Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مسافر کی زندگی p. 275
حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کندھا پکڑ کر فرمایا: دنیا میں اس طرح رہو گویا کہ تم اجنبی ہو تم یہاں ایک مسافر ہو۔ p. 275hadith
اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہا کرتے تھے کہ جب تم شام کرو تو تم صبح کا انتظار نہ کرو۔ اور جب تم صبح کرو تو تم شام کا انتظار نہ کرو۔ اور تم اپنی صحت سے اپنے مرض کے لیے لو اور تم اپنی زندگی سے اپنی موت کے لیے حاصل کرو۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6416)۔ p. 275quoted source
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نصیحت اور صحابی کی اس تشریح میں زندگی کا راز بتا دیا گیا ہے۔ انسان جب اپنے گھر پر اور اپنے وطن میں ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنے مستقل مقام پر ہوں۔ یہ احساس اس کی پوری زندگی کو ایک خاص ڈھنگ پر ڈھال دیتا ہے، اس کے برعکس جو آدمی کسی اجنبی علاقہ میں سفر کر رہا ہو وہ سمجھتا ہے کہ میں ایک عارضی مقام پر ہوں۔ یہ احساس اس کی پوری زندگی کو بالکل دوسرا رُخ دیدیتا ہے___مومن کی زندگی ایک اعتبار سے اسی دوسرے انسان کی مانند ہوتی ہے۔ p. 275original + quote
مومن موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو وقتی مسافر سمجھتا ہے۔ یہ احساس اس کے اندر اس کی توجہ اور اس کی دلچسپیوں کو دنیا میں لگنے نہیں دیتا۔ وہ بظاہر دنیا میں رہتا ہے، مگر اپنی یاد اور سوچ کے اعتبار سے وہ آخرت کا باسی بنا رہتا ہے۔ یہ ذہن اس کے اندربے پناہ صبر پیدا کر دیتا ہے۔ وہ ہر تلخی کو برداشت کر لیتا ہے، کیونکہ ہر تلخی اس کو وقتی دکھائی دیتی ہے۔ بڑے بڑے نقصان کو وہ سہہ لیتا ہے، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کا فائدہ بھی عارضی ہے اور یہاں کا نقصان بھی عارضی۔ شدید انتقامی جذبات بھی اس کے اندرونی سرد خانہ میں پہنچ کر بجھ جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ انتقام لینے والا بھی بالآخر موت کی گرفت میں آنے والا ہے اور انتقام نہ لینے والا بھی۔ p. 276
یہ چیز اس کو حددرجہ وقت کا احساس کرنے والا(Time-conscious)بنا دیتی ہے۔ اس کو یقین نہیں ہوتا کہ وہ اگلی صبح تک جئے گا اور اس لیے وہ اپنی موجودہ شام کو آخری حد تک استعمال کر لینا چاہتا ہے۔ وہ اپنے ایک لمحہ کو بھی ضائع کرنا پسند نہیں کرتا۔ p. 276