زیادہ اس سطحیت سے دور ہوتا ہے۔ مومن وہ ہے جو اپنے آپ کو خدا کی نسبت سے جانچے نہ کہ انسان کی نسبت ے۔ اور جو شخص اپنے آپ کو خدا کی نسبت سے جانچے وہ کبھی غلط فہمی کا شکار نہیں ہو سکتا۔ p. 268
تعریف مومن کی تواضع کو بڑھاتی ہے، اور جو غیر مومن ہو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ تعریف سے صرف اس کے جھوٹے پندار میں اضافہ ہوتا ہے اپنے کو قابل تعریف سمجھنا، اپنے آپ کو خدا کا ہمسر بنانا ہے۔ اور خدا کا ہمسر بننا، بلاشبہ کسی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ p. 268
مومن کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کو ہر موقع پر خدا یاد آتا ہے۔ مذمت کا پہلو ہو یا تعریف کا، ہمیشہ وہ خذا کی طرف رجوع کرتا ہے۔ جب کوئی شخص اس کی تعریف کرتا ہے تو وہ عین اپنے مزاج کی بنا پر خدا کو یاد کرنے لگتا ہے جو تمام بڑوں سے زیادہ بڑا ہے۔ خدا کی عظمت کا احساس اس سے ذاتی عظمت کے احساس کو چھین لیتا ہے۔ تعریف اس کی تواضع کو بڑھانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ p. 269