Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ایک گواہی p. 337
امریکہ کے سفر میں مجھے ایک امریکی خاتون کا حال معلوم ہوا جنہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اب وہ ایک پاکستانی مسلمان نصیر احمد مرزا سے نکاح کرکے اوٹا(Utah) میں رہتی ہیں۔ ان کا نام جے عائشہ مرزا(jeanine Aisha Mirza) ہے۔ ان کا ایک انٹرویو میں نے پڑھا۔ اس کا ایک حصہ یہ تھا کہ اکثر امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم بیویاں زیادتی کا شکار ہوتی ہیں۔ مگر ان کے نزدیک یہ خیال درست نہیں۔ یہ تو محض ایک تقسیم ہے۔ گھر کے باہر میرا شوہرباس ہے۔ لیکن گھر کے اندر میں باس ہوں p. 337original + quote
While most Americans are under the impression that Muslim wives are opressed. Mirza said, she hasn`t found that to be true. "It`s just a different division. Outside the home, my husband`s the boss. But in my house, I`m the boss." p. 337other source
اس طرح کے متعدد واقعات میرے علم میں آئے۔ امریکہ کی لڑکیاں سفید فام نسل کے لڑکوں سے شادی کرنے میں متردد رہتی ہیں۔ کیونکہ انہیں ہر وقت طلاق کا ڈر لگا رہتا ہے۔ اس بنا پر اکثر سنجیدہ لڑکیاں مسلمان لڑکوں سے شادی کرنا پسند کرتی ہیں۔ یہ لڑکے وہ ہیں جو تعلیم کے مقصد سے امریکہ آتے ہیں۔ اس طرح کی شادیاں اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بھی بن رہی ہیں۔ کیونکہ اخبار کے لوگ ان امریکی لڑکیوں سے سوالات کرتے ہیں۔ اور وہ نہایت عمدہ انداز میں اسلام کی طرف سے دفاع کرتی ہیں، جس کی ایک مثال اوپر نقل ہوئی۔ p. 338
مذکورہ امریکی خاتون نے اپنے تجربہ کی روشنی میں اسلام کے اصول کی نہایت درست ترجمانی کی ہے۔ اسلام میں عورت کے درجہ کو مرد کے مقابلہ میں گرایا نہیں گیا ہے۔ بلکہ برابری کے اصول پر دونوں کے درمیان تقسیم کار کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ اسلام نے زندگی کے معاملات کو دو بڑے حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ ایک بیرونی حصہ، دوسرا اندرونی حصہ۔ اسلام کے مطابق، بیرونی حصہ حیات کا انچارج مرد ہے اور اندرونی حصہ حیات کی انچارج عورت۔ p. 338
یہ تقسیم کار دونوں کے لیے نہایت موزوں ہے۔ اس طرح زندگی کے ایک شعبہ میں مرد اپنی پوری طاقت لگانے کے لیے آزاد ہو جاتا ہے۔ اسی طرح عورت زندگی کے دوسرے شعبہ میں آزاد ہے کہ وہ اپنی پوری توجہ کو استعمال کرتے ہوئے اس کو بخوبی طور پر منظم کرے۔ p. 338
یہ تقسیم ایک اعتبار سے آزادانہ حیثیت رکھتی ہے۔ اور دوسرے اعتبار سے اس کی حیثیت دندانہ دار پہیہ(cog wheel) جیسی ہے۔ دندانہ دار پہیہ میں ہر پہیہ کی اپنی الگ شخصیت ہوتی ہے۔ اس کے باوجود دونوں پوری طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک کا عمل دوسرے سے بندھا ہوا ہوتا ہے۔ ان کی درست کارکردگی کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ دونوں پوری طرح ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہوں۔ p. 338
عورت کو اپنے نقشہ حیات میں اسی احساس کے ساتھ رہنا ہے۔ اس کو یہ سمجھنا ہے کہ وہ داندانہ دار پہیہ کے دوبرابر کے پرزوں میں سے ایک پرزہ ہے۔ اس کے مل کر چلنے سے پورا پہیہ چلے گا، اور اس کے نہ چلنے سے پورا پہیہ رک جائے گا اور اسی کے ساتھ زندگی کا پورا نظام بھی۔ p. 339
تقسیم کار کے معاملہ کا تعلق صرف عورت اور مرد سے نہیں ہے۔ وہ ایک عام اصول ہے جس پر فطرت کا پورا نظام قائم ہے۔ p. 339
آپ ایک بزنس ہاؤس قائم کریں جہاں بہت سے لوگ کام کر رہے ہوں۔ آپ کو یہ کرنا ہوگا کہ کچھ لوگوں کو آفس میں بٹھائیں اور کچھ لوگوں کو فیلڈ میں متحرک کریں۔ یہ تقسیم ہر کاروبار کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ضروری ہے۔ کسی کاروبار یا کسی آرگنائزیشن کے کارکن اگر اس تقسیم عمل پر راضی نہ ہوں تو ایسے کاروبار یا آرگنائزیشن کا ناکام ہو جانا یقینی ہے۔ p. 339
یہی معاملہ کاروبار حیات کا ہے۔ زندگی کے لیے خدا نے یہ طریقہ بنایا ہے کہ عورت اور مرد دونوں مل کر اسے چلائیں۔ پھر ان دونوں کے لیے بنیادی دائرہ کار مقرر کر دیا ہے اور ہر ایک کے اندر مخصوص طور پر وہی صلاحیتیں رکھ دی ہیں جو اس کو اپنے دائرہ کے کام کو بخوبی طور پر انجام دینے کے لیے ضروری ہیں۔ p. 339
اب عقل اور شریعت دونوں کا تقاضا ہے کہ ہر جنس اپنے اپنے دائرہ عمل پر راضی رہ کر اپنے حصہ کا کام پوری توجہ کے ساتھ انجام دے۔ نہ مرد عورت بننے کی کوشش کرے اور نہ عورت مرد کی نقل کرے۔ جو عورت اور مرد خدا کے اس بندوبست پر راضی ہوں وہ خدا کی مدد سے دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی کامیاب۔ p. 340