Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
تکبیر، تواضع p. 201
اللہ کے مقابلہ میں کَبِرّہ کا حکم ہے اور انسان کے مقابلہ میں تواضعوا کا۔ یعنی اللہ کے مقابلہ میں یہ مطلوب ہے کہ اس کو اپنا کبیر بنایا جائے۔ اور انسان کے مقابلہ میں یہ مطلوب ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے مقابلہ میں تواضع کا رویہ اختیار کریں۔ یہی تکبیر اور تواضع دو لفظ میں پورے دین کا خلاصہ ہے۔ p. 201
قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ تم اللہ ہی کی خوب بڑائی بیان کرو (وَكَبِّرْهُ تَكْبِيراً)17:111۔دوسری جگہ فرمایا کہ تم صرف اپنے رب کی بڑائی کرو (وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ)74:3۔ p. 201Qur'an
اللہ کی معرفت کے بعد آدمی کے دل میں اپنے خالق و مالک کے لیے جو سب سے بڑا جذبہ پیدا ہوتا ہے وہ یہی ہے۔ اس کو ساری عظمت صرف ایک اللہ کی طرف دکھائی دینے لگتی ہے۔ وہ اس کے آگے جھک جاتا ہے۔ اللہ کو کبیر کی حیثیت سے دریافت کرنا اس کے اندر یہ شعور پیدا کرتا ہے کہ وہ اور دوسرے تمام انسان اللہ کے مقابلہ میں صرف صغیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وہ احساس ہے جو ایک مومن کی زندگی میں عبادت، تقویٰ، خشوع ، تضرع اور انابت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ p. 201
امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت عیاض بن حِمار کی یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلَے اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ اللہ نے میری طرف یہ وحی کی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو، یہاں تک کہ کوئی کسی کے اوپر فخر نہ کرے، کوئی کسی کے اوپر زیادتی نہ کرے (إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوا، حَتَّى لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ، وَلَا يَبْغِيَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ) صحيح مسلم،حدیث نمبر 2865۔ p. 202original + quote
یہ حدیث بتاتی ہے کہ ایک انسان کو دوسرے انسان کے مقابلہ میں کیسا ہونا چاہیے۔ اس کو چاہیے کہ وہ دسرے انسانوں کے مقابلہ میں متواضع بن جائے۔ زیادہ والا کم والے پر فخر نہ کرے۔ طاقتور آدمی کمزور آدمیوں کے اوپر زیادتی نہ کرے۔ p. 202original + quote
ایمان آدمی کے اندر جو شعور اور جو کیفیت پیدا کرتا ہے، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کواپنا کبیر بنا کر اس کے مقابلہ میں اپنے کو صغیر بنا لیتا ہے۔ پھر یہی شعور اس کے اندر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ وہ تمام انسانوں کو قابلِ احترام سمجھے، وہ اُن کے ساتھ تواضع کا رویہ اختیار کرے نہ کہ سرکشی اور تحقیر کا۔ p. 202