Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
حاضر جوابی p. 247
مولانا سعید احمد خان سلطان پوری، جمعیۃ علماء ہند کے آرگنائزر تھے۔ لوگ انہیں ازراہِ محبت ’’دادا‘‘ کہا کرتے تھے۔20 جنوری 1989ء کو اپنے وطن سلطان پور میں ان کا انتقال ہوگیا۔ بوقت انتقال ان کی عمر تقریباً70 سال تھی۔ p. 247
وہ نہایت حاضر جواب آدمی تھے۔ ایک بار کا قصہ ہے۔ وہ مسجد عبدالنبی(نئی دہلی) میں ایک مجلس کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک خوش پوش، بلند قامت آدمی آ کر سامنے کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے تیز و تند لہجہ میں کہا کہ آپ کے دفتر کے کارکن نہایت بدتمیز ہیں۔ وہ ہم جیسے لوگوں کا احترام نہیں کرتے۔ اس کے بعد جو گفتگو ہوئی وہ حسب ذیل تھی p. 247
مولانا سعید احمد آپ کون صاحب ہیں۔ p. 247
نووارد مجھ کو آپ نہیں جانتے، میں پنجاب کا رہنے والا ہوں۔ p. 248
مولانا سعید احمد جی ہاں، نہیں جانتا۔ اسی لیے تو پوچھ رہا ہوں۔ p. 248
نووارد میں اس زمانہ کا نبی ہوں، اور… p. 248
مولانا سعید احمد اگر تم نبی ہو تو میں تمہاا خدا ہوں تم کو حکم دیتا ہوں کہ تم فوراً یہاں سے نکل جاؤ۔ p. 248other source
اپنے موقع کے لحاظ سے یہ بلاشبہ بہترین جواب تھا۔ بعض مواقع پر علمی اور منطقی جواب زیادہ کار آمد ہوتا ہے۔ مگر بعض مواقع ایسے ہیں جہاں جواب کا وہ انداز زیادہ کار آمد ہے جس کی ایک مثال مذکورہ گفتگو میں نظر آتی ہے۔ p. 249
اسی کو عام زبان میں حاضر جوابی کہتے ہیں۔ حاضر جوابی ایک اعلیٰ انسانی صلاحیت ہے۔ تاہم استعمال کے اعتبار سے اس کی دو الگ الگ قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس خدا داد صلاحیت کو باطل کے توڑ کے لیے استعمال کیا جائے جس کی ایک مثال اوپر کا واقعہ ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی اس صلاحیت کو لوگوں کا مذاق اڑانے کے لیے استعمال کرے۔ اس کا پہلا استعمال بلاشبہ مطلوب ہے، اور اس کا دوسرا استعمال بلاشبہ غیر مطلوب ہے۔ p. 249